سٹی42: سیاچن گلیشیر میں ایوالانچ (برفانی تودہ) گرنے سے بھارتی آرمی کے 3 فوجی جوان فوت ہو گئے۔ 5 فوجی اب تک تودے کے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایک کیپٹن کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقہ میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 1984 کے بعد سے اب تک بھارتی آرمی کے 1000 سے زیادہ فوجی جوان یہاں موسم کی وجہ سے فوت ہو چکے ہیں۔
دنیا کا سب سے اونچا میدانِ جنگ سمجھے جانے والے سیاچن گلیشیر میں بڑے پیمانے پر برفانی تودے گرے ہیں۔ برفانی تودے کی زد میں آنے کے سبب وہاں بھارتی فوج کے کیمپ میں تعینات 3 فوجی فوت ہوگئے ہیں۔
برفانی تودہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی فوجی افسران نے فوری طور پر امدادی ٹیم موقع پر روانہ کر دیں۔ امدادی ٹیم نے ریسکیو اینڈ ریلیف کا کام شروع کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سیاچن کے برفزار مین برفانی تودے کی زد مین آ کر مرنے والے تینوں جوان مہار رجمنٹ سے تھے۔ ان کا تعلق گجرات، اتر پردیش اور جھارکھنڈ کی ریاستوں سے تھا۔
رپورٹس کے مطابق 5 فوجی جوان برفانی تودے میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ایک کپتان کو بچا لیا گیا ہے۔ فوج کی امدادی ٹیمیں لیہہ اور ادھم پور سے مدد لے رہی ہیں۔
سیاچن گلیشیر کو دنیا کا سب سے اونچا میدانِ جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ بہت زیادہ ٹھنڈا علاقہ ہے، جہاں پر برفیلے طوفان فوجیوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ یہ علاقہ قراقرم سلسلے کے مشرقی حصے میں آتا ہے۔یہ گلیشئیرسمندر کی سطح سے 5400 میٹر یعنی تقریباً 18000 فٹ اونچائی پر ہے۔ سیاچن گلیشیر میں کچھ علاقے 7500 میٹر یعنی تقریباً 24000 فٹ کی اونچائی پر بھی ہیں۔
سیاچن گلیشیر کی کل لمبائی 76 کلومیٹر ہے ۔ یہ دراصل دوسرا سب سے بڑا غیر قطبی گلیشیر ہے۔ سردیوں میں یہاں کا درجہ حرارت 50- ڈگری تک گرتا ہے۔ سیاچن کا خطہ ہندوستان-پاکستان اور چین کے کنٹرول میں موجود علاقوں کی سرحد کے مثلث پر واقع ہے۔ یہ علاقہ سٹریٹجک نقطہ نظر سے بہت حساس ہے۔
پاکستان سارے سیاچن پر اپنا حق تصور کرتا ہے تاہم اس کے کچھ حصے پر بھارتی فوج کا کنترول ہے اور باقی حصے پر پاکستان کا کنٹرول ہے۔