ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیلاب کا نتیجہ؛ وزیراعظم شہباز نئے ڈیم بنانے کے لئے پرعزم

Prime Minister Shahbaz, Climate Change, New Dams on Pakistani rivers, City42
کیپشن: file photo وزیراعظم شہباز شریف نے کلائمیٹ چینج کے زیر اثر آ رہی موسم کی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے نئے ڈیم بنانے کی بات دو دن مین دوسری بار کی ہے۔

سٹی42: وزیراعظم شہباز شریف نے چاروں وزرائے اعلیٰ کی مشاورت اور حمایت سے نئے ڈیموں کی تعمیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ حالیہ سیلاب سے قوم کو یہ ادراک ہوا کہ نئے ڈیم بنانا کس قدر ضروری ہے۔

 سب سے بڑادریا سندھ پر ڈیم بنانے کے لئے دوسرے صوبوں کی منظوری حاصل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اس لئے اس دریا پر ڈیم بنانا کئی سال سے لٹکا ہوا ہے۔ اب وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے معاملہ کو ترجیھی بنیاد پر طے کریں گے۔

نئے ڈیمز پر وزیراعظم نے آج کیا کہا

 وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے کل بدھ کے روز بھی نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے اہم اعلان سامنے آیا تھا، آج سیلاب زدہ علاقوں کے جائزہ وزٹ کے دوران  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، ہمیں  آنے والے سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا ہے، پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا،  پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا۔  ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کرنا ہوگا، ہمارے پاس کئی نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نارووال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزرا،  صوبائی وزراء اور این ڈی ایم اے حکام اور مقامی انتظمیہ کے اجلاس میں  خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، بارشوں سے گلگت بلتستان اور کے پی میں بہت جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ پنجاب کےمیدانوں سے شدید طغیانی گزر رہی ہے، سیلاب سے انسانی جانوں کے ضیاع پر ہم سب کو افسوس ہے۔ 2022 میں اس طرح کی آفت آئی  تھی اور تباہی ہوئی تھی، 2022 کی تباہی کا مرکزی نشانہ سندھ اور بلوچستان تھے۔  لاکھوں ایکڑ پر کاشت تیار فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔

وزیراعظم نے کہا، ا پنجاب حکومت، ریسکیو، پولیس، محکمہ ایری گیشن دن رات کام کر رہےہیں، جس پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، ٹیم ورک کی وجہ سے نقصان کو کم سے کم کیا جا رہا ہے۔

 
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ آنے والے سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا ہے۔

انہوں نے کہا،  پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا۔  ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کرنا ہوگا، ہمارے پاس کئی نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نئے ڈیمز کی تعمیر کے متعلق وزیر اطلاعات   نے کیا بتایا

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے کئی بار تبادلہ خیال ہوچکا ہے، وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل جلد از جلد ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ایک اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی ڈیموں کی تعمیر کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ صوبوں نے وفاق کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے ازالے میں کسی قسم کی سیاسی تفریق نہیں برتی جائے گی۔ ان کے مطابق پانی اترتے ہی نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

عطا اللہ تارڑ نے زور دیا کہ ملک کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے شجرکاری ناگزیر ہے اور درخت کاٹنے والوں کا سخت احتساب ہونا چاہیے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کئی بستیاں ڈوب چکی ہیں، سیالکوٹ، وزیرآباد، لاہور کے نواحی علاقہ شاہدرہ کے کئی آبادیوں  کی گلیاں، محلے اور بازار پانی میں ڈوب گئے، دکانوں اور گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا، جبکہ نارووال میں کرتارپور گوردوارہ بھی سیلابی ریلے کی زد میں آچکا ہے۔ پنجاب بھر مین سینکڑوں گاؤں میں پانی آ گیا ہے اور ابھی مزید گاؤں اور شہروں کو سیلاب کے پانی کی یلغار کا خطرہ ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر ستر سال بعد اور شاہدرہ کے مقام پر 39 برس بعد پانی کی یہ غیرمعمولی صورتحال دیکھی گئی ۔