سٹی42: ایران اسرائیل کے چھٹے روز روس نے سخت ترین بیان دے دیا۔
روس نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکا اسرائیل کو براہِ راست فوجی مدد د نہ دے بلکہ اس کے بارے میں سوچنے سے بھی باز رہے۔
نائب وزیر خارجہ سرگئی ریاب کوف نے خبردار کیا کہ ایران پر حملوں کے درمیان اسرائیل کو براہ راست امریکی فوجی مدد مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو یکسر غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے نائب وزیر خارجہ ریابکوف کے حوالے سے کہا ہے کہ روس امریکہ کو اسرائیل کو ایسی امداد فراہم کرنے یا اس پر غور کرنے سے خبردار کر رہا ہے۔
ریابکوو نےبتایا کہ ماسکو اسرائیل اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مدد خطے کو مزید غیر مستحکم کردے گی۔
انہوں نے کہا، "ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں نے دنیا کو تباہی کے قریب پہنچا دیا ہے، یہ حملے دنیا کو تباہی سے صرف ملی میٹرز کی دوری پر لے آئے ہیں۔"
اسی دوران ایک اور ڈیویلپمنٹ میں روس کے صدر پیوتن اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے درمیان رابطہ ہوا ہے جس میں صدر ن پوتن نے ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل اور مغربی ممالک کے تحفظات کے سفارتی حل میں ثالثی کی پیش کش کو دہرایا۔
روسی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران اسرائیل تنازع کے فوری خاتمے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔