ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیپال میں کنٹرول فوج نے سنبھال لیا، کابینہ کام جاری رکھے گی

Bepal unrest, nepal violence, Generation Z protests, General Ashok

سٹی42: نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں کیاؤس عروج پر ہے، پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگائی جا چکی ہے، وزیراعظم اور صدر اپنے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ ایسے میں فوج کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کریں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ دینے اور کئی اہم وزرا کے استعفوں کے باوجود موجودہ کابینہ برقرار رہے گی۔ اس وقت کٹھمنڈو میں انتظامیہ کا عملاً فوج کے سربراہ نے سنبھال لیا ہے۔ 

نیپال کے  آرمی چیف نے افراتفری اور بدامنی کو ختم کرنے کے لیے تمام فریقوں سے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔
نیپال کے آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدل نے منگل کی رات ایک ویڈیو بیان دیا ہے جس مین انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جاری احتجاج کے درمیان مذاکرات کی میز پر آئیں اور بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

اپنے  ویڈیو خطاب میں، جنرل اشوک راج  سگدل نے احتجاج میں شامل گروپوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے احتجاج کو روک دیں۔  اور آگے بڑھنے کا پرامن راستہ تلاش کرنے کے لیے بات چیت میں شامل ہوں،  جنرل اشوک نے اس بات پر زور دیا  کہ بات چیت استحکام کی بحالی اور مزید ہنگامہ آرائی سے بچنے کی کلید ہے۔

اپنے بیان میں نیپال کے آرمی چیف نے شہریوں کے تحفظ کا عہد کیا،  انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ پرامن حل تلاش کریں
 جنرل اشوک راج سگدل نے جاری بدامنی کے درمیان شہریوں کے تحفظ کے لیے فوج کے مکمل عزم کا وعدہ کیا ہے۔ اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے، انہوں نے لوگوں، قومی املاک اور سفارتی مشنوں کی حفاظت کے لیے فوج کے فرض پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ فوج عوام، قومی اثاثوں اور سفارتی اداروں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے تحفظ اور  مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد اور حب الوطنی کی میراث چھوڑ کر سرگرمیاں ذمہ داری کے ساتھ کی جانی چاہئیں۔