ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے ساتھ یورپ کے مذاکرات آج ہو رہے ہیں، ایجنڈا ایرانی نیوکلئیر پروگرام ہے

Iran Europe negotiations, Iran Israel war

سٹی42:  یورپ کے تین اہم ممالک کے وزرا آج جینوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔  وائٹ ہاؤس نےبتایا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا فیصلہ کرنے کے لئے ان مذاکرات کے نتیجہ کا انتظار کریں گے۔

 یورپی وزرا آج  جمعہ کو جنیوا میں ایران کے ساتھ "جوہری مذاکرات"  کریں گے، ذریعہ کا کہنا ہے کہ تین یورپی وزرا خارجہ کی یہ بات چیت امریکہ کے ساتھ مربوط ہے۔
ایک جرمن سفارتی ذریعہ کا کہنا ہے کہ "مقصد جوہری پروگرام پر ضمانتیں حاصل کرنا ہے۔"
جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعہ کو جنیوا میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ جوہری مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ایک جرمن سفارتی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ وزراء ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ ملاقات کرنے سے پہلے جنیوا میں جرمنی کے مستقل مشن میں یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار کاجا کالس سے ملاقات کریں گے۔
یہ یورپی اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اپنے قدیم دشمن ایران پر وسیع پیمانے پر فوجی حملے کیے تھے اور ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف پر میزائلوں کی لہریں بھیجی تھیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  صحافیوں کے بار بار پوچھنے کے باوجود یہ کہنے سے انکار کر دیا ہے کہ آیا امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کی فوجی مہم میں شامل ہو گا، جس سے ان خدشات کو  تقویت ملی ہے کہ بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایران اور یورپی ملکوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا مقصد، جو جرمن ذرائع کے مطابق امریکہ کے ساتھ  مشاورت کے ساتھ  ہو رہے ہیں، ایرانی فریق کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ "وہ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر سویلین مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔"
ذرائع کے مطابق، مذاکرات کے بعد ماہرین کی سطح پر ایک منظم مکالمے کو ہونا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی جنگ  کا مقصد تہران کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

اس سے پہلے

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اسرائیل کے حملے کی حمایت میں بات کی  اور اس ہفتے یہ کہہ کر تہران کو ناراض کیا  کہ ایرانیوں کو کشیدگی کم کرنی چاہیے یا اس سے بھی بڑی تباہی کے خطرے کا سامنا کرنا چاہیے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اہم ملٹری ڈپلائمنٹس مکمل کرتے ہی ایران سے کہا کہ وہ اب مذاکرات نہیں بلکہ سرنڈر کرے اور اس کا نیوکلئیر پروگرام اب مکمل بند کیا جائے گا دوسری صورت میں امریکہ فردو نیوکلئیر سائیٹ پر خود حملہ کرے گا۔
دریں اثنا، جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول نے بدھ کے روز ایران کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسے حل کی طرف کام کریں جس میں اس کے جوہری پروگرام پر یقین دہانیاں شامل ہوں، ان سے کہا: "مذاکرات کی میز پر آنے میں کبھی دیر نہیں ہوئی"۔

جنیوا مذاکرات کے لئے رضا مندی دینے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے اپنی انتہائی جارحانہ ٹون کافی نرم کر لی ہے اور اب وہ اس موضوع پر صرف ایک بات کہہ رہے ہیں: کسی کو نہیں پتہ کہ میں ایران کے متعلق کیا سوچ رہا ہوں۔

جنیوا میں مذاکرات سے کچھ ہی گھنٹے پہلے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا، لیکن صبح  سوا دو بجے تک یہ حملے شروع نہین  ہوئے جب کہ اسرائیل کی طرف سے بھی اب تک ایران پر کسی ائیر سٹرائیک کی کوئی خبر سامنے نہیں آ رہی۔