آج شام سے میں مسمرائزڈ ہوں، کام کر رہا ہوں لیکن مائینڈ کام میں نہیں ، ہزاروں سالوں پر محیط جنگوں، جنگ کی حکمت عملیوں، شخصی شجاعت اور قائدانہ عظمتوں کی داستانوں میں گم ہے۔ وار سٹریٹیجی میرا پیشن رہا ہے، "فوجی" جو مرنے کے لئے جیتا ہے، جو دوسروں کو جیتا رکھنے کے لئے مرتا ہے، میری ڈائیورس سرگرمیوں کے دوران، سٹڈی کا مستقل موضوع رہا ہے، گرینجر (عظمت) عسکری ہسٹری کے بیشتر سٹوڈنٹس کی طرح مجھے بھی ہمیشہ مسمرائز کرتی ہے۔ آج گھنٹوں سے مسمرائزڈ ہونے کی وجہ ایک گرینجرس فیلڈ مارشل کا ظہور ہے۔ اس گرینجرس فیلڈ مارشل کے ظہور کا خود شاہد ہونا مجھے مسمرائز کئے ہوئے ہے۔ ہم اس کے صرف شاہد ہی نہیں بلکہ اس کی لڑی ہوئی عظیم ترین جنگ میں خود بھی شریک رہے ہیں۔ ہم نے اس پر بھروسہ کیا اور اس نے ہمیں فتح کا افتخار دیا۔
جنگوں کی ہسٹری میں سپارٹا کی جنگوں، فارس کے شہنشاہوں کی جنگوں، منگولوں کے ابھار اور عروج کے مابین آنے والی جنگوں، جبرالٹر کی جنگ، اور ہمارے قریبی ترین وقت کی عظیم ترین جنگوں جنہیں ہم"ورلڈ وار ٹو" کہتے ہیں کی سٹڈی ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز کا محض ابتدائی علم مہیا کرتی ہے۔
فوجی کے کردار کی تخیل میں تشکیل کا مواد تمام سٹوڈنٹ اپنی اپنی سٹڈی سے لیتے ہیں۔ فیلیسیا ڈورتھیا ہیمانس کی نظم کاسابلانکا عظمت سے بھرے "فوجی" کی شخصیت کا محض ایک ہی پہلو دکھاتی ہے جو فرض شناسی اور کما نڈ کو فالو کرنا ہے۔ لالک جان کی شجاعت جو ذمہ داری کے ادراک سے جڑی شخصی خوبیوں کا مرقع ہے وہ عظمت کا ایک اور پہلو سمجھاتی ہے۔ کرنل شیر کا استقلال اعلیٰ ترین مقصد سے جڑی اعلیٰ اخلاقی پوزیشن کو دکھاتا ہے جو فوجی کو اعلیٰ اوصاف کا مرقع کماندر بناتی ہے۔
لیکن فوجی محض لڑ کر مرتا نہیں اس سے آگے بھی کچھ ہے۔ فوجی جب کمانڈر ہے تو وہ مرنے سے زیادہ "اپنےفوجی کو زندہ واپس لانے" پر مرکوز ہوتا ہے۔ اسے سٹریٹیجی بنانا ہے، مقاصد حاصل کرناہیں لیکن ان سب کو زندہ واپس لانا ہے جو اس کے اشارے پر کسی بھی جہنم میں کود جانے کے لئے تربیت یافتہ اور ہمہ وقت تیار ہیں۔
برج آن ریور کیوائی، گنز آف نیواران اور بہت سا دوسرا لٹریچر فوجی اور کمانڈر کی اپنی ذمہ داری کے ادراک، ادائیگی اور اس سارے عمل میں انسانی زندگی کے اعلیٰ ترین اوصاف کی کارفرمائی کا معمولی عکس ہیں۔ "فوجی" اور "کمانڈر" کی عظمت بیشتر بیشتر واقعات کبھی رپورٹ نہیں ہو پاتے، کبھی ڈاکیومیںٹائز نہیں ہو پاتے اور کبھی آرٹسٹوں کی مقشت سے عام انسانوں کے علم اور تخیل کا حصہ نہیں بن پاتے۔
فوجی کے کردار اور جنگ سے دلچسپی عموماً بچپن کی انسپیریشنز سے جڑی ہوتی ہے، ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہے، سرگودھا ائیر بیس، ایم ایم عالم اور دوسرے شاہینوں کی دیومالائی کہانیوں کو سن کر ہوش سنبھالنے والے بہت سے بچوں کے برعکس مجھے پڑھنے کا موقع ملتا رہا اور بہت سا وقت جنگوں کے ان میدانوں میں گزرا جو میرے وقت سے ہزاروں، سینکڑوں اور دسیوں سال پہلے کبھی سجے تھے۔
دوسری جنگِ عظم کے متعلق لٹریچر نے خالصتاً جنگی علم، فوجی اور کمانڈر کی مہارت، پرفارمنس کی کمپیریٹو سٹڈی کرنے کا موقع دیا کیونکہ اس خاص جنگ میں میرا اور میری کمیونٹی کا اپنا کچھ داؤ پر نہیں رہا تھا، میرے لئے سب اجنبی، سبھی غیر تھے، کون کیا کر رہا تھا، کس کی کیا خوبیاں اسے اور اس کی قوم کو کہاں لے کر جا رہی تھیں، "فوجی کا گرینجر" کہاں کتنا ظاہر ہوا، کہاں یہ گرینجر عروج پر تھا۔
برما کی دلدلوں سے لے کر فلپائن کے مچھروں اور سانپوں بھرے جزیروں تک، عظیم سوویت یونین کے برفزاروں سے لے کر عین اختتام کا نکتہ بننے والے نارمنڈی کے ڈی ڈے انویژن تک ، فیلڈ مارشل ایورن رومیل کی افریقہ میں رونگٹے کھڑے کر دینے والی عیارانہ حکمتوں کے ساتھ مسلسل فتوحاتوں سے لے کر فیلڈ مارشل فریڈرک پاولوس کے سٹالن گراڈ میں سرنڈر تک،اور آخر کار ہٹلر کی اپنے بنکر میں خودکشی تک ، جنرل ڈگلس میکارتھی کی ساؤدرن پیسیفک تھیٹر بحرالکاہل میں لڑی دلچسپ جنگوں اور جاپان کے رسمی قبضہ ، سوویت فیلڈ مارشلز کی جرمنی کے مفتوحہ مشرقی یورپ میں ہٹلر کی کمر توڑ دینے والی پیش قدمیوں تک فوجی اور کمانڈر کی عظمت کے سینکڑوں روپ سامنے آئے جنہوں نے وار سٹریٹیجی کے سٹوڈنٹس کو عرصہ تک مسحور/مسمرائزڈ رکھا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ویتنام کی ویت کانگ وار سٹریٹیجیز، کمبوڈیا کی طویل ترین خانہ جنگی سے نکارا گوا کی اپنی طرز کی الگ جنگ تک ، افغانستان میں خلق پارٹی کے ائیرفورس پائلٹوں کی بغاوت سے لے کر سوویت فوج کی آمد، واپسی، احمد شاہ مسعود اور جنرل رشید دوستم کی گوریلا جنگوں، طالبان کی تشکیل سے لے کر نائن الیون کے بعد وار آن ٹیرر تک، پاکستان کی پیدائشی حریف بھارت کے ساتھ تین جنگوں، سیاچن اور کارگل کے واقعات ، لائن آف کنٹرول پر مستقل سٹینڈ آف جیسی صورتحال تک اور حالیہ جنگی ہسٹری میں یوکرین وار سے اسرائیل کی غزہ میں جنگ تک بہت کچھ دیکھ، پڑھ چکنے، آئی اے رحمان، ظفریاب احمد، ڈاکٹر رفعت حسین، ڈاکٹر شیریں مزاری جیسی علم کا سمندر شخصیات کے علم سے تتمع کرنے تک؛بلوچستان میں بیس سال سے جاری پیدائشی دشمن کی پراکسی وار اور خوارجیوں کی فسادی دہشتگردی تک برسرِ پیکار، اور پیکار سے دامن بچانے والے کرداروں کی سٹڈی تک امیجینیشن "فوجی" اور "کمانڈر" کے کرداروں میں گریجنر تلاش کرنے اور وار سٹریٹیجیز کو سمجھنے کی مسلسل مشق ک میں مصروف رہا۔ کئی شخصیات سے متاثر ہوا، کئی کمانڈرز کا گرویدہ ہوا۔
اس دوران لالک جان اور کرنل شیر خان سے ان کے شہید ہو جانے کے بعد تعارف ہوا تو عظمت کے نئے معانی ذہنِ نا رسا پر آشکار ہوئے۔ مصیبت، بے چارگی اور مایوسی کے عالم میں یقینی شکست کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر موت کو چیلنج کرنا۔ اپنے قدموں کی مٹی نہ چھوڑنا اور خود موت کا جام پیتے ہوئے، جیتے ہوئے کو ندامت کے احساس سے دوچار کر کے جیتے جی مار جانا؛ شخصی عظمت کے یقیناً نئے پہلو تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1999 کی کارگل وار سے اب تک میرا ذہن اس جنگ کے بے یار و مددگار کرداروں کی عظمت سے زیادہ عظمت کسی عسکری کردار میں تلاش نہ کر سکا۔
جنگ لڑنا سب (فوجیوں) کو آتا ہے- وار کالجوں میں یہی پڑھایا جاتا ہے۔ جنگ لڑنے کی سائنس اور آرٹ میں مہارت حاصل کرتے، اپنے ذمہ لگائے گئے کام ٹھیک سے انجام دیتے فوجی ترقی کرتا جنرل کے عہدہ تک پہنچتا ہے، جنگ لڑتا ہے تو اپنے کالجوں میں سیکھے ہوئے ہنر کو آزمانے کا موقع ملتا ہے،جوں جو ں آگے جاتا ہے اس کے کندھوں پر اپنے ماتحت فوجیوں کی زندگیاں بچائے رکھنے کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ جو سب میں بہترین ہو، ہر تول میں پورا اترے، وہ تمام جنرلز کا چیف بن جاتا ہے۔ اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے اور ریٹائر ہو کر پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، لابریریوں میں ادھورے علم کی تکمیل کی کوشش کرتا ہے، تجربات کو قلم بند کرتا ہے اور وقت آنے پر ابدی نیند سو جاتا ہے۔
جدید فوجوں کی ہسٹری میں حقیقتاً کچھ ہی ہوتے ہیں جنہیں جنگ ملتی ہے اور جنگ میں کچھ کرنے کا موقع ملتا ہے، ان میں سے معدودے چند ہی کچھ کر کے دکھا پائے جسے معاصروں نے دیکھا پرکھا اور سراہا۔
میرے مسمرائزڈ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے بہت عرصہ جس جنگ کے ہونے کا انتظار کیا تھا، اسے ہوتے ہوئے ہی نہیں دیکھا، خود اس میں شریک ہوا، " فوجی اور کمانڈر' کی جس عظمت کا ہمیشہ متلاشی تھا، اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنی روح میں محسوس کیا.
میرے لئے جنرل عاصم منیر دس مئی کی صبح سورج طلوع ہونے تک ہی فیلڈ مارشل کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہو چکے تھے۔ ریاست نے انہیں رسماً فیلڈ مارشل منگل 20 مئی کو تسلیم کیا۔ اس صبح ساڑھے آتھ بجے جب Key Board کا محاذ چھوڑ کر سونے کے لئے گیا تو فتح کے ادراک کے ساتھ گیا تھا، شام Key Board پر واپس آکر پہلی اطلاع فتح کی لکھی اور اس کے ساتھ تصویر فیلٖ مارشل کی پوسٹ کی جو کئی روز سے منظر پر کہیں دکھائی نہیں دیئے تھے۔ فتح کی یہ اطلاع امریکہ کی نیوز ایجنسی نے دنیا کو بریکنگ نیوز کی حیثیت سے بتائی تھی اور اس کے کچھ دیر بعد ہی امریکہ کے صدر ٹرمپ نے "جنگ بندی" کا اعلان کیا تھا۔ جب سے یہ سنا ہے کہ پاکستان کی ریاست نے ہمارے فیلڈ مارشک عاصم منیر کو رسماً یہ منصب عطا کر دیا ہے، تب سے میں مسمرائزڈ ہوں، شاید اس کیفیت سے نکلنے میں کچھ وقت لگے گا۔
جعفر ایکسپریس پر پیدائشی دشمن کے کاورڈ اٹیک کی خبر میں نے حوصلے کے ساتھ سنی تھی۔ اس کے بعد جعفر ایکسپریس کے کرائسس کو میںیج کنے والوں کو اسے میںیج کرتے دیکھا اور۔۔۔۔ آپریشن مکمل ہونے کا اعلان میرے لئے پہلے شاک کی گھڑی تھا۔ میں یہ خواہش رکھتا تھا لیکن۔۔۔ توقع نہیں رکھتا تھا کہ عیار دشمن کا یہ کاری وار اس قدر پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اتنے کم وقت میں اتنی رسانیت کے ساتھ ناکام بنا دیں گے۔
اس سے پہلے میں جانتا تھا کہ جنرل میں بہت کچھ غیر معمولی ہے، جو معاصر فوجوں کے جنرلز میں مفقود ہے، جعفر ایکسپریس ریسکیو آپریشن کے تمام ہونے پر مجھے وہ عظمت ٹپکاتا ہوا چہرہ شناخت کرنے میں دشواری نہیں ہوئی جو عرصہ سے سامنے آتا تھا تو کچھ غیر معمولی ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ اس کے ساتھ بہت سے دوسرے چہرے جو پہلے کبھ توجہ حاصل نہیں کر پائے تھے نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ غالباً اسی روز یہ گہرا ادراک بھی ہو گیا تھا کہ جس جنگ کا عرصہ سے انتظار تھا وہ سر پر ہے۔

عظمت سے بھرا کمانڈر اس جنگ کو کیسے لڑے گا، ہم سب کو کیا کرنا ہو گا، اس پر زیادہ تفکر کرنے کا موقع نہیں ملا اور جرورت بھی محسوس نہیں ہوئی، اس حد تک یقین تھا کہ جس کاورڈ اٹیک کا ایک بار سامنا ہوا اس کا بار بار سامنا ہو گا، لیکن یقین تھا کہ کمانڈرنے جیسے اس زہریلے خنجر کے وار سے ہمیں بچایا، ویسے ہی وہ ہر وار سے بچاتا جائے گا۔
عرصہ سے تیاری کر رہے عیار نے بائیس اپریل کو پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کر کے جو بگل بجایا وہ مجھ سے کم علم سٹوڈنٹس کے لئے خطرے کی ابتدائی وارننگ تھا لیکن۔۔۔۔۔ عظمت بھرے چہرے والے کمانڈر کے لئے یہ کوئی وارننگ نہیں تھا۔ آج ہم تصدیق ہو چکے علم کے ساتھ جانتے ہیں کہ کمانڈر 22 اپریل کو دشمن کے فالس فلیگ آپریشن سے پہلے متوقع حملے کو نہ صرف ناکام بنانے بلکہ اسے دشمن کی بربادی کا سامان بنانے تک تمام تیاری مکمل کر چکا تھا۔ کمانڈر دشمن کے جنگ کا بگل بجانے سے پہلے دشمن کی چھیڑی ہوئی جنگ کو دشمن کے لئے اس کی آخری حماقت بنا دینے کا انتظام کر چکا تھا۔
کمانڈر خود نہیں لڑتا، کمانڈر انتظام کرتا ہے، انتظام جنگ جیتنے کا نہیں بلکہ جنگ میں اپنے فوجی کو زندہ واپس لانے کا انتظام! کمانڈر نے یہ کیا، ہمارے بہت سے با خبر فیصلہ ساز اس عمل میں گواہ بنے، کچھ کے حصے میں کچھ کردار آئے جو انہوں نے تندہی سے انجام دیئے۔ کچھ کردار پرائم منسٹر شہباز کے حصے میں آئے، انہوں نے کمال ذمہ داری سے مکمل کئے، کچھ دوسرے سویلینز کے حصے میں بھی آئے جنہوں نے بروقت تیاری مکمل کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔

ہم عوام لاعلم تھے لیکن ہماری حفاظت کے لئے سینکڑوں ہزاروں کام درپردہ بروقت ہو رہے تھے، سب کچھ بروقت مکمل کر کے کمانڈر دشمن کو حماقت کرنے سے باز رکھنے کے لئے آخری کوششین کر رہا تھا۔ ان کوششوں کو ہم سب نے کھلی آنکھ سے دیکھا، کانوں سے سنا لیکن دشمن کمانڈر کی تیاری کو نہیں بھانپ پایا۔
سب کچھ بروقت، اعلیٰ سلیقہ کے ساتھ ہوا، دشمن نے اشتعال انگیزیاں کین تو ان سب اشتعال انگیزیوں کا "عظمت سے بھرے" انداز سے تحمل اور برداشت کے ساتھ جواب دیا، ڈپلومیسی کو بروئے کار لا کر دشمن کے گمان سے بہت ارفع درجہ پر معاصر دنیا میں ہمارے لئے اہم ہر شخصیت تک مناسب حد تک پیگام پہنچائے، جسے جس نکتہ پر قائل کرنا تھا کیا، جسے جس نکتہ سے آگاہ کرنا تھا کیا۔
6 مئی کی شام آئی تو مجھ سے کم علم بھی جان گئے کہ کچھ ہونے جا رہا ہے اور جو ہونے جا رہا ہے اس میں ہماراأ ہم سب کا کردار ہے، ہمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے اور کمانڈر پر بھروسہ کرنا ہے۔ بھروسہ چھ مئی کی شب کے آغاز میں ہمارا key word تھا، جسے جتنا بھروسہ تھا وہ اس رات اتنا مطبمئین، اتنا مستحکم رہا اور اپنا کردار اتنے ہی تیقن کے ساتھ ادا کرنے میں کامیاب ہو۔ صد شکر کہ اس رات دانت توڑ جواب کا اولین پر یقین نعرہ لگانے والوں میں ہم بھی تھے۔
سات مئی کی سبح پونے ایک بجے انڈین حماقت کا آغاز مسجدوں پر حملوں سے ہوا، ان حملوں کی اطلاعات نیوز چینلز سے "دھماکہ ہوا ہے"، "ایک اور جگہ دھماکہ ہوا ہے" جیسے جملوں کی صورت میں نشر ہوئیں، سٹی42 نے انڈیا کے سویلین مساجد، گھروں پر بلا اشتعال حملے اور پاکستان کے جواب دینے کے آغاز کی خبریں اوپر تلے نشر اور پوسٹ کیں۔
جس وقت چھ سات مئی کی درمیانی شب دشمن نے حماقت کا آغاز کیا اس سے بہت پہلے کمانڈر یر خاص و عام کی نطروں سے بہت دور اپنے سچؤیشن روم میں محدود ہو چکے تھے۔ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی ہر تیاری پہلے سے مکمل تھی، لمحوں میں جواب کا آغاز ہوا جس کی پبلک کو اطلاع ابتدائی کامیابیاں مل چکنے کے بعد ہی آئی۔
بھاری کامیابیاں ملیں لیکن عظمت کے واقعتاً پیکر کمانڈر اور ان کے ساتھیوں نے چھچھورے پن کی بجائے انکسار کے ساتھ عیار کو سمجھایا کہ یہیں بس کر دے، اسی میں بھلائی ہے، انکسار سے کمیونیکیٹ کی ہوئی وارننگ کم کو سمجھ آتی ہے اور رزیل کو تو کبھی بھی سمجھ نہیں آتی، ہونی کو ہونا تھا وہ ہوئی۔ مار کھائے ہوئے عیار نے مزید مار کھانا اور حقیقی عظمت کے حامل فوجی اور کماندر سب کو آزمانا ضروری سمجھا، نو اور دس مئی کی رات جنرل احمد شریف کے اولین انکشاف کہ آدم پور سے دشمن نے امرتسر پر میزائل فائر کئے ہیں، ہم جواب دینے کے لئے تیار ہو کر اپنے key boards پر موجود تھے، کہ یہ کی بورڈ کا محاذ ہی ہمارے حصے میں آیا تھا۔
یہ ابتدا تھی، سات مئی کی صبح، آٹھ، مئی اور اس کے بعد نو مئی کو دن بھر تحمل اور برداشت کے ساتھ ہر ممکن حد تک کوشش کی کہ ہونی ٹل جائے، عیار اپنی عیاری اور مکاری کے زعم میں جو حماقت کرنے جا رہا ہے اس حماقت سے باز آ جائے لیکن شاید آسمانِ کہن کو نئی جنگ بازی کے نئے جنگباز کمانڈر کے ظہور کے سوا کچھ قبول نہیں تھا، ہونی ہوئی اور اس کے نتیجے میں ہمیں اور معاصردنیا کو اپنے وقت کے عظیم ترین""فیلڈ مارشل"" کا درشن نصیب ہو گیا۔
نو مئی کی آخری ساعتوں میں جب دشمن اپنی تمام تیاری مکمل کر کے دس مئی کی ابتدائی گھڑیوں میں اپنے ہی شہر کو اپنے ہی میزائلوں سے نشانہ بنانے کی ناپاک حرکت کر رہا تھا تو ہمارا کمانڈر اپنی وار سٹریٹیجی کو عمل میں لانے کے لئے تمام کام مکمل کئے بیٹھا تھا۔
جب اطلاعات آئیں کہ راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پر دھماکے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ہی اطلاعات آئیں کہ شورکوٹ ائیر بیس اور مرید ائیر بیس پر بھی دھماکے سنے گئے ہیں تو ہم نے اپنے نیوز روم میں کمانڈر کے ترجمان سوفٹ سپوکن شریف النفس جنرل جنرل احمد شریف کے بولنے کا انتظار کیا لیکن اس دوران ہم دشمن کے حملے کی خبر اور اس کے ساتھ اپنے جواب کی خبر سمیت سب کچھ ایک ساتھ کرنے کی تیاری کر چکے تھے کیونکہ پہلے سے تیار تھے کہ جو ہو سو ہو۔
معلوم تھا کہ ایسکلیشن جہاں تک پہنچ چکی ہے اس سے آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن یقین تھا کہ اس سے آگے جو کچھ ہو گا وہ دشمن نہیں ہمارا کمانڈر کرے گا۔ جو کچھ ہو گا وہ ہماری بقا اور بقا سے زیادہ ہمارے شخصی اور قومی وقات کو سامنے رکھ کر ہو گا۔ جو کچھ ہو گا وہ کماندر ہی کرے گا لیکن وہ ہم ہی کر رہے ہوں گے۔
پھر وہ ہوا جس کا دشمن کو اندازہ نہیں تھے اور دشمن کے خیرخواہوں کو گمان تک نہیں تھا لیکن یہ وہ تھا جو ہم سب کی خواہش تھا اور ہم سب کا یقین تھا۔ فیلڈ مارشل نے اپنی تزویراتی مہارتین دکھائیں، جنگ جو کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے اس میں S400 ائیر ڈیفینس سسٹم کو ایک مؤثر ڈیفینس سسٹم مانا جاتا ہے، جنگ جو کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے اس میں رافیل کو ایک مؤثر کومبیٹ ہتھیار مانا جاتا ہے، لیکن جنگ جو ہمارے فیلڈ مارشل نے لڑی اس میں نہ رافیل کوئی مؤثر کومبیٹ طیارہ تھا نہ S 400 کوئی مؤثر ائیر ڈیفینس سسٹم تھا نہ براہموس کوئی تباہ کن حملہ آور میزائل تھا، اس جنگ میں اگر کچھ مؤثر تھا تو وہ پاکستان کا "فوجی" تھا اور اس فوجی کے کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑا "کمانڈر' تھا۔

لمحوں میں پاکستان نے مربوط جواب دیئے۔ دشمن کے آگہ ہونے تک دشمن کی کمیونیکیشن برباد ہو گئی؛ ملٹری سیارچے سے لے کر ویب سائتوں تک سب کچھ برباد ہو گیا، ستر فیصد ملک کے گرڈ سٹیشن ناکارہ ہو گئے، دو ایس چار سو ائیر ڈیفینس سسٹم اپنا ہی ڈیفینس کرنے سے لاچار ثابت ہوئے، دشمن کے اندر تک ہر جگہ پاکستانی شاہینوں اور میزائلوں کے لئے ایسے کھل گئی جیسے اس کی سب تنصیبات کسی چاند ماری گراؤنڈ میں پچاس گز دوری پر نصب ڈمی ٹارگٹ ہوں جنہوں تہس نہس کرنے کے لئے محض ریکروٹ ہی کافی ہوں۔ دشمن نے جس جنگ کی تیاری میں سالوں صرف کئے، کئی اطراف سے پراکسیز کے ذریعہ گھیرا، مسلسل bleed کیا وہ فیلڈ مارشل نے ساڑھے تین گھنٹوں میں اپنے تئیں تمام کر دی۔ محض تمام ہی نہیں کی، اس کا ببانگِ دہل اعلان بھی کیا، کہ اس سے آگے دشمن نے کچھ کیا تو اسے جواب وہ نہیں دیا جائے گا جو گزشتہ کچھ گھنتوں میں ملا ہے، اس کے بعد جواب اکنامک ٹارگٹس کی بربادی کی صورت میں دیا جائے گا۔
دس مئی کی صبح لاہور میں ایک بے حد نارمل اور بے پناہ خوشی اور طمانیت سے بھری صبح تھی۔ لیکن سرحد پار ایسا نہیں تھا، وہاں صبح کا سورج چڑھنے کے بعد بھی ہر طرف اندھیرا تھا، دشمن کے ہرکارے سات سمندر پار اس دیس میں جہاں ابھی واقعتاً رات تھی، اپنے مربیوں کو سوتے سے جگا کر، رو رو کر اپنی بپتا سنا رہے تھے، فیلڈ مارشل کے چمتکار نے صرف دشمن کو ہی اپاہج نہیں کیا، اس کے مربیوں کو بھی برافروختہ کر ڈالا، سب کے پاس ایک ہی آپشن باقی تھی، فیلڈ مارشل جو کہہ رہا ہے اسے مان لیا جائے اور سفید جھنڈا لہرا دیا جائے۔
چند گھنٹوں کی جنگ میں کئی سال سے دنیا کی "ابھرتی ہوئی سپر پاور" کا ناز آفرین سٹیٹس ہنڈاتے بھارت کی بنی بنائی ریپو راکھ کا ڈھیر ہو گئی۔ صرف S400 ائیر ڈیفینس سسٹم، رافیل طیارے، براہموس کی ذخیرہ گاہیں، ہوائی حملوں میں استعمال ہونے والے ائیر بیس اور ہوائی پٹیاں ہی تباہ و برباد نہیں ہوئے، پروپیگنڈا مشین بھی زمیں بوس ہوئی، فوج کا حوصلہ بھی ریزہ ریزہ ہوا اور اپنے پرائے سب کے سامنے ننگے ہو گئے۔
یہ سب کچھ کیسے ہوا، فیلڈ مارشل نے کیسے 22 اپریل سے پہلےہی سب کچھ جان لیا، کیسے ہر وار کا توڑ پہلے ہی مہیا کیا، کیسے دنیا میں اپنے لئے معنی رکھنے والوں کے ساتھ ے ساتھ ضروری کمیونیکیشن اس قدر رازداری سے کی کہ دشمن کو گمان تک نہ ہوا کہ اس کا "خفیہ کاورڈ اٹیک پلان" خفیہ نہیں; اس سب تفصیل کو وار ہسٹری کے ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لئے کتابیں لکھی جائیں گی۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں فیلڈ مارشل کو کام کرتے دیکھنے کا موقع ملا، اس کے وعدے پر یقین کرنے کا موقع ملا اور اس کے پیچھے چل کر اپنے وقار کی حفاظت کے لئے جدوجہد میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ ہم نے موت کی سردی کو اپنی بیک بون میں محسوس کیا لیکن اس اطمنان کے ساتھ کہ ہم سے پہلے ہمارے لئے موت کا سامان کرنے والے جائیں گے۔ ہم نہ رہے تو ہمارا نام بہرحال احترام سے لیا جائے گا۔
لالک جان شہید اور کرنل شیر خان شہید کی چھوڑی ہوئی میراث کو ان کے ساتھیوں نے کسی شبہ کے بغیر بہت آگے بڑھایا، 25 سال کے عرصہ میں جہاں تک تصور کرنا ممکن تھا، اس سے بہت آگے لے آئے۔ اس عظیم بلڈ اپ کی چوٹی پر ایک فیلڈ مارشل کا ظہور ہونا لازم تھا۔ وہ فیلڈ مارشل سامنے کھڑا انکسار کے ساتھ ہم سب کے سلیوٹ قبول کر رہا ہے۔

کمانڈر کا بنیادی فرض جنگ جیتنے سے بھی زیادہ بنیادی فرض اپنے فوجی کو زندہ واپس لانا ہوتا ہے۔ موت (شہادت) فوجی کی زندگی کی ایک حقیقت ہے لیکن شہادت سے بچانے کمانڈر کی اپنے کام پر کمانڈ کی معراج ہے۔ ہم سینے پر ہاتھ مار کر کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کمانڈر فیلڈ مارشل کہلانے کا حقیقتاً حق دار ہے۔ اس نے جس جنگ میں دشمن کی کمر توڑی اس جنگ میں سپاہیوں کی جانوں کے نذرانے اتنے قلیل ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ سپاہی دشمن کے پراکسی دہشتگردوں کے چھپ کر کئے بزدلانہ حملوں میں ہر مہینے شہید ہو رہے ہیں۔ ان حملوں کا تدارک کرنا اور دشمن کو ان کی قرار واقعی سزا دینا فیلڈ مارشل کی صلاحیت کا برٓ امتحان ہے اور ہمیں فیلڈ مارشل پر کامل یقین ہے۔
