نیپال میں اچانک تشدد پھوٹ پڑنے، بظاہر غیر منظم بے سمت نوجوانوں کے کٹھمنڈو کی سڑکوں پر ہنگامے کے دوران پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، وزرا کے گھروں، وزیر اعظم اور سابق وزیر اعظم کے گھروں کو جلا دینے کے مربوط واقعات، وزیراعظم اور صدر کے استعفوں نے دنیا کو حیران اور تشویش میں مبتلا کر دیا تھا، اب یہ تشویشناک سوال سامنے آ رہا ہے کہ کیا نیپال مین حکومت گرانے کا کھیل پڑوسی ملک بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی نے کروایا ہے۔
بھارت کی دوسرے ملکوں کے اندر سازشیں کرنے، تخریب کاریاں کرنے، ٹارگٹ اسیسی نیشن کرنے اور بغاوتوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے کے لئے بدنام ایجنسی "را" کے سابق اہلکار کی کئی ماہ پہلے نیپال میں حکومت گرنے کی پراسرار پیشگوئی وائرل ہو رہی ہے۔
آج بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق اہلکار لکی بِشٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں اس نے کئی ماہ پہلے ہی نیپال میں حکومت گرنے کی پیشگوئی کر دی تھی حالانکہ اس وقت نیپال مین ہر طرف امن تھا اور کوئی ایسی وجہ سامنے نہیں تھی کہ حکومت کا تختہ ہی الٹ جائے۔
را کے کارندے لکی بِشٹ نے یوٹیوب پر 13 دسمبر کو اپ لوڈ کی جانے والی ایک پراسرار پوڈکاسٹ میں کہا، " آج آپ کو یہ بات حیران کن لگے گی لیکن آپ کچھ دن بعد دیکھیں گے کہ نیپال کی حکومت گرنے والی ہے۔"
اب لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ را کے کارندے کو دسمبر میں کیسے پتہ تھا کہ کچھ ہی مہینوں میں نیپال میں انہونی ہو گی۔ تجزیہ کی بنیاد ہمیشہ سامنے موجود حقائق ہوتے ہیں۔ جس وقت لکی نے یہ بیان ریکارڈ کیا اور اسے اپنی "ٹارگٹ آڈئینس" کے لئے سوشل میڈیا پر پہنچایا، اس وقت کوئی ایسے شواہد سامنے یا حالات کی تہہ کے نیچے نہیں تھے جو کسی نارمل انسان کو آج نیپال کے تشدد کی پیش گوئی تک لے جا سکتے۔
لکی بِشٹ نے 13 دسمبر کی پوڈ کاسٹ میں کہا کہ 10، 15 دن یا زیادہ سے زیادہ ایک مہینے بعد خبر آنے والی ہے کہ نیپال کی حکومت جو 2 مہینے پہلے ہی بنی تھی پھر سے گرنے والی ہے۔
خیال رہےکہ اس ہفتے نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد اچانک غیر متوقع تشدد شروع ہو گیا اور ایسے لوگ سڑکوں پر تشدد کرتے دیکھے گئے جن کی کوئی سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں ہے۔ جو بظاہر غیر معروف ہیں اور جن کے پاس انتہائی درجہ کے تشدد میں ملوث ہونے کی بظاہر کوئی وجہیں نہیں ہیں۔ اس سارے تشدد کو ابتدا مین یوتھ کا غصہ قرار دیا گیا اور یہ خاص تاثر بھی منظم انداز سے پھیلایا گیا کہ یہ سب کچھ یوتھ کا غصہ کروا رہا ہے۔ اس تشدد کے نتیجے میں وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
Ex-RAW officer Lucky Bisht had predicted the Nepal crisis a month ago. ???? pic.twitter.com/0hgs9YDZPC
— Meme Farmer (@craziestlazy) September 11, 2025
وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد بھی مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا اور متعدد سرکاری اور نجی عمارتوں اور سیاستدانوں کے مکانات پر حملے کیے توڑ پھوڑ کی۔ وزیراعظم کے بعد صدر کو بھی استعفیٰ دینا پڑا۔ اس وقت نیپال کی فوج حالات کو سنبھال رہی ہے جس کے سربراہ بھارت کی فوج کے اعزازی جنرل بھی ہیں۔
آج سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی کے "سابق" اہلکار کو نیپال کی حکومت گرائے جانے کا پہلے سے پتہ تھا تو شاید اسے یا کسی اور کو یہ بھی پتہ ہو گا کہ حکومت گرائے جانے کے بعد نیپال کدھر جائے گا یا اسے کدھر گھسیٹا جائے گا۔

