سٹی42: کٹھمنڈو میں نام نہاد جنریشن زی کے تشدد بھرے مظاہروں کے دوران سابق وزیراعظم کی بیوی کو زندہ جلا دیا گیا۔
کھٹمنڈو میں سوشل میڈیا پر منظم گروپوں کی قیادت میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے درمیان، مظاہرین نے دولت مند اشرافیہ کی آبادی میں گھس کر سابق وزیر اعظم جھالا ناتھ کھنال کی رہائش گاہ کو آگ لگا دی۔ سابق وزیراعظم کی بیوی راجی لکشمی چترکر (جنہیں رابی لکشمی چترکر بھی کہا جاتا ہے) گھر کے اندر پھنس گئی تھیں۔ اب یہ تصدیق ہوئی ہے کہ انہیں آگ لگ گئی تھی۔ شدید جھلسنے کے زخم آئے اور انہیں کٹھمنڈو کے کیرتی پور برن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔
کٹھمنڈوں میں یہ تشدد اور انتشار بھری بدامنی 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومت کی جانب سے قلیل مدتی پابندی لگانے کے اعلان کے بعد پھیلی ہے جسے بہت سے لوگ حکومتی سنسرشپ کے طور پر دیکھ اور بتا رہے تھے۔
سوشل میڈیا پر پابندی نے بڑے پیمانے پر سڑکوں پر تشدد کو جنم دیا، بڑے پیمانے پر آتش زنی ہوئی۔ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، صدر اور وزیر اعظم کے گھر سب کچھ جلا ڈالا۔
اہم سیاسی شخصیات کے گھروں، عوامی اداروں اور میڈیا کی عمارتوں پر آتش زنی کے حملوں میں ب ہونے والے تمام نقصان کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی۔
دیگر پرتشدد واقعات کے علاوہ، وزیر خزانہ بشنو پرساد پوڈیل کو سڑک پر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جب مظاہرین نے ان کا پیچھا کیا اور ان پر جسمانی حملہ کیا تاہم وہ اپنی جان بچانے مین کاپیاب ہو گئے۔۔
نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے بعد میں غیر مستحکم صورتحال اور شدید عوامی دباؤ کے درمیان آئینی حل کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ وزیراعظم کے بعد صدر نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت نیپال میں فوج حکومت کا کنٹرول اور اختیار سنبھال چکی ہے۔
سیاق و سباق
نیپال مین اچانک پھوٹ پڑنے والی بغاوت کا بظاہر کوئی ایجندا نہیں تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے جنریشن زی کا احتجاج کا نام دیا۔ بظاہر اس کی وجہ صرف سوشل پلیت فارمز کو نیپال مین ریگولیٹ کرنے کی حکومتی کوشش بنی ۔سوشل میڈیا پر نیپال میں بدعنوانی، اقربا پروری، بے روزگاری، اور دیگر بہت عام مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا اور پھر جب سوشل میدیا کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش ہوئی تو سوشل پلیٹ فارمز پر ہی منظم لوگوں نے اسے پر تشدد احتجاج میں بدل دیا۔ ۔
آج تشدد نے دارالحکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سنگھا دربار، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔
اہم شخصیات کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر حملہ کیا گیا، جن میں شیر بہادر دیوبا، پشپا کمل دہل "پراچندا"، صدر رام چندر پاڈیل اور دیگر شامل ہیں۔
منگل کی رات تک موصول ہونے والی خبروں کے مطابق ہنگاموں میں مرنے والوں کی تعداد 19 سے بڑھ کر تقریباً 20-22 ہو گئی ہے، جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔
صرف آج کے دن کے دوران نیپال میں ایک انتہائی المناک اور تیزی سے سامنے آنے والی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ریاست کے اثاثوں کے ساتھ جانوں کا المناک نقصان ہوا ہے جس میں ایک بے گناہ سابق خاتون اول کی جان بھی شامل ہے- اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

