ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 نیپال میں پہلی خاتون وزیراعظم نے حلف لے لیا

Justice Sheela Karki, Nepal's Interim Prime minister , Bloody revolt in Nepal

نیپال میں بغاوت کے بعد  عارضی اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے دو دن کی کھینچا تانی ختم ہو گئی اور  سابق جج کو عارضی وزیراعظم بنا دیا گیا۔

نیپال کی پہلی خاتون وزیراعظم نے حلف لے لیا۔ کئی گروہوں اور نوجوانوں کی اچانک  بغاوت کے بعد  نیپال کے وزیراعظم نے عہدہ چھوڑ دیا تھا، اس کے باوجود تشدد کے لئے سڑکوں پر نکلے گروہوں نے پارلیمنٹ کی عمارت کو اور سپریم کورٹ کو آگ لگا دی تھی۔

شہر میں دو دن کے خونریز ہنگاموں کے بعد فوج نے کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی عارضی وزیراعظم کے تقرر کے لئے کئی گروہوں کی رسہ کشی شروع ہو گئی تھی جو دو دن جاری رہی۔ آج ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ سیاسی نقشہ بدل گیا ہے۔ بغاوت کے ایک سرگرم گروہ کے لیڈر کٹھمنڈو کے مئیر کے ہاتھ اب تک کچھ نہیں آیا اور سابق چیف جسٹس شیلا کرکی کو عارضی وزیراعظم بنا دیا گیا۔
سابق چیف جسٹس سشیلہ کرکی نے جمعہ کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔

 کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف شدید احتجاج ن کے دوران تشدد کے واقعات نے وزیراعظم کے پی شرما کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا تھا۔

73 سالہ خاتون شیلا کرکی نوجوان مظاہرین کی غیر متوقع حمایت یافتہ رہنما بن کر ابھریں۔

اس بغاوت کے دوران کئی  نیپالی وزرا اور  ان کےاہل خانہ  فوجی ہیلی کاپٹر وں کی رسیوں سے لٹک کر اپنے گھروں سے بھاگ کر جانے بچانے پر مجبور ہوئے۔ 

شیلا کرکی 2016 میں نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر ہوئیں اور کرپشن کے خلاف سخت مؤقف کے باعث مشہور رہیں۔

ماہرین کے مطابق وہ بحران کے اس وقت میں دیانت داری اور قانون کی بالادستی کی علامت سمجھی جا رہی ہیں۔

نیپال پولیس کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں اب تک 51 افراد ہلاک اور 1700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔