ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران میں قیمتیں بڑھ گئیں،  کھانے کی قلت، شہروں سے دیہات نقل مکانی

Iran Israel conflict, Iran War, Afghans fleeing for Iran, City42 , Herat

سٹی42: اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران سے فرار ہونے والوں میں ہزاروں افغان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر بتایا کہ قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ایرانی بھی شہروں سے دیہات میں جا رہے ہیں۔
بی بی سی انگلش  سروس نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ  افغانستان کے  ایران کی سرحد سے متصل مغربی صوبہ ہرات میں ہر روز ہزاروں افغان واپس آ رہے ہیں۔

درجنوں افغانوں نے اپنے واپس آنے کی وجہ جنگ کو بتایا۔ ان  کے پاس ایرانی ویزے تھے لیکن وہ اسرائیل کے حملے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

کابل سے تعلق رکھنے والا 24 سالہ صفی اللہ گزشتہ دو ماہ سے اصفہان میں مقیم تھا۔ وہ کہتے ہیں: "میں نے افغانستان واپسی کے لیے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے تین دن انتظار کیا۔ ٹکٹ کی قیمتیں اب تین گنا زیادہ ہیں اور ایک حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔"

وہ مزید کہتے ہیں: "جب میں نے صورتحال دیکھی تو میں نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔"

اصفہان  دارالحکومت تہران سے تقریباً 240 کلومیٹر (149 میل) جنوب میں وسطی ایران میں واقع ہے ۔ یہ کئی بار اسرائیلی حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔

35 سالہ مہران ایران میں کئی سالوں سے تعمیراتی کام کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ ایرانی شہری خود شہروں کو چھوڑ کر دیہی علاقوں کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ "کھانے پینے کی اشیاء اور ہر چیز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ بیکری میں روٹی ملنا مشکل ہے"۔

"میں تین تعمیراتی منصوبوں میں کام کر رہا تھا، حملے کے بعد وہ سب بند ہو گئے تھے۔ میں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔"

Caption تہران سے باہر دیہات کی طرف جانے والوں کے ہجوم سے بعض اوقات سڑکیں بلاک ہو رہی ہیں۔ یہ بات نیوز آؤٹ لیٹ ڈی ڈبلیو نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی۔