ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بوشہر نیوکلئیر پلانٹ تباہ ہوا تو چرنوبل جیسا ڈیزاسٹر آئے گا،  روس نے اسرائیل کو روک دیا

Iran's Bushehr nuclear plant,,Chernobyl-style catastrophe, Iran Israel war, Nuclear asets of Iran, Israeli air strikes, Putin on Iran
کیپشن: مقامی میڈیا کے مطابق، ایران کے پہلے نیوکلئیر بجلی گھر بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ نے ستمبر 2011 میں قومی گرڈ میں بجلی شامل کرنا شروع کر دی تھی، یہ کام  برسوں کی تاخیر کے بعد 2010 مین تقریباً مکمل ہو گیا تھا۔  بوشہر پلانٹ کا ایران کے نیشنل گرڈ سے رابطہ اصل میں 2010 کے آخر میں مکمل کر لیا گیا تھا۔

سٹی42:  روس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر حملہ 'چرنوبل جیسی تباہی' کا سبب بن سکتا ہے۔
بوشہر نیوکلئیر پلانٹ تباہ ہوا تو چرنوبل جیسا ڈیزاسٹر آئے گا،  روس نے اسرائیل کو روک دیا اور صدر پوتن نے خود صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل نے روس سے وعدہ کیا ہے کہ ماسکو کے کارکن - جو بوشہر کے مقام پر مزید جوہری تنصیبات تعمیر کر رہے ہیں - محفوظ رہیں گے۔ اب یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل طاقت کے ذریعے ایران کی جوہری صلاحیت کو کم کرنے کی کوشش کرتا رہے گا لیکن اب بوشہر کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

Caption سیٹلائٹ کی اس  تصویر میں ایران میں بوشہر کے مقام پر نئے ری ایکٹرز زیر تعمیر ہیں۔ یہ سیٹلائٹ  امیج جنوری  2025 میں سامنے آیا تھا۔

اسرائیل کو بوشہر نیوکلئیر پلانٹ پر بمباری سے روکنے کا پس منظر
بوشہر ایران کا واحد  نیوکلئیر  پلانٹ ہے۔
روس نے اس پلانٹ کو بنایا اور مزید ری ایکٹر  بھی بنا رہا ہے۔
سینکڑوں روسی کارکن بوشہر کی نیوکلئیر تنصیبات میں موجود ہیں۔
ماسکو نے اسرائیل سے بوشہر نیوکلئیر  پلانٹ پر حملہ نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
برٹش نیوز ایجنسی نے بتایا روس کے جوہری توانائی کارپوریشن کے سربراہ نے جمعرات کو خبردار کیا کہ ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر اسرائیلی حملہ "چرنوبل طرز کی تباہی" کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے اس سے پہلے تصدیق کی کہ اسرائیل نے بوشہر نیوکلئیر  سائٹ پر بھی حملہ کیا تھا، لیکن بعد میں ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے اس بیان کو "غلطی" قرار دیا اور کہا کہ وہ  بوشہر سائٹ کو نشانہ بنانے کی نہ تو تصدیق کر سکتا ہے اور نہ ہی تردید کر سکتا ہے۔

بوشہر پلانٹ کے متعلق اسرائیل اور روس کی کمیونیکیشن 
صدر ولادیمیر پوتن نے آج جمعرات کی صبح صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل نے روس سے وعدہ کیا ہے کہ ماسکو کے کارکن - جو بوشہر کے مقام پر مزید جوہری تنصیبات تعمیر کر رہے ہیں - محفوظ رہیں گے۔  

بوشہر پلانٹ تباہ ہوا تو کیا ہو گا

روس کے سرکاری جوہری کارپوریشن Rosatom کے سربراہ  لیکاچشف نے الگ سے جمعرات کو خبردار کیا کہ پلانٹ کے ارد گرد کی صورت حال خطرے سے بھری ہوئی ہے۔
روس کی سرکاری ریاستی RIA نیوز ایجنسی نے الیکسی لکاچیف کے حوالے سے کہا۔"اگر آپریشنل پہلے پاور یونٹ پر ائیر سٹرائیک ہوتی ہے، تو یہ چرنوبل کے درجہ کی ایک تباہی ہو گی،" 

چرنوبل میں کیا ہوا تھا

لیکاچشف 1986 میں دنیا کے بدترین جوہری ڈیزاسٹر کا ذکر کر رہے تھے، جب روس سوویت یونین کا حصہ تھا، تب  یوکرین میں واقع  چرنوبل میں ایک نیوکلئیر حادثہ میں ری ایکٹر پھٹ گیا تھا اور تابکاری وسعی علاقہ مین پھیل گئی تھی۔ اس تابکاری سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے تھے اور بہت زیادہ اموات ہوئی تھیں۔ کینسر اور دیگر اذیتوں سے اموات کا سلسلہ کئی سال تک رک نہیں سکا تھا۔
لیکاشیف نے مزید کہا کہ بوشہر پر حملہ "برائی سے  بھی زیادہ برا ہو گا"۔
انہوں نے کہا کہ روس نے اپنے کچھ ماہرین کو بوشہر سے نکال لیا ہے، لیکن بنیادی افرادی قوت - جس کے بارے میں پوتن نے کہا کہ سینکڑوں افراد -  وہ بوشہرسائٹ پر ہی موجود ہیں۔
"ہم کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں، بشمول اپنے تمام ملازمین کا تیزی سے انخلا،" RIA نے  لیکا شیف کے حوالے سے کہا۔


'خدا نہ کرے'
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ پرامن (مقاصد کی) جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے ناقابل قبول اور غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہم خاص طور پر بوشہر جوہری پاور پلانٹ کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں، جس کے آپریشن میں روسی ماہرین شامل ہیں۔"
"ہم خاص طور پر واشنگٹن کو صورتحال میں فوجی مداخلت کے خلاف متنبہ کرنا چاہیں گے، جو کہ واقعی غیر متوقع منفی نتائج کے ساتھ ایک انتہائی خطرناک قدم ہو گا،" زاخارووا نے اس انتباہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا جو ماسکو نے پہلی بار بدھ کو جاری کیا تھا۔

اسرائیل نے کل  بدھ کے روز بھی ایران کے نیوکلئیر پروگرام سے منسلک سائٹس پر بمباری کی اور آج بھی  ایرانی نیوکلئیر سائٹس پر بمباری کی،کل کی بمباری میں مبینہ طور پر بوشہر نیوکلئیر پلانت کو بھی تارگٹ کیا گیا تھا، اس کے بعد (آج سامنے آنے والے حقائق) روس نے اعلیٰ ترین سطح پر اسرائیل سے رابطہ کیا اور بوشہر پلانٹ پر بمباری نہ کرنے کے لئے کہا اور وہاں اپنے سٹاف کی موجودگی سے آگاہ کیا۔ 

آج کی نیوکلئیر سائٹس پر بمباری میں غالباً بوشہر پلانٹ فہرست کا حصہ نہیں کیونکہ اسرائیل کے فوجی ذرائع  اس ضمن میں خاموش ہیں۔