قبضہ مافیا کی وجہ سے معاشرہ میں بے شمار مسائل اور مشکلات کی وجہ سے خاندان متاثر ہیں قبضہ مافیا کے پیچھے یا تو سیاست دانوں کا ہاتھ ہوتا ہے یا پھر علاقائی با اثر افراد ان کی پشت پناہی کرتے ہیں عدلیہ بھی قبضہ مافیا کے خلاف فیصلہ کرنے میں دیر کرتی ہے جس سے زمینوں پر قضبہ کے کیسز میں اضافہ ہوتا جاتا ہے لوگوں کے پاس اپنے گھر کی یا پلاٹ کی رجسڑی موجود ہوتی ہے لیکن قبضہ مافیا ان پر قابض ہوتا ہے کوئی ان کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتا ہے.
موجودہ حکومت نے ان قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز سخت اقدامات اٹھاٰئے ہیں اور سیاسی پشت پناہی کے خاتمہ کے لیےبھی منصوبہ بندی جاری ہے قبضہ گروپ ایسے اشخاص یا ٹولے کو کہا جاتا ہے، جو زبردستی یا غیر قانونی طور پر یا قابل اعتراض ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے کسی وسیلے (عام طور پر زمین کے کسی ٹکرے) پر قبضہ کر لیں۔
زمین ہتھیانے کی اس غنڈہ گردی کے لیے انگریزی سے ماخوز "لینڈ مافیا" (Land mafia) کی اصطلاح بھی مروج ہے۔ عام طور پر قبضہ کا نشانہ سرکاری اراضی بنتی ہے جیسا کہ پارک، سبز فضاء (green spaces)، ریلوے کی ملکیتی زمین، وغیرہ۔ اس کے علاوہ یتیموں، بیؤاں کی زراعتی اور رہائشی زمین پر قبضہ بھی سننے میں آتا رہتا ہے۔ اکثر یہ کسی سطح پر سرکاری اہلکار یا سیاسی رہنماء کی ملی بھگت سے کیا جاتا ہے۔ حالات اتنے سنگین ہو چکے ہیں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی 2005ء میں اس کے خلاف نئی قانون سازی کرنے کی "نوید" سنائی تھی۔ مبصرین کے مطابق ان گروہوں نے دہشت گرد تنظیموں کی خدمات حاصل کی ہوتی ہیں پنجاب بھر میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں، جعلسازی اور لینڈ مافیا کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ۔
پنجاب اسٹیٹ ایسیٹس ٹاسک فورس کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 433 ارب روپے مالیت کی 25,444 کنال سرکاری اراضی ناجائز قابضین سے واگزار کرا کے دوبارہ ریاستی تحویل میں دی جا چکی ہے۔ سرکاری زمینوں کے تحفظ، شفاف انتظام اور مؤثر استعمال کے لیے بورڈ آف ریونیو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ، جی آئی ایس بیسڈ لینڈ مینجمنٹ، ای-اسٹیمپنگ اور جدید پراپرٹی ٹرانسفر سسٹمز کے ذریعے اصلاحاتی اقدامات پر عمل پیرا ہوکر موثر کارروائیاں جاری ہیں سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم کامیابی سے ہوتی نظر آ رہی ہے تقریباً 15 کھرب روپے مالیت کی سرکاری اراضی ریاست کے قبضے میں واپس لائی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب صوبائی سطح پر جبکہ چیئرمین نیب قومی سطح پر پنجاب اسٹیٹ ایسیٹس ٹاسک فورس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے بعض افسران بھی سرکاری اراضی پر قبضوں کی سہولت کاری میں ملوث پائے گئے ہیں۔نیب کی توجہ صرف زمینوں کی واگزاری تک محدود نہیں بلکہ قبضہ مافیا کے پورے نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی پربھی مرکوز ہے۔ 2023 سے 2026 کے دوران نیب نے 15.6 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوریز حاصل کیں 2025 میں 115 ہزار سے زائد متاثرین کو تقریباً 180 ارب روپے کی رقوم واپس دلوانے میں معاونت فراہم کی گئی۔ نیب لاہور نے 2025 کے دوران 263.096 ارب روپے کی ریکوری یقینی بنائی 61 ہزار 700 متاثرین میں رقوم تقسیم کیں۔ اس وقت نیب لاہور ایسے بڑے عوامی فراڈ مقدمات پر کام کر رہا ہے جن میں 81 ہزار 90 متاثرین شامل ہیں مالی نقصان کا تخمینہ 124 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ناجائز قبضوں اور بدعنوانی سے متعلق شکایات سرکاری شکایات پورٹل پر درج بھی ہو رہی ہیں پنجاب حکومت نے قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں ججز پر مشتمل خصوصی ٹربیونلز قائم کر دیے ہیں۔ اس اہم اقدام کا مقصد شہریوں کو ان کی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں سے فوری نجات دلانا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان خصوصی ٹربیونلز میں تجربہ کار ججز خدمات سرانجام دیں گے جو قبضے سے متعلق مقدمات کی سماعت تیز رفتار بنیادوں پر کریں گے۔ ایسے تمام شہری جن کی زمین، گھر، دکان یا دیگر املاک پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہو، وہ اپنے متعلقہ ضلع میں قائم ٹربیونل سے رجوع کر سکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرین اپنی درخواستیں ضلعی سطح پر قائم فورمز میں جمع کرا سکتے ہیں، جہاں شواہد اور قانونی دستاویزات کی جانچ کے بعد جلد فیصلے کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف قبضہ مافیا کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بھی فروغ ملے گا۔قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی ٹربیونلز کے قیام سے برسوں سے زیر التوا قبضے کے مقدمات کے جلد نمٹنے میں مدد ملے گی اور متاثرہ شہریوں کو فوری ریلیف حاصل ہوگا۔پنجاب حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی بااثر فرد یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور غیر قانونی قبضوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے وجود میں آنے کے بعد عوام نے کیا سکھ کا سانس لیا ہے بلکہ ردعمل شدید سامنے آیا جس سے حکومت کے خلاف نفرت پیدا ہوئی قبضہ مافیا سے لوگ تنگ ہیں اگرچہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے "Ask PERA" پورٹل کو مزید فعال بنانے پیرا کو براہِ راست عوامی رابطہ بڑھانے کے لیے اقدامات بھی سامنے آئے۔
پیرا فورس میں ”اوئے سامان اٹھاؤ، نکلو“ کا مغرور کلچر بلکل نہیں کی حوصلہ شکنی کو برتری دی گئی، پیرا کا عدالتی محاذ پر 99 فیصد کنویکشن ریٹ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے،حکومت کا کہنا ہے کہ عوام پر رعب جھاڑنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کی پیرا فورس میں کوئی جگہ نہیں 351 ملازمین کو محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر واپس ان کے محکموں میں بھیج دیا گیا ہے، پیرا کا چالان سسٹم مکمل طور پر الیکٹرانک کیا جا رہا ہے 62 ہزار سے زائد ڈیجیٹل ریکوزیشنز پر کارروائیاں کر چکی جبکہ صوبہ بھر میں 15 لاکھ 27 ہزار 28 انسپکشنز مکمل کی جا چکی ہیں ان کارروائیوں کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 3 ہزار 509 دکانیں سیل کی گئیں، اینٹی انکروچمنٹ مہم کے تحت 21 ہزار کنال سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔ قیمتوں میں خودساختہ اضافے اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں اب تک 1700 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے عدالتی محاذ پر پیرا نے 136 رٹ پٹیشنز میں سے 99 فیصد مقدمات میں کامیابی حاصل کی، جوڈیشل مجسٹریٹس اور ہیئرنگ افسران کے سامنے بھی 98 فیصد کیسز میں ادارے کے حق میں فیصلے آئے۔ پیرا کا چالان مکمل کرنے کا تناسب 97 فیصد تک پہنچ چکا پیرا ایکٹ کے تحت مینوئل چالان پر پہلی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔
اینٹی انکروچمنٹ اور پرائس کنٹرول کے علاوہ ہر ایکشن کے لیے پیشگی ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی ہے، قانونی کارروائی کے دوران مزاحمت کا کلچر ختم ہونا چاہیےاور قانون کی بالادستی قائم ہونی چاہیے قبضہ گروپ کی وجہ سے عوام کئی سال مقدمات عدالتوں میں لڑتے ہیں جس سے ان کی معاشی اور معاشرتی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے قبضہ مافیا اگر ملک میں ختم ہو جائے تو بہت سی مشکلات کم ہو سکتی ہیں۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر