ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریکارڈ درست کر لیجئے؛ ہمارا احترام کیجئے!

ریکارڈ درست کر لیجئے؛ ہمارا احترام کیجئے!
کیپشن: بھارت کا مورخ یہ لکھنے پر مجبور ہو گا کہ بھارت کے پالیسی ساز اور فیصلہ ساز  باڈی لینگویج کو سمجھنے کے آرٹ سے نابلد تھے۔

وسیم عظمت : بھارت کا مورخ یہ لکھنے پر مجبور ہو گا کہ اپریل اور مئی 2025 کے دوران  حماقت بھرے اقدامات کرنے والے  بھارت کے پالیسی ساز اور فیصلہ ساز  باڈی لینگویج کو سمجھنے کے آرٹ سے نابلد تھے۔

پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کئی ماہ سے تسلسل کے  ساتھ بتا رہے تھے کہ گھونسے کا جواب  دانت توڑ دینے والے گھونسے سے دیں گے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بار بار بتا چکے تھے کہ پاکستان اپنے وقار کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

بھارت کے فیصلہ سازوں سے "ہر قیمت" کا ترجمہ کرنے میں بھی سخت غلطی ہوئی۔  پاکستان کی قیادت اپنی جانوں کی قیمت پر وطن کے وقات کا دفاع کرنے کے لئے  مکمل تیار تھی۔ جو لوگ اپنی جان نچھاور کرنے کے لئے تیار تھے انہیں آزمانا بھیانک غلطی  ثابت ہوا۔

پاکستان نے  7 مئی کے کیلینڈر پر آغاز سے لے کر 7 مئی کو سورج طلوع ہونے تک بھارت کو اس کی جارحیت کا بعینہِ وہی جواب دیا جو  چیف پہلے بتا چکے تھے؛ ایک کے بدلے دانت توڑ دینے والےدو گھونسے۔

آغاز دشمن نے کیا لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ سب کچھ چیف نے طے کیا، چیف کے جانثاروں نے اسے عملی جامہ پہنایا، 10 مئی کی صبح پاکستان کی مسلح افواج دشمن کی  اوفینس اور ڈیفینس دونوں صلاحیتوں کو برباد کر چکے تھے۔

  چیف اور سیاسی قیادت آخری حد تک جانے کے لئے ہر لمحہ مکمل چوکسی کے ساتھ تیار تھے، وہ آخری حد ہمارے وطن پر جانیں بخوشی نچھاور کر دینے کی حد تھی، دشمن کو واضح لفظوں میں پیغام بھیج دیا گیا کہ  اپنی مکمل بربادی چاہتے ہو تو ہمارے کاؤنٹر اوفینسیو کا جواب دینے کی جسارت کرنا ورنہ  اپنے زخموں کی اذیت  کو صبر کے ساتھ دانتوں تلے زبان دے کر برداشت کرنا۔

بزدل دشمن نے اپنی حماقت سے ہاتھ کھینچ لیا اور مکمل بربادی سے بچنے کے لئے بین الاقوامی  سہارے تلاش کرنے کے لئے آنکھوں میں آنسو لئے نکل پڑا۔

پاکستان نے ذمہ دار شہ زور ہونے کا عملی ثبوت دیا، ہم چاہتے تو  S400 کی تین میں سے دو بیٹریاں تباہ کرنے کے بعد اپنے سادہ بارود لے جانے والے ہائیپر سانِک بیلسٹک میزائلوں سے شمالی بھارت کے ان سینکڑوں  اہداف کو لمحوں میں ملیا میٹ کر دیتے جن اہداف کو ہم  6 مئی کو ہی لاک کر چکے تھے۔

ہم کر سکتے تھے لیکن ہم نے بس اتنا ہی کیا جتنا دشمن کو بے بسی کا نمونہ بنا کر دنیا کو اس کی اصل اوقات دکھا دینے کے لئے کافی تھا۔

شہہ زور کمزوروں کو زیر کر کے  انہیں بس عبرت کا نشانہ ہی بناتے ہیں، فنا کر دینے کے لئے شہہ زوروں کو کسی ہم پلہ کے چیلنج کا انتظار رہتا ہے۔

پاکستان کے شہہ زوروں نے ثابت کیا کہ  مجبور اقلیتوں پر ظلم کرنے کے ایکسپرٹ ہندوتوا کے جھنڈے اٹھا کر کھوکھلے نعرے لگانے والے ہم سے بہت کمزور ہیں۔ 

ریکارڈ  کی درستگی

چھ اور سات مئی کی نصف شب سے شروع ہونے والا "معرکہِ حق" دس مئی کی صبح مکمل ہو گیا لیکن ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز  کے سٹوڈنٹس کیلئے ریکارڈ کو درست کر گیا۔  ہم ساؤتھ ایشیا کے شہہ زور ہیں! ہمارا احترام کیا جائے اور ہم سے ٹکرانے کی حماقت ہرگز نہ کی جائے ورنہ دشمنوں کو اپنی چِتا جلانے کے لئے مزدور دُور دیسوں سے بلوانے کا انتظام کرنا پڑے گا۔ 

اب دنیا کے لئے نیا موقع ہے کہ پاکستان کو اور پاکستان کی صلاحیتوں کو نئے سرے سے سمجھے اور بھوک، افلاس اور دشمنوں کی ہزاروں سازشوں کے بیچ تھوڑے وسائل سے حاصل کی بہت مؤثر، ہمہ گیر قوتوں کا ادراک کرے، ہم احترام ڈیزرو کرتے ہیں، ہمارا احترام کیا جائے۔