ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریجنل پاور پاکستان؛ "کل یگ ہے بھائی!"

Pakistan USA Relations, Pakistan's role in South Asia's stability and security, Regional power, President Trump, Field Marshal Asim Munir, Idnia Pakistan war, May 9 war, White House

وسیم عظمت

واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس کو دنیا میں طاقت کا ایک اہم ترین مرکز مانا جاتا ہے۔ طاقت کے دوسرے مراکز میں بیجنگ اور کریملن شامل ہیں۔ ہر براعظم میں کچھ اہم علاقائی مراکز بھی ہیں جن کا علاقائی سلامتی، استحکام اور گلوبل سلامتی اور استحکام مین کچھ نہ کچھ کردار ہے۔ لیکن آج بدھ  18 جون کو طاقت کا ایک اور علاقائی مرکز ابھر کر دنیا کے نقشہ پر نمایاں ہوا ہے؛ یہ ہمارا پاکستان ہے۔

عرصہ سے اقتصادی مسائل کا شکار رہنے والے اور حال ہی میں بحالی کے راستے پر پڑنے والے پاکستان کے طاقت کا علاقائی مرکز کی حیثیت اختیار کرنے کا عمل  عرصہ سے جاری تھا، ممکن ہے یہ مزید کافی عرصہ خاموشی سے جاری رہتا لیکن انڈیا کے عاقبت نا اندیش وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے مشیروں نے اپریل  22 کو مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ ٹیررسٹ آپریشن کر کے پاکستان کے خلاف جو محاذ کھولا تھا اس نے پاکستان کے علاقائی طاقت بن کر ابھرنے کے عمل  میں عمل انگیز کا کام کیا۔

6 مئی کی رات سے 10 مئی کی صبح تک پاکستان اور بھارت- دو نیوکلئیر پاورز کی جنگ پر دنیا کے تمام طاقت کے مراکز کی نظر جمی رہی، نظروں میں آئے ہوئے پاکستان نے  سٹیٹ آف دی آرٹ جنگ لڑی، ذمہ دار نیوکلئیر پاور، شہ زور ہونے کے باوجود تحمل اور ریسٹرین کو پریکٹس کرنے والا، جنگ لڑنے کے دوران جنگ کی اخلاقات اور اعلیٰ انسان اقدار کو مقدم رکھنے والا پاکستان الزامات اور بہتانوں کی اڑائی ہوئی گرد کو چیرتا ہوا دنیا کے سامنے علاقائی طاقت بن کر آیا،  کسی نے تب ہی مان لیا، کسی کو ماننے میں کچھ دن لگے، جو زیادہ تشکیک کے عادی تھے انہیں ہفتوں کی ریسرچ کے بعد بہرحال یقین آ گیا کہ ساؤتھ ایشیا میں ذمہ دار علاقائی طاقت پاکستان ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ریکارڈ درست کر لیجئے؛ ہمارا احترام کیجئے!

یہ بھی پڑھیئے:  مرقعِ عظمت فیلڈ مارشل کا ظہور؛ ہم شاہد ہیں، ہم نے اسکی قیادت میں عظیم ترین معرکہ دیکھا نہیں لڑا ہے

کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں بدھ  18 تک یہ شبہ رہا ہو گا کہ پاکستان کی اقتصادی ھالت اور دیگر پیچیدہ مسائل اسے علاقہ ساؤتھ ایشیا کی طاقت کی حیثیت سے کردار سنبھالنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان کے شبہات آج صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کے میڈیا کے ساتھ مختصر انٹرایکشن میں بھرپور اور Whole heartedly  ایکسپریشن کا مشاہدہ کر کے دور ہو گئے۔ 

آج شب غالباً ایک ہی  بزعمِ خود سیانا ہے جسے نئی حقیقت کو سمجھنے میں بہت  دشواری ہو رہی ہو گی؛ وہ بقول خود چھپن انچ چھاتی والے مہا پرش  نریندر مودی ہیں۔ ان کو ان کے مشیر آج واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس سے دنیا کو بھیجے گئے کھلے پیغام کی الٹی سیدھی تشریحیں کر کے مطمئین کرنے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد آخر کار کہہ رہے ہوں گے، "ہاہ۔۔۔ یہ کل یگ ہے بھائی!"