ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انڈیا کےساتھ وہی کریں گے جوعمان کے ساتھ کیا، فول پروف سٹریٹیجی سامنےآگئی

Pakistan vs India, Asia Cup T20 Tournamint, Dubai Cricket Stadium, Dibai Wicket, Spiners' Wicket, Spin bolwer, Saim Ayub

سٹی42:  پڑوسی ملک  کے متعصب  دھڑوں نے کرکٹ کے سادہ سے میچ کو مہابھارت کا یدھ بنا ڈالا ہے تو پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھی اس میچ کو دوسری نطر سے دیکھنا پڑ رہا ہے۔ گرین شرٹس نے ایشیا کپ ٹی توینٹی کرکٹ  ٹورنامنٹ  میں روایتی حریف بھارت کے ساتھ میچ میں مخالفوں کی کمر توڑنے کے لئے  جارحانہ سٹریٹیجی بنا لی۔  اس سٹریٹیجی پر عمل کرتے ہوئے کل دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں بھارت کے  کھلاڑیوں اور پرستاروں کو شدید صدمات ملیں گے اور  گرین شرٹس کے پرستاروں کو سینے میں ٹھنڈ پڑ جائے گی۔

پاکستان کے سٹار بیٹر اور باؤلر  صائم ایوب نے آج صاف بتا دیا ہے کہ گرین شرٹس اپنے حریف کا دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں 'رام نام ستیہ..' کرنے کے لئے کیا کرنے والے ہیں۔

صائم ایوب نے آج انکشاف کیا ہے کہ  پاکستان بھارت کے ساتھ میچ میں تین سپنرز  کے ساتھ کھیلے گا۔

پاکستانی اوپنر نے مزید کہا کہ ہماری ٹیم ماضی کے میچوں کی طرف نہیں دیکھ رہی۔ ہم ماضی  سے آگے نکل  کر کھیل پر توجہ مرکوز کریں گے۔

یدھ کل شام ساڑھے ساتھ بجے شروع ہو گا
پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں بھارتی انتہا پسندوں کا  "یدھ" قرار دیا گیا میچ  کل  14 ستمبر کو  شام ساڑھے سات بجے شروع ہو گا۔

خاص طور پر بھارت میں، اس  کھیل کے لیے خاص تیاریاں تیز ہیں، دبئی میں ایک اچھے کھیل کی توقع کی جا رہی ہے۔ بھارتی ٹیم، کرکت فینز، سیاستدانوں اور عام شہریوں میں اس خاص میچ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی دوہری مشکل

بھارت میں کئی روز سے اس میچ کو لے کر یہ بحث  چل رہی ہے کہ بھارت کی حکومت نے کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کیوں دی ہے۔ کرکٹ کو سیاست کا ہتھیار بنا ڈالنے والی متؑصب حکومت نے طوی لعرصہ سے پاکستان کے خلاف ایک طرف تو بلوچستان اور خیبر پختون خوا مین اپنے پراکسی دہشتگردوں کے ذریعہ خوفناک جنگ چھیڑ رکھی ہے، اس جنگ کے دوران ہی اس نے   چھ مئی سے دس مئی کے دوران خود اپنی فوج کے ساتھ پاکستان پر بلا اشتعال حملے کے کے بہت غیر معمولی جنگ چھیڑ دی جس میں اسے سو سال تک یاد رہنے والی شرم ناک شکست ہوئی۔

گرین شرٹس کو آئیسولیٹ کرنے کی ہرکوشش کا المناک انجام

اس کے متوازی کرکٹ کے کھیل میں بھارت کی انتہا پسند متعصب حکومت پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو آئیسولیٹ کرنے کی بدترین کوششیں کئی سال سے کرتی آ رہی ہے اور ان سب کوششوں میں  بہت بری طرح ناکام ہوتی رہی ہے۔  بھارت کی حکومت کے زیر اثر کرکٹ بورڈ  نے کبھی پاکستان آ کر کرکٹ کی سب سے بڑی انٹرنیشنل ٹرافی کھیلنے سے منع کیا تو کبھی پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیا۔ اب بھارت کی حکومت نے اپنے گزشتہ تعصب بھرے دعووں کو فراموش کر کے  دبئی کے میدان میں  بھارتی ٹیم کو گرین شرٹس کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دی تو اس اجازت پر دوسرے انتہا پسند بھی سخت تنقید کر رہے ہیں اور عام  بھارتی بھی تنقید کر رہے ہیں۔

✌ جیت پاکستان کیلئے اہم!

اس صورتحال میں کل شام ہو رہے میچ میں جیتنا پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔

پاکستان کی ٹیم آج کا میچ (یا ٹی ٹوینٹی یدھ) جیتنے کے لئے کیا کر رہی ہے، پاکستانی کرکٹ فین یہ جاننے کے لئے بے تاب ہیں۔

صائم ایوب نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کل شام تین سپنرز کے ساتھ میدان میں اتر سکتی ہے۔

چیمپئینز ٹرافی اور اس سے پہلے امریکہ میں ہوئے ورلڈ کپ میں بھارت کی ٹیم نے وکٹوں کی ساخت اور اپنے کچھ سپنرز کی مدد سے کچھ اپ سیٹ کئے تھے، لیکن ایشیا کپ ٹی توینٹی ٹورنامنٹ میں صورتحال مختلف ہو چکی ہے۔ پاکستان کے پاس تین شاندار سپنر ہیں اور ان کے ساتھ ان کا ہاتھ بتٓنے والے سپنر بھی ہیں۔ 

ان ہاتھ بٹٓنے والوں مین خود صائم ایوب بھی ہیں جس نے کل ایشیا کپ  مین گرین شرٹس کے پہلے میچ مین اوور کئے اور وکٹیں بھی لیں۔

دبئی کی سپن وکٹ؛ بھارت کی سپنرز کی برتری کا خاتمہ!

 دبئی کی وکٹ کے بارے مین عام تاثر ہے کہ یہ سپنرز کو نوازتی ہے۔ پاکستان کل کے یدھ میں تین اعلیٰ سپنرز کے ساتھ اس وکٹ کو اپنی جیت کے لئے استعمال کرے گا۔ بھارت کو گزشتہ چیمپئینز ٹرافی میں جو سپنرز کی برتری رہی وہ اب نہیں رہے گی کیونکہ پاکستان کے تینوں سپنر بھارت کے تین سپنرز سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔

بظاہر دونوں ٹیموں کے پاس یکساں قسم کے سپنرز  ہیں - بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس (محمد نواز اور اکسر پٹیل)، بائیں ہاتھ کے کلائی سے سپن کرنے والے سپنر (سفیان مقیم اور کلدیپ یادیو) اور ایک ایک پراسرار سپنر (ابرار احمد اور ورون)۔ دبئی کی پچ سست گیند بازوں کی مدد کرتی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سا سپن اٹیک ٹاپ پر آتا ہے۔

انڈیا کےساتھ وہی کریں گے جوعمان کے ساتھ کیا

کھیل سے پہلے بات کرتے ہوئے، پاکستانی اوپنر صائم ایوب نے ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں میں رکھے جا رہے خاص الخاس کمبی نیشن کے بارے میں کچھ بات کی اور کہا کہ اگر پچ خشک ہے، جو دبئی میں ایک پیٹرن ہے، تو پاکستان اپنے تینوں سپنرز کو اسی طرح کھیلے گا جس طرح انہوں نے جمعہ کو عمان کے خلاف کھیلا تھا۔

 عمان کے ساتھ کھیلتے ہوئے پاکستان نے  ساری ٹیم کو ساڑھے 16 اوورز میں آؤٹ کر دیا تھا۔

"ٹیم کے مجموعہ کے بارے میں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں،" صائم ایوب نے پریس کانفرنس میں کہا۔

وکٹ خشک ہوئی تو گرین شرٹس کے سپنر دھمال کریں گے

"میچ کے دن، یہ سب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ پچ کیسی ہے۔ اگر یہ خشک دکھائی دیتی ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ سپنرز اہم کردار ادا کریں گے، اس لیے ہم تین سپنرز کے ساتھ چلیں گے۔  اگر ہمیں لگتا ہے کہ فاسٹ بولر ضروری ہے، تو کوچ اس کے مطابق فیصلہ کر سکتے ہیں۔"

یہ میچ ہی نہیں ٹورنامنٹ جیتنے پر توجہ!

صائم ایوب نے مزید کہا کہ پاکستان ماضی کے کھیلوں کو بالکل بھی نہیں دیکھ رہا ہے جہاں وہ ہندوستان کو مختصر ترین فارمیٹ میں ہرا نہیں سکتا تھا، اور صرف آگے دیکھنے کی کوشش کرے گا اور کھیل اور ٹورنامنٹ جیتنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔

"یادوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ٹورنامنٹ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہم صرف پاک بھارت میچ کے منتظر نہیں ہیں۔ ہم ٹورنامنٹ جیتنے کے منتظر ہیں۔"

لوگوں کے لیے ایک بڑا میچ ہونے والا ہے

صائم ایوب نے کہا کہ میرے خیال میں یہ ہماری ٹیم مینجمنٹ کا گزشتہ تین سے چار ماہ کا پیغام ہے۔ سب سے اہم چیز ماضی سے سیکھنا اور آگے بڑھنا ہے۔

"ہم ماضی کو یاد نہیں کرنا چاہتے اور مستقبل پر زیادہ توجہ نہیں دینا چاہتے۔ یہ لوگوں کے لیے ایک بڑا میچ ہونے والا ہے۔ ہم اسے ایک ٹیم کے طور پر اس طرح نہیں دیکھتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اگلے میچ میں دن بہ دن اسی عمل کی پیروی کرتے ہیں۔"