ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گیمنگ پلیٹ فارمز۔۔دہشت گرد نوجوانوں اور بچوں کو منفی کاموں کیلئے استعمال کرنے لگے،اقوام متحدہ رپورٹ

 گیمنگ پلیٹ فارمز۔۔دہشت گرد نوجوانوں اور بچوں کو منفی کاموں کیلئے استعمال کرنے لگے،اقوام متحدہ رپورٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: GOOGLE
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ (یو این او) کی سلامتی کونسل کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹوریٹ کی ایک تازہ ترین ٹرینڈز رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کیلئے گیمنگ پلیٹ فارمز، انتہائی پُرتشددمشمولات اور منفی آن لائن ذیلی ثقافت کا سہارا لے رہے ہیں۔ وہ اس پروپیگنڈے کا استعمال صرف ایک مواصلاتی ذریعے کے طور پر نہیں  بلکہ اپنی مہمات کے اہم بنیادی ڈھانچے کے طور پر کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی ’’بیونڈ میسجنگ: ٹیررسٹ پروپیگنڈا ایز آپریشنل انفراسٹرکچر‘‘ کے عنوان سے شائع ہونیوالی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بھرتی، انتہا پسندی پھیلانے، فنڈنگ جمع کرنے،عملی منصوبہ بندی اور یہاں تک کہ اپنے زیر اثر علاقوں میں حکومت سے متعلق سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کیلئے گمراہ کن پروپیگنڈے کا استعمال کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ اس پروپیگنڈے کا استعمال صرف ایک مواصلاتی ذریعے کے طور پر نہیں  بلکہ اپنی مہمات کے اہم بنیادی ڈھانچے کے طور پر کر رہے ہیں۔

یو این او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد نئی نسل کو متاثر کرنے کیلئے گیمنگ پلیٹ فارمز کے علاوہ  آن لائن ایکو سسٹم میں پُرتشدد انتہا پسندانہ نظریات کے بڑھتے ہوئے ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنفی تشدد اور خواتین مخالف آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کو بھی تشویش کا باعث بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیا میں متحرک دہشت گرد گروہ مقامی شکایات سے فائدہ اٹھانے اور رقم اکٹھا کرنے کیلئے پروپیگنڈے کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹوریٹ نے خبردار کیا ہے کہ دہشتگرد گروہوں کی تیز رفتاری سے بدلتی ہوئی حکمت عملیوں اور رکن ممالک، قانونی ڈھانچوں نیز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ردِعمل کی صلاحیت کے درمیان ایک بڑا ’فرق‘ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی مخالف اقدامات کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے دائرے میں رکھتے ہوئے  پروپیگنڈے کو صرف مشمولات نہ سمجھ کر دہشت گردی کے اہم محرک کے طور پر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
  

ایس ایم عتیق شاہ بخاری سٹی نیوز نیٹ ورک سے وابستہ سینئر صحافی ہیں جو صحافت کی دنیا میں 25 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔