سٹی42: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حماس کے بغیر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد مین فلسطین کا مسئلہ حل کر کے لئے پہلے سے طے شدہ دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے اور یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فلیسطین میں حماس کو نہیں ہونا چاہئے۔ اسے حماس کے بغیر فلسطین کے 2 ریاستی حل کی قرارداد کہا جا رہا ہے۔
حماس کو بہت سے ملک اس کی مسلسل دہشتگردی کے زمرہ میں آنے والی سرگرمیوں کی وجہ سے دہشتگرد مانتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سعودی عرب اور فرانس کی جانب سے پیش کیے گئے ’نیو یارک اعلامیے‘ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 2 ریاستی حل پر زور دیا گیا ہے، تاہم اس عمل میں حماس کو شامل نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔
فرانس اور سعودی عرب کی پیش کی ہوئی اس قرارداد کے حق میں 142 ووٹ آئے جبکہ امریکہ، اسرائیل اور 8 دوسے ملکوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی، اقوام متحدہ کے 12 ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ اس اہم قرارداد کے متن میں حماس کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے اس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے اندر سے اغوا کئے گئے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
" نیویارک اعلامیہ" میں کہا گیا ہے، ’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو (اسرائیل کے) شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتی ہے‘ اور تمام یرغمالیوں کی فوراً رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ عالمی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
اس سے پہلے نیویارک میں عالمی کانفرنس میں یہ زور دیا گیا تھا کہ دو ریاستی حل ہی امن کی کنجی ہے۔
اب نیویارک اعلامیہ کی دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ منصفانہ، پائیدار اور پرامن تصفیے کے لیے دو ریاستی حل کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔ مزید کہا گیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے حماس کو غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرکے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنا ہوں گے تاکہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔
اس اعلامیے پر پہلے ہی عرب لیگ کی جانب سے توثیق کے بعد جولائی میں 17 رکن ممالک نے دستخط کیے تھے۔ آج ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 2 ریاستی حل پر اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس 22 ستمبر کو دوبارہ منعقد کی جائے گی، جو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی پرتشدد صورتحال کے باعث مؤخر کردی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے قرارداد منظور ہونے کے بعد حماس کا فلسطین کے مستقبل میں کوئی کردار باقی رہنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
انٹرنیشنل کرائس گروپ کے اقوام متحدہ میں ڈائریکٹر رچرڈ گوون کے مطابق، یہ قرارداد اسرائیلی اعتراضات کے خلاف فلسطینی حامی ممالک کے لیے ایک ’ڈھال‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ اسرائیل اس اقدام کو ناکافی اور تاخیر کا شکار قرار دے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنرل اسمبلی نے پہلی مرتبہ حماس کی براہِ راست مذمت کرنے والے متن کی توثیق کی ہے۔‘
