سٹی42: ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان اور بھارت آج شام میچ کر رہے ہیں۔
انڈیا کے کیپٹن نے ٹاس جیت لیا ہے۔
ٹاس کے بعد انڈیا کے کیپٹن نے بتایا کہ وہ پاکستان کو پہلے بیٹنگ دے رہے ہیں۔
سٹی42: دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ایشیا کپ کا فائنل ہارنے کے بعد گرین شرٹس کے کیپٹن سلمان علی آغا نے تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم آخری اوورز میں اچھا نہیں کھیل سکی۔
سلمان علی آغا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ میچ کے آخری اوورز میں اچھا نہیں کھیل سکے۔
میچ کے بعد کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور ٹیم اچھا کھیلے اور انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
یاد رہے کہ دبئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل کھیلا گیا۔
ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں پاکستان کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کی اور ابتدا مین بہت اچھا کھیل دکھایا، آخری اوورز میں ٹیم رن ریٹ برقرار نہ رکھ سکی اور بیسوین اوور کی پہلی گیند پر تمام کھلاڑی آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد انڈیا کی بیٹنگ آئی تو ٹیم نے بہترین باؤلنگ اور فیلڈنگ پرفارمنس دی لیکن پندرہ اوورز کے بعد ٹیم گراؤنڈ مین اوس کے اثرات کی وجہ سے اچھی فیلڈنگ نہ کر سکی اور اپنی پرفارمنس برقرار نہ رکھ سکی اور جیت کی طرف جاتے جاتے حریف کو دوبارہ مقابلہ کی پوزیشن میں آنے کا موقع دے دیا۔
September 09, 2026
September 09, 2026
سٹی42: بھارتی کرکٹ ٹیم نے کرکٹ کے میدان کو پروپیگنڈا، نفرت اور تعصب پھیلانے کا میدان بنا ڈالا۔ ایشیا کپ کے باوقار ایونٹ کی ٹرافی دینے کی تقریب جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی دیئے بغیر ختم ہو گئی۔بی سی سی آئی نے اے سی سی کو باضابطہ طور پر ٹرافی نہ لینے کے بارے آگاہ کیا اور ٹرافی میدان سے واپس منگوا لی گئی ۔ ایشئین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی نے اختتامی تقریب میں رنر اپ ٹیم کے کیپٹن کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کیش ایواڈ دیا اور تقریب ختم کر دی گئی۔
ایشئین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کرکٹ دشمن رویہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ اب ایشیا کپ2025 کی ٹرافی بھارت نہیں جائے گی۔
چھ سے دس مئی کی جنگ میں بھارت کی جارحیت کے بعد خود بھارت کی ہی شرم ناک شکست سے بوکھلائے ہوئے بھارت کی کرکٹ ٹیم کرکٹ کا تماشا بنانے کے لئے بےشرمی کی آخری حد بھی پھلانگ گئی۔ بھارتی بورڈ کے ایما پر بھارتی کرکٹ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے زیراہتمام ایشیا کپ کی ٹرافی لینے سے انکار کردیا ہے۔ کرکٹ کی سینکڑوں سال کی ہسٹری میں ایسی شرم ناک حرکت کی کوئی مثال موجود نہیں۔
ایشیا کپ میں بھارت کی کرکٹ ٹیم کے کیپٹن اور کھلاڑیوں نے پہلے ایک میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، اس کے بعد دو مزید میچوں میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا، اب کرکٹ کا تماشا بناتے ہوئے بھارتی کرکٹ ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کے بعد ٹرافی لینے سے اس لئے انکار کر دیا ہے کہ انہیں ٹرافی دینے والے ایشئین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی پاکستانی ہیں۔
کرکٹ فینز اور کرکٹرز کی کمیونٹی بھارت کی اس حرکت پر سکتے اور صدمے کی کیفیت میں ہے، بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس حرکت کی وجہ سے بھارت کی کرکٹ ٹیم پر پابندی لگا دینا چاہئے۔
ذرائع کے مطابق آج پاکستان کے ساتھ ایشیا کپ کا فائنل کھل کر بھارت کی ٹیم جیت گئی تو پاکستان کے پلئیرز نے اس شکست کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا اور باوقار انداز سے میدان سے واپس گئے۔
میچ ختم ہونے کے بعد طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ایشیا کپ کی گرینڈ تقریب ہونا تھی جس میں آج فائنل میچ جیتنے والی ٹیم کے کیپٹن کو ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی س نے ٹرافی عطا کرنا تھی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایما پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے کیپٹن اور کھلاڑیوں نے ٹرافی لینے سے انکار کردیا ہے۔
ذرائع بتا رہے ہیں کہ کرکٹ کی اس کھلی توہین کو ایشیائی کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی نے سنجیدگی سے لیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ ایشیا کپ کی ٹرافی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تقریب میں ہی دی جائے گی ورنہ نہیں دی جائے گی۔
بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں فائنل تقریب تاخیرکا شکار رہی، آخر کار یہ تقریب ٹرافی دیئے بغیر مکمل کی گئی۔
ٹرافی اب کسی کو نہیں ملے گی
اب صورتحال یہ ہے کہ ایشیا کپ ایونٹ تو ختم ہو گیا ہے لیکن ٹرافی کسی کو نہیں ملی۔
ایشئین کرکٹ کونسل کی انتظامیہ ٹرافی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھارتی ٹیم کو ٹرافی ملنے کا امکان نہیں ہے، ایشیا کپ کی انتظامیہ ٹرافی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔
بھارتی کرکٹ ٹیم کے پاکستانی مہمانِ خصوصی ایشئین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کو نہ تو میڈلز ملے اور نہ ہی چیمپئن کا بورڈ دیا گیا۔
اپنی تعصب بھری حرکت کے بعد بھارتی ٹیم نے ٹرافی اور چیمپئن کے بورڈ کے بغیر تصاویر بنوائیں۔
بھارتی میڈیا کی تعصب بھری رپورٹیں
بعد میں سامنے آنے والی بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی ٹیم تو اب تک گراؤنڈ میں موجود ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹرافی لے کر جائیں گے جب کہ اسٹیڈیم کی لائٹس بھی بجھادی گئی ہیں۔
حقیقت وہ ہے جو دنیا بھر میں ایشئین کرکٹ کونسل کی ایشیا کپ2025 کی ترافی دینے کی تقریب کی براہ راست نشر کی جا رہی فوٹیج میں دنیا کے کروڑوں لوگوں نے دیکھی۔ ایشئین کرکٹ کونسل کے صدر اور دوسرے معزز مہمان سٹیج پر کھڑے اندین کیپٹن کے ٹرافی لینے کے لئے آنے کا انتظار کرتے رہے ہیں وہ نہیں آیا۔
ساتھی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کے بعد بھارتی بورڈ کے ایما پر بھارتی ٹیم کی آج شب کی ہٹ دھرمی کا ایشئین کرکٹ کونسل نے زیادہ سختی سے نوٹس لیا ہے۔ بھارتی ٹیم کے کیپٹن نے ٹرافی لینے سے صرف اس لئے انکار کیا کہ صدر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) محسن نقوی پاکستانی ہیں۔
صدر اے سی سی بھی ڈٹ گئے
بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا تو صدر اے سی سی محسن نقوی بھی اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ٹرافی دی ہی نہیں جائے گی۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ ایشئین کرکٹ کونسل اس سنگین وائلیشن پر تادیبی کارروائی کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔
بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں فائنل تقریب تاخیرکا شکار ہوئی۔
ایشیا کپ کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم نے سپورٹس مین سپرٹ اور کرکٹ کی روایات کی کئی مرتبہ سنگین کی خلاف ورزیاں کیں۔ بھارتی کھلاڑیوں نے صرف یہ ہی نہیں کیا کہ تین میچوں مین حریف ٹیم کے کھلاڑیوںسے مصافحہ نہیں کیا، بلکہ بھارتی ٹیم کے کیپٹن نے ایک میچ کے دوران کرکٹ کے میچ میں اپنی جیت کو دہشتگردی سےتشبیہہ دی۔ آج فائنل میچ سے پہلے دونوں فانلسٹ ٹیموں کے کپتانوں کو ٹرافی کے ساتھ تصویر بنوانا تھی، یہ تقریب بھی بھارتی ٹیم کی کرکٹ کی تذلیل کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی کی نذر ہو گئی۔ اس سے پہلے بھارتی ٹیم کے کیپٹن نے پاکستانی ٹیم کے کیپٹن کے ساتھ روایتی پریسر میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
کرکٹ فینز نے بھارتی ٹیم کی ان تمام حرکتوں کی سوشل پلیت فارمز پر مذمت کی لیکن آج ٹرافی لینے سے انکار کر کے تو بھارتی ٹیم نے تعصب اور کرکٹ کو سیاست کا اکھاڑہ بنانے کے مذموم سلسلہ کی تمام حدیں پار کر دیں۔
سٹی42: ایشیا کپ کے دبئی سٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں پاکستان کو روایتی حریف سے 5 وکٹوں سے شکست ہو گئی۔
پاکستان کے صاحبزادہ فرحان نے 38 گیندوں سے 57 رنز کی اننگز کھیلی لیکن ان کے کیچ آؤٹ ہونے کے بعد فخر زمان کے سوا پاکستان کے دوسرے بیٹر بڑا سکور نہ کر سکے۔ پاکستان نے 19.1 اوورز میں تمام وکٹیں گر جانے کے سبب اننگ تمام کی تو پاکستان کا سکور 146 رنز تھا۔
بھارت کی ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں یہ ہدف عبور کر کے میچ جیت لیا۔
بھارت نے نویں مرتبہ ایشیا کپ جیتا ہے تاہم ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت فائنل میں آج آمنے سامنے آئے۔
بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان کی بیٹنگ
پاکستان کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی صاحبزادہ فرحان تھے جنہوں نے 38 گیندوں سے 57 رنز کی اننگز کھیلی اور 84 کے مجموعی اسکور پر ورون کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
ان کے بعد آنے والے صائم ایوب 113 کے مجموعی اسکور پر 14 رنز بنا کر کلدیپ کا شکار بنے۔
دوسری وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی بیٹرز کی لائن لگ گئی اور باقی 8 کھلاڑی صرف 33 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔
صائم ایوب کے بعد محمد حارث بھی بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے۔ 126 کے اسکور پر فخر زمان بھی ورون کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے، انہوں نے 35 گیندوں پر 46 رنز بنائے۔ 131 کے اسکور پر حسین طلعت بھی آؤٹ ہوگئے، وہ صرف ایک رنز بناسکے۔
ان کے بعد سلمان آغا بھی 8 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، ان کے بعد شاہین آفریدی اور فہیم اشرف بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔حارث رؤف اور محمد نواز نے 6،6 رنز بنائے۔

بھارت کی باؤلنگ
بھارت کی جانب سے کلدیپ یادیو نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ بمراہ، ورون اور اکثر پٹیل نے 2،2 وکٹیں لیں۔

بھارت کی بیٹنگ
بھارت کی پہلی وکٹ دوسرے اوور میں گری جب ابھیشک شرما فہیم اشرف کی گیند پر 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بھارت کی دوسری وکٹ 10 کے اسکور پر گری جب بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو ایک رنز بنا کر شاہین کا شکار بنے۔
20 کے مجموعی اسکور پر شبمن گل بھی 12 رنز بنا کر فہیم اشرف کا شکار بن گئے۔77 کے مجموعی اسکور پر سنجو سیمسن 24 رنز بنا کر ابرار کا شکار بنے۔
بھارت کی پانچویں وکٹ 137 رنز پر گری جب شیوام دوبے 33 رنز بنا کر فہیم کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
تلک ورما نے ذمہ دارانہ اننگ کھیلی اور 69 رنز بنا کر بھارت کو جتانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

پاکستان کی باؤلنگ
فہیم اشرف نے 3 وکٹیں لیں، شاہین اور ابرار نے ایک ایک وکٹ لی۔ حارث رؤف کو آج ساڑھے تین اوورز میں سب سے زیادہ 46 رنز پڑے۔
فائنل کے لیے پاکستان ٹیم کے اسکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ ٹیم میں سلمان علی آغا، صائم ایوب، فخر زمان، صاحبزادہ فرحان، حسین طلعت، محمد حارث، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، حارث رؤف اور ابرار احمد شامل تھے۔
بھارتی ٹیم کے آل راؤنڈر ہردک پانڈیا انجری کے باعث فائنل سے باہر ہوگئے، ان کی جگہ رنکو سنگھ کو شامل کیا گیا۔ آج وننگ سٹروک اسی کھلاڑی نے لگایا۔

September 09, 2026
سٹی42: ایشیا کپ کے فائنل میں تیرھویں اوور میں پاکستان کے سپنر ابرار احمد نے چوتھی وکٹ لے کر پاکستان کو جیت سے ایک قدم اور قریب کر دیا۔
اب 15 اوور ختم ہوئے ہیں تو بھارت کا مجموعہ 100 رنز ہے۔ انڈیا کے 4 بیٹر آؤٹ ہوئے ہیں۔
انڈیا کو درکار رن ریٹ اب 9.40 ہے۔
September 09, 2026
September 09, 2026
سٹی42: دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں پاکستان اور روایتی حریف بھارت کی ٹیمیں آج ایشیا کپ کے فائنل میں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔
پاکستان کے 146 رنز بنا کر 19.1 اوورز مین آؤٹ ہو جانے کے بعد بھارت کی بھی دو وکٹیں تین اوورز میں گر گئیں۔ تیسری وکٹ چوتھے اوور میں گر گئی۔
بھارت کی ٹیم پہلے تین اوورز میں 12 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ پاکستان کا تین اوورز میں سکور زیادہ تھا اور وکٹ بھی کوئی نہیں گری تھی۔
ابھیشیک شرما 5 رنز اور بے سبب مغرور کیپٹن سوریا یادو صرف 1 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شبمن گل 12 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اب سنجو سمسن اور تلک ورما 1 رن بنا کر وکٹ پر ہیں۔
تین وکٹوں میں سے شاہین کو ایک وکٹ ملی اور فہیم کے حصے میں دو وکٹیں آئی ہیں۔
سٹی42: دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں پاکستان اور روایتی حریف بھارت آج ایشیا کپ کا فائنل کھیل رہے ہیں۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 146 رنز بنائے۔
آخری بیٹر محمد نواز 20 ویں اوور کی پہلی بال پر اونچا شاٹ کھیل کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
بھارت کو 147 رنز کا ہدف ملا ہے۔
پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانےوالے بیٹر اوپنر صاحبزادہ فرحان رہے جنہوں نے 57 رنز بنائے اور اونچا شاٹ کھیل کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 5 چوکے اور 3 چھکے مارے۔
فخر زمان 46 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ وہ بھی اونچا شاٹ کھیل کر کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 2 چوکے اور 2 چھکے لگائے۔
صائم ایوب نے 14 رنز بنائے۔ ان کے مجموعے میں 2 چوکے شامل تھے۔ فرحان، فخر اور صائم کے بعد صرف ایک چوکا حارث رؤف نے مارا۔
آج کے کروشیل میچ میں حارث، شاہین اور فہیم تینوں کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔
آٹھ بیٹر کیچ آؤٹ
آج کے میچ میں پاکستان کے آٹھ بیٹر باؤنڈری کھیلنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوئے۔ صرف ایک بیٹر کلین بولڈ ہوئےاور ایک کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا۔
پاکستان کی بیٹنگ

انڈیا کی بیٹنگ
انڈیا کے ورون چکرورتی، جسپریت بومرہ اور اکسر پٹیل نے دو دو وکٹیں لیں۔ کلدیپ یادو 4 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔

September 09, 2026
September 09, 2026
سٹی42: ایشیا کپ کے فائنل میں گرین شرٹس کی چھ وکٹیں گرنے کے بعد فینز نے شاہین آفریدی اور محمد نواز سے آس باندھ لی لیکن شاہین بھی کوئی چھکا دکھائے بغیر آؤٹ ہو گئے۔
18 اوورز کے خاتمے پر پاکستان کا سکور 143 رنز ہے۔ پاکستان کی9وکٹیں گری ہیں۔
شاہین آفریدی کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔ محمد نواز 4 رنز کے ساتھ وکٹ پر ہیں۔ اب فہیم اشرف کھیلنے کے لئے آئے , فہیم بھی کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد حارث رؤف بیٹنگ کیلئے آئے لیکن انہیں ایک چوکا مارنے کے بعد بھارتی باؤلر کی مزید مرمت کرنے کی مہلت نہیں ملی۔ حارث کیچ آؤٹ ہوئے۔
سٹی42: دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں آج شام ایشیا کپ کا فائنل میچ کھیل رہی ہیں۔ گرین شرٹس کے اوپنر صاحبزادہ فرحان نے دھواں دھار بیٹنگ کر کے ففٹی بنائی۔ لیکن اس ہی اوور میں وہ اونچا شاٹ کھیل کر آؤٹ بھی ہو گئے۔ جانے سے پہلے صاحبزادہ پاکستان کا مجموعہ 84 تک پہنچا گئے۔
ایشیا کپ میں یہ پہلا میچ ہے جب پاکستانی اوپنرز نے وکٹ گرائے بگیر 84 کے ہندسے کو ٹچ کیا۔
صاحبزادہ نے 57 رنز بنائے ہیں جن میں تین چھکے اور پانچ چوکے شامل ہیں۔ صاحبزادہ نے یہ رنز 38 گیندوں سے بنائے۔
کیپٹن سلمان آغا نے اب صائم ایوب کو اپنی مہارتین دکھانے کیلئے بھیجا ہے۔
فخر زمان 20 گیندوں سے 23 رنز بنا کر وکٹ پر ہیں۔ گرین شرٹس کا رن ریٹ اس وقت 8.64 ہے۔
September 09, 2026
September 09, 2026
سٹی42: دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ایشیا کپ کے فائنل میں گرین شرٹس نے پاور پلے میں حیران کر دینے والا رزلٹ دیا ہے۔
گرین شرٹس نے چھ اوورز مکمل ہونے پر 45 رنز بنا لئے ہیں۔ اور کوئی وکٹ ضائع نہیں کی۔ آج کے میچ میں پاکستانی اوپنرز کا وکٹ پر موجود رہنا سب سے بڑی کامیابی ہے۔
گرین شرٹس آج میچ میں بھارتی کیپٹن کی فرمائش پر پہلے بیٹنگ کر رہے ہیں۔
صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان اوپننگ کے لئے آئے اور پہلے دو اوورز میں وکٹ محفوظ رکھنے کے ساتھ آگے بڑھنے کے بعد اب دونوں مل کر حریف کی پٹائی کر رہے ہیں۔
6 اوورز کے اختتام پر پاکستان کا مجموعہ45 رنز ہے اور صاحبزادہ فرحان کے31 رنز بن چکے ہیں۔ صاحبزادہ نے ایک چھکا اور4 چوکے مارے ہیں۔
فخر زمان عملاً صاحبزادہ کو اسِسٹ کر رہے ہیں۔ فخر کا سکور12 رنز ہے اور انہوں نے اب تک ایک چوکا مارا ہے۔
سٹی42: دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ایشیا کپ کے فائنل میں گرین شرٹس نے کمال اعتماد کے ساتھ جیت کی طرف پہلا قدم بڑھا دیا ہے۔
گرین شرٹس آج میچ میں بھارتی کیپٹن کی فرمائش پر پہلے بیٹنگ کر رہے ہیں۔
صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان اوپننگ کے لئے آئے ہیں اور پہلے دو اوورز میں وکٹ محفوظ رکھنے کے ساتھ آگے بڑھنے کے بعد اب دونوں مل کر حریف کی پٹائی کر رہے ہیں۔
چار اوورز کے اختتام پر پاکستان کا مجموعہ 31رنز ہے اور صاحبزادہ فرحان کے24 رنز بن چکے ہیں۔ صاحبزادہ نے ایک چھکا اور تین چوکے مارے ہیں۔
فخر زمان عملاً صاحبزادہ کو اسِسٹ کر رہے ہیں۔ فخر کا سکور 7 رنز ہے اور انہوں نے اب تک ایک چوکا مارا ہے۔
September 09, 2026
September 09, 2026
ایشیا کپ 2025 کے فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کو شدید دھچکا پہنچا ہے اہم ترین پلئیر آج شام دبئی سٹیڈیم مین ہو رہا فائنل میچ کھیلنے کے قابل نہیں رہا۔
بھارتی میڈیا ک کی رپورٹس مین بتایا جا رہا ہے کہ مطابق بھارتی ٹیم کے آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا فائنل سے باہر ہوگئے ہیں،بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پلیئنگ الیون میں ممکنہ طور پر رنکو سنگھ کو شامل کیا جاسکتا ہے۔
آل راونڈر ہاردک پانڈیا نے سری لنکا کے خلاف میچ میں صرف ایک اوور کرایا تھا اور وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو کر گراؤنڈ سے باہر چلے گئے تھے۔
سٹی42: وطن کی محبت کے گیت گانے کے لئے فیمس سٹار سنگر جواد احمد کے دو پرانے سونگ آج ایک بار پھر وائرل ہو رہے ہیں۔ یو ٹیب میں جواد احمد کے دو سونگ آج بہت زیادہ سرچ کئے جا رہے ہیں۔
جواد احمد نے ایک سونگ " رکھو جیت کی لگن تم" گایا تھا اور ایک سونگ "تم جیتیو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے" گایا تھا۔ ان دونوں گیتوں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی بک اپ کیا گیا ہے۔
آج پاکستان اور روایتی حریف بھارت کے دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں ہو رہے ایشیا کپ ٹی ٹونٹی فائنل سے پہلے جواد احمد کے دونوں گانے بہت سنے جا رہے ہیں اور انہین سوشل ویب سائٹس پر شئیر کیا جا رہا ہے۔
September 09, 2026
September 09, 2026
سٹی42: آج شام پاکستان کا انڈیا کے ساتھ ایشیا کپ کا فائنل میچ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے تک موسم کا حال یہ ہے کہ ٹمپریچر پہلے کے اندازوں سے کچھ زیادہ ہے۔ ٹمپریچر زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ رات کو ڈِیو کم بنتی ہے۔
سٹی42 نے کل ہی اپنی فورکاسٹ رپورٹ میں بتایا تھا کہ دبئی میں آج اتوار کی شام ٹمپریچر 32 ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہو گا اور دن بھر دھوپ پڑے گی۔
آج ڈیو نہیں پڑے گی، یا پھر بہت ہی کم۔۔۔
آج شام میچ سے ایک گھنٹہ پہلے دبئی میں موسم کے متعلق مختلف رپورٹس ہیں، لیکن دبئی کے کچھ موسمی ذرائع موجودہ موسمی حالات میں تقریباً 26°F (یا 1°C) کے اوس پوائنٹ کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے ایک خشک اوس نقطہ سمجھا جاتا ہے اور تجویز کرتا ہے کہ وہاں بہت کم اوس پڑے گی، جبکہ دوسروں نے آج رات کی پیشین گوئی کے لیے اوس کا نقطہ فراہم نہیں کیا ہے۔ 26°F کا اوس کا نقطہ بہت کم ہے، یعنی ہوا کو سیر ہونے اور اوس بننے کے لیے نمایاں طور پر ٹھنڈا ہونے کی ضرورت ہے، جس سے آج رات خاصی اوس بننے کا امکان نہیں ہے۔
موجودہ اور آج رات کی پیشن گوئی
درجہ حرارت اور نمی: دبئی میں موجودہ درجہ حرارت 37°C ہے اور ہوا میں نمی 52% ہے۔ ٹمپریچر ایک گھنٹے بعد کچھ گرے گا اور نمی کچھ بڑھے گی۔
اوس بننے کا پوائنٹ/ ڈِیو پوائنٹ
اوس بننے کا پوائنٹ 26°C ہے، یہ ایک بہت کم ویلیو ہے جو بہت خشک حالات کی نشاندہی کرتی ہے۔ آج رات علی الصبح تک دبئی میں ٹمپریچر 26 ڈگری سیلسئیس تک گرنے کا امکان بہت ہی کم ہے۔
آج رات کی پیشن گوئی
رات کا درجہ حرارت تقریباً 34°5% (یا 5% نمی کے ساتھ 34°C) رہنے کی توقع ہے، اور دیگر ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ بنیادی طور پر صاف اور بہت گرم ہوگا۔

اوس کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
کم اوس پوائنٹ، جیسے 26 °، کا مطلب ہے کہ ہوا میں زیادہ نمی نہیں ہے۔
لہذا، یہاں تک کہ اگر درجہ حرارت گر جاتا ہے، ہوا کو سنترپتی نقطہ (اوس نقطہ) تک پہنچنے سے پہلے بہت زیادہ ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہوگی جہاں اوس بن سکتی ہے۔
ان خشک حالات کی وجہ سے، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ دبئی میں آج رات خاصی اوس کی تشکیل ہوگی۔
سٹی42: دبئی میں کل ہونے والے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات کا ایک معقول اندازہ یہ ہے کہ پاکستان کے چالیس فیصد اور بھارت کے ساٹھ فیصد یہ میچ جیتنے کے امکانات ہیں۔ لیکن یہ اندازہ ٹاس ہونے سے پہلے کا ہے۔ ٹاس ہونے کے بعد اس اندازے کو دوبارہ دیکھنا لازم ہو گا۔ اس اندازے کی بنیاد دونوں ٹیموں کے باؤلرز، بیٹرز کی پرفارمنس اور صلاحیتوں کا تجزیہ ہے، اس کے ساتھ پچ کے حالات کل شام کیا ہونے کا امکان ہے اور موسم / اوس / نمی کیسے دونوں ٹیموں پر اثر انداز ہوں گے، اسے الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کے جیتنے کے امکانات - کیا ان کے حق میں / کیا مخالفت میں ہے
کسی بڑے فائنل سے پہلے نتیجہ کی پیش گوئی کرنا ہمیشہ قیاس آرائی پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ٹی ٹوینٹی کرکٹ میں تو یہ زیادہ دشور ہو جاتا ہے لیکن ہم کھیلنے والے بائیس کھلاڑیوں کی طاقت، کمزوریوں اور میچ کے حالات کو دیکھ کر اندازہ بہرحال کر سکتے ہیں:
پاکستان کو فائدہ پہنچانے والے عوامل
رفتار اور عزم
پاکستان اکثر اس وقت کارکردگی دکھاتا ہے جب سٹیکس ہائی ہوں۔ گرین شرٹس جب خود میں جذبہ (جنون) کی شدت لاتے ہیں تو وہ کسی بھی ٹیم کو پریشانی میں ڈال سکتے ہیں۔ انڈیا سے دو میچ ہارنے اور ہینڈ شیک کے تنازعہ، سٹیڈیم میں بعض میچ دیکھنے والوں کی ہوٹنگ اور پاکستانی فینز کے تقاضوں نے گرین شرٹس میں جنون تو بہرحال بھر دیا ہے، یہ کل شام کیسے کام کرے گا، ہم توقع کر سکتے ہیں کہ یہ پرفارمنس کوبوسٹ کرے گا۔
بولنگ اٹیک
پاکستان کے کل کھیلنے والے گیارہ کے کمبینیشن مین زیادہ طاقت بیٹرز مین ہے یا باؤلرز میں؛ ہمارا جواب باؤلرز زیادہ طاقتور ہیں اور وہی جیت تک لے جانے کے زیادہ ذمہ دار بھی ہوں گے۔ اس جواب میں وکٹ کی مخصوص صورتحال کا بھی عمل دخل ہے اور انڈین سائیڈ کی بیٹنگ لائن کی کیپیبلیٹی کا بھی۔ گرین شرٹس کی رفتار اور سپن کا امتزاج ایسی سطح کا فائدہ اٹھا سکتا ہے جو باؤلرز کی مدد کرتا ہے (خاص طور پر ابتدائی اوورز میں)۔
اگر پیس باؤلرز مضبوطی سے بولنگ کرتے ہیں تو وہ بھارت کو دباؤ میں ڈال سکتے ہیں۔ گزشتہ میچوں کا حال کچھ بھی رہا ہو، بنگلہ دیش کے ساتھ سپر فور راؤنڈ کے آخری میچ میں شاہین اور حارث ایک سے برھ کر ایک گیندیں ڈال رہے تھے، کنٹرول گزشتہ میچوں سے بہت بہتر تھا اور بال ٹو بال سٹریٹیجی بھی رنز روکنے، وکٹیں گرانے دونوں اہداف کی طرف جانے کیلئے بہتر تھی۔ کل یہ دونوں کیا کریں گے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ "گھس کر ماریں گے" اور "چھ صفر والی ہسٹری دہرائیں گے"۔
سپنرز ابرار، نواز اور صائم کے لئے پرفارمنس کے امکانات وکٹ کی کنڈیشن، ڈیو کی شرح اور بال ملنے کے وقت پر زیادہ منحصر ہے۔ اگر پہلے بیٹنگ بھارت کو کرنا پڑی تو پاکستانی پیسر اور سپنر - دونوں زیادہ بہتر پرفارم کرنے کے لئے وکت سے مدد ملنے کی امید رکھ سکتے ہیں۔
بھارت پر دباؤ
بھارت بظاہر تو فیورٹ ہے، لیکن کل ایشیا کپ کا فاینل جیتنے کے لئے گرین شرٹس مین جتنا زیادہ جوش ہے، بھارتی ٹیم میں اتنا ہی دباؤ ہے اور انہیں میدان سے زیادہ گھر واپسی پر ملنےوالے رویوں کی فکر ہے۔ یہ خوف اضافی دباؤ لائے گا اور دباؤ بہرحال کام دکھائے گا۔ پاکستان اس دباؤ سے فائدہ اتھا کر خاص طور سے بیترز سے غلطیاں کروانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اوس کا ہیزرڈ ایڈوانٹیج کیسے بنے / ٹارگڑ چیز کرنے کا فائدہ
اگر کل شام کے بعد اوس کا فیکٹر اہم ہو جاتا ہے، تو یہ سائیڈ بعد میں بیٹنگ کرنے والے فریق کے حق میں ہو سکتا ہے (لائٹس کے نیچے ٹارگٹ کو چیز کرنا کل کچھ آسان ہو سکتا ہے)۔ اس سے پاکستان کو برتری مل سکتی ہے اگر سلمان آغا ٹاس جیت کر ہدف کا تعاقب کریں گے تو باؤلرز اور بیٹرز کو ایڈوانٹیج مل جائیں گے۔
پاکستان کے خلاف کام کرنے والے عوامل
بھارت کا غلبہ اور گہرائی
بھارت مضبوط بیٹنگ کی طاقت اور متوازن باؤلنگ اٹیک کے ساتھ مستقل مزاجی کے ساتھ میچ جیتتا آ رہا ہے۔ کل اتوار کی شام میچ کے لئے بھی وہ ہی زیادہ تر تجزیوں میں پسندیدہ ٹیم ہیں۔ مثال کے طور پر، رائٹرز کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنا ٹائٹل برقرار رکھنے کے لیے مضبوط فیورٹ دکھائی دیتا ہے۔ خود پاکستان کے اندر بہت سے (واقعتا بہت سے) لوگ یہ قرار دیتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان کے فائنل جیتنے کا امکان تو دس فیصد بھی نہیں۔ ان بیشتر ولگوں کی یہ رائے کھیل کے متعلق نالج کی بنیاد پر نہیں بلکہ بھارتی تیم کی بنائی ہوئی پرسیپشن کی بنیاد پر ہے۔
ہیڈ ٹو ہیڈ برتری اور نسفیاتی بالادستی
گزشتہ دو میچ اور اس سے پہلے بہت سے میچ- پاکستان اور بھارت کے میچوں میں بھارت کی جیت کی شرح پاکستان سے ڈھائی گنا زیادہ رہی ہے۔
بھارت کی ٹیم نفسیاتی بالادستی کے ساتھ کل شام کو میدان میں آ سکتی ہے، خاص طور پر بڑے میچوں میں بھارت کی گزشتہ کچھ عرصہ کی پرفارمنس ان کو نفسیاتی برتری عطا کر سکتی ہے۔
پچ اور ویدر کنڈیشن
کل اتوار کی شام سے رات بھیگنے کے دوران پچ کس طرح برتاؤ کرتی ہے، یہ اس پر منحصر ہے؛ اگر وکٹ، جیسا کہ اب تک بیشتر وقت رہی ہے- کل شام بھی سست رہتی ہے تو بیٹنگ (خاص طور پر ابتدائی) آسان نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے کیس مین یہ مشکل کچھ برھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان کی اوپننگ جوڑی بھارت کی اوپننگ جوڑی کے مقابلہ میں کافی کم سٹیبل رہی ہے۔ اگر پچ سست رہتی ہے یا بعد میں ٹرن آفر کرتی ہے، جب تک کہ پاکستان اچھی طرح سے مطابقت نہیں بناتا، پاکستان کو اضافی جدوجہد کرنا پڑ سکتی ہے۔
دباؤ کے تحت پھانسی
کل ہونے والے فائنل میں، غلطی کا مارجن کم ہے۔ اگر پاکستان کچھ غلطیاں کرتا ہے (کیچ ڈراپ، ڈھیلی ڈیلیوری، بیٹرز کی جلد بازی، رن ریٹ کا دباؤ لے کر غیر محتاظ سٹروکس) تو بھارت ان کو سزا دے سکتا ہے۔ یہ بات آج ہفتہ کے روز کیپٹن سلمان آغا نے خاص طور سے مینشن کی کہ گزشتہ دو میچوں میں بھارت سے کھیلتے ہوئے جو غلطیاں ہوئیں وہ کل نہیں ہونا چاہئیں۔ گزشتہ میچوں کی طرح کل بھی غلطی کی سزا خوفناک ہو گی۔
کس کیلئے جیتنا زیادہ آسان
یہ فرض کرتے ہوئے کہ حالات "نارمل" رہیں گے؛ تمام متغیرات کو دیکھتے ہوئے، میں ہندوستان کے جیتنے کا امکان ~60-70% کے درمیان دیکھ رہا ہوں اور پاکستان کو جیتنے کا امکان 30-40% تک ہو سکتا ہے۔
ٹاس پاکستان کی جیت کے امکان کو 20 فیصد تک بڑھا سکتاہے
یہ مجرد اندازہ ٹاس سے پہلے کا ہے اور اوس کی حقیقی صورتحال سامنے آنے سے پہلے کا ہے۔ اگر ٹاس پاکستان جیتتا ہے تو صرف وکٹ کی ابتدا میں کنڈیشن اور اوس کی بعد میں کنڈیشن کے فیکٹرز کو اپنے حق میں استعمال کر کے پاکستان اپنے جیتنے کے امکانات کو دس سے بیس فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
دبئی میں پچ/وکٹ کی حالت
حالیہ رپورٹس اور پچ تجزیہ کی بنیاد پر:
پاکستان انڈیا فائنل میچ کے لیے دبئی کی پچ تازہ (نئی سطح) ہونے کی امید ہے اور ممکنہ طور پر تیز باؤلرز کو کچھ مدد ضرور فراہم رکے گی۔ زیادہ فائدہ بومرہ کے حصے میں آتا ہے یا شاہین اور حارث کے حصے میں اس کا دارومدار سلمان آغا کی ٹاس جیتنے کی سکِل پر ہے۔
وکٹ نئی ہونے کی سورت میں ہم توقع کر رہے ہیں کہ جیسے جیسے اننگز آگے بڑھے گی، بیٹنگ کے حالات میں بہتری کی توقع کی جاتی ہے (پچ "بس جائے گی")۔
اس سے پہلے کے میچوں میں، دبئی کی پچز کو بعض اوقات بلے بازوں کے لیے کچھ سست اور چیلنجنگ قرار دیا گیا تھا - سپن کو بھی کرشن مل سکتا ہے۔
ڈِیو فیکٹر
کہا جاتا ہے کہ آؤٹ فیلڈ تیز ہے، اس لیے اچھے وقت سے فرق پڑے گا، لیکن رقبہ کے سائز کے لحاظ سے گراؤنڈ کی حدود کو ڈیو سے صاف کرنا اب بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
دبئی کے حالیہ میچوں میں اوس بہت بڑا عنصر نہیں رہا ہے، لیکن کپتان اب بھی اس پر نظر رکھیں گے - اگر دوسرے ہاف میں بھاری اوس آتی ہے، تو اس سے فلڈ لائٹس کے نیچے بیٹنگ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔
مختصراً میرا خیال ہے کہ کل شام ہم کیوریٹرز سے ایک ایسی پچ کی توقع کریں جو بلے اور گیند کے درمیان ایک منصفانہ مقابلہ دے؛ جس میں باؤلرز کو ابتدائی فائدہ ہو، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، بیٹرز کو بھی کچھ آسانی دستیاب ہونا چاہیے۔
دبئی میں کل شام موسم کی پیشن گوئی، اوس اور نمی کتنی ہو سکتی ہے
دبئی کی میٹ ایجنسی بتا رہی ہے کہ کل دن بھر دبئی میں دھوپ رہے گی۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے کل شام کی پیشین گوئی یہ ہے کہ آسمان صاف رہے گا/ دھوپ والے حالات رہیں گے، بارش کی توقع نہیں ہو گی۔ رات کو ڈ،یو بھی کم بنے گی۔
دبئی میں کل اتوار کی شام کا درجہ حرارت: تقریباً 32 °C ہو سکتا ہے۔
نمی کتنی ہو گی
کل اتوار کی شام دن بھر دھوپ رہنے کے بعد شام میں ہوا میں نمی تقریباً 63% ہو گی۔
حالیہ میچوں میں بھی ایشیا کپ کے میچوں کے دوران دبئی میں رات کے وقت نمی 61-62٪ کی حد میں رہنے کی فورکاسٹ ہوتی رہیں۔ اتوار کی شام اور رات کو دبئی میں بارش کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
نمی اور ٹھنڈک کی وجہ سے شام کے بعد شبنم بڑھ سکتی ہے، لیکن غالب کی بجائے کل شام ڈیو/ اوس کی مقدار بہت زیادہ بہرحال نہیں ہو گی۔
اس طرح، کل شام موسم کے حالات نسبتاً گرم ہوں گے معتدل نمی، صاف آسمان، اور رات کے بڑھنے کے ساتھ ہی اوس کے کچھ امکانات لیکن زیادہ اوس سرِ دست گرتی دکھائی نہیں دیتی۔ ۔
September 09, 2026
29 Sep, 2025
29 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
28 Sep, 2025
27 Sep, 2025