ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، صدر، وزیراعظم کے گھر نذر آتش؛ نیپال کے وزیرخزانہ پر تشددکی ویڈیووائرل ہوگئی

Kathmandu violence, Nepal disaster, Generation Z protests , Viral video, Finance minister

سٹی42: نیپال کے وزیر خزانہ پر کٹھمندو کی سڑک پر مشتعل مظاہرین کے حملے اور تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہو رہی ہے۔ نیپال کے وزیراعظم اور صدر کٹھمنڈو میں پرتشدد  احتجاجوں کے دوران استعفے دے چکے ہیں۔

حکومت کے کئی وزیر کرپشن کے الزامات کو لے کر احتجاج کرنے والے ہجوم کے غصے کا نشانہ بنے، ان میں وزیر خزانہ  بھی شامل تھے، انہیں سڑک پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نیپال میں پرتشدد مظاہرے

کٹھمنڈو میں  بڑے پیمانے پر مظاہرے  آج سامنے آئے جن میں بنیادی طور پر نیپال کی جنریشن Z کے نام سے گروپ بنیادی کردار ادا کر رہا تھا۔ 

یہ مظاہرے 8 ستمبر 2025 کو شروع ہوئے، تقریباً 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جن میں Facebook، X، YouTube، LinkedIn، Reddit، اور Snapchat شامل ہیں، ان سب پر نیپال کی حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ اس متنازعہ حکومتی پابندی سے  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پہلے سے منظم لوگوں کا احتجاج شروع ہوا جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ 

نیپال کی حکومت کی سوشل میڈیا پر  پابندی ایک ریگولیٹری پش کا حصہ تھی جس میں پلیٹ فارمز کو نگرانی کے لیے رجسٹر کرنے کی ضرورت تھی، لیکن اسے بڑے پیمانے پر سنسرشپ کے طور پر سمجھا گیا اور اس نے شدید ردعمل کو جنم دیا۔

مہلک جھڑپوں میں اضافہ

کھٹمنڈو میں مظاہرین نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس، پانی کی توپوں، ربڑ کی گولیوں اور گولہ بارود سے جواب دیا۔ جھڑپوں کے دوران کم از کم 19 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

سیاسی نتائج اور استعفے

وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے بڑھتے ہوئے شہری بدامنی کے درمیان سیاسی ذرائع سے حل کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا پر پابندی ہٹا دی گئی۔

آرڈر کی بحالی

حکام نے بدامنی پر قابو پانے کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو میں غیر معینہ مدت کا کرفیو اور دوسرے شہروں میں محدود کرفیو نافذ کر دیا۔ حکومت نے سوشل میڈیا کی پابندیاں واپس لیتے ہوئے متاثرین کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مفت طبی امداد اور 15 روزہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا۔

تباہی کا پیمانہ

تشدد کے ساتھ ساتھ، مظاہرین نے کٹھمنڈو میں  کئی اہم سرکاری مقامات کو آگ لگا دی۔ ان عمارتوں میں پارلیمنٹ،  سپریم کورٹ۔ وزیراعظم اور صدر کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں اور لئی بڑی سیاسی جماعتوں کے دفاتر بھی شامل ہیں۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے کانتی پور ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نذر آتش کر دیا ۔

سیاق و سباق اور معنی

بظاہر یہ احتجاج بدعنوانی، اقربا پروری، معاشی جمود، اور حکومتی احتساب کے فقدان کے بارے میں گہری شکایات کو لے کر کیا گیا ۔ لیکن اشتعال پھیلنے کی وجہ سوشل پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کے قانون کو بتایا جا رہا ہے۔  مظاہروں کی شدت اور اس کے نتیجے میں حکومتی ردعمل نیپال کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ ہے۔