سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 'کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں'۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ آیا وہ ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ باتیں آج بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے لان میں جرنلسٹوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 جون 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں پریس سے بات کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ی ایک صھافی کے سیدھے سوال کے جواب میں یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا حکم دیں گے(یا نہیں)، کل منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپنے اپنی باتوں سے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ اس طرف (ایران کے فردو نیوکلئیر تنصیبات پر حملے کی طرف) جھک رہے ہیں۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا، "میں یہ کر سکتا ہوں، میں یہ نہیں کر سکتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔"
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایران کو اپنی 60 دن کی ڈیڈ لائن جو گزشتہ ہفتے ختم ہو گئی تھی اس سے پہلے جوہری معاہدے پر راضی ہو جانا چاہیے تھا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران پر اسرائیلی حملے پر حیران ہوئے جو اس وقت (ٹرمپ کی خود کے لئے بنائی ڈیڈ لائن) کے ختم ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔ "یہ ایک جہنم کا نشانہ تھا… سچ پوچھیں تو یہ پائیدار نہیں ہے۔ یہ (حملہ) یہیں پر ختم ہو گیا(تھا) ۔ یہ پہلی رات کو ختم ہوا،" ٹرمپ نے بعد مین اپنے ان جملوں کی کوئی وضاحت نہیں کی۔
اپنی اس گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ایران کو مکمل طور پر بے دفاع قرار دیا، جس کا کوئی فضائی دفاع باقی نہیں ہے۔
صدرنے دعویٰ کیا کہ ایران اب مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس نے ایسا کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس آنے کی تجویز بھی دی ہے۔
لیکن ٹرمپ نے نے نشان دہی کی کہ وہ اب دلچسپی نہیں رکھتے۔ "بات کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے،" ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اب وہ ایران سے"غیر مشروط ہتھیار ڈالونا" چاہتے ہیں۔
"پھر ہم (ایران کے ہتھیار ڈالنے کے بعد) [ایران میں] تمام جوہری مواد کو اڑا دینے کے لئے جائیں گے،" یہ ٹرمپ کے الفاظ تھے۔