ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہتھیار ڈالے کے مطالبہ؛ خامنہ ای نے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی

Iran's war, Khaminaei, Irani State Tv, Surrender
کیپشن: یران کے آیت اللہ خامنہ ای سٹیٹ ٹی وی پر خطاب کر رہے ہیں۔

سٹی42: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی کے سرکاری نیوز چینل پر ایرانی عوام سے غیر معمولی خطاب کیا ہے، اس تقریر میں خامنہ ای نے  امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے کے امریکہ کے لیے "ناقابل تلافی نتائج" ہوں گے۔

خامنہ ای کی یہ تقریر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہتھار ڈال دینے کے مطالبہ کے بعد آئی ہے اور اسے صدر ٹرمپ کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبہ کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔

جمعہ کو اسرائیل کے ایران کی نیوکلئیر  اور فوجی تنصیبات پر حملوں  کے آغاز کے بعد اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں خامنہ ای نے بدھ کو کہا کہ ان کا ملک "کسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا"۔

خامنہ ای نے اس موضوع پر  اپنے مخصوس طرز کلام کے ساتھ مخصوص الفاظ دہرائے اور  کہا کہ ایران مسلط کردہ جنگ کے خلاف ثابت قدم رہے گا، جس طرح وہ مسلط کردہ امن کے خلاف ثابت قدم رہے گا۔

ایک دن پہلے ٹرمپ کے دھمکی آمیز ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ جو لوگ ایران اور اس کی تاریخ کو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایرانی دھمکی کی زبان کا اچھا جواب نہیں دیتے۔

خامنہ ای کی تقریر کا تناظر

کل اور اس سے پہلے پیر کے روز صدر  ٹرمپ نے سختی سے ایران کو وارننگ دی کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور اپنا نیوکلئیر پروگرام مکمل بند کر دے ورنہ امریکہ اس کے نیوکلئیر پروگرام کو تباہ کرنے کے لئے اس کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔

ان دو دنوں سے پہلے ٹرمپ نے تقریباً روزانہ یہ کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے کے لئے مذاکرات میں واپس آ جانا چاہئے، اب وہ   یہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ بندی سے "بہت بڑی" چیز کے خواہاں ہیں۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے لان میں پرچم کشائی کی تقریب میں " جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے، تو صدر  ٹرمپ نے کہا کہ "میں یہ کر سکتا ہوں، میں ایسا نہیں کر سکتا۔ 

"اگلے ہفتے بہت بڑا ہونے والا ہے، شاید ایک ہفتے سے بھی کم،" ٹرمپ نے وضاحت کیے بغیر کہا۔

امریکہ نے حالیہ دنوں میں مزید جنگی طیارے خطے میں بھیجے ہیں اور یو ایس ایس نیمٹز طیارہ بردار بحری جہاز بھی بھیج رہا ہے۔


امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے ان سے رابطہ کیا اور وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے کا مشورہ دیا، جس کی ایران نے تردید کی اور اب آیت اللہ نے تقریر کر کے کہا کہ وہ دباؤ میں امن بھی قبول نہیں کریں گے۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "کسی ایرانی اہلکار نے کبھی بھی وائٹ ہاؤس کے دروازے پر جانے کو نہیں کہا۔ "

الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے خامنہ ای کے جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے خبردار کیا: "کسی بھی امریکی مداخلت سے خطے میں ہمہ گیر جنگ شروع ہو جائے گی۔"