ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  نیپال کے کرنسی نوٹ پر بھارتی مقبوضہ علاقہ کی فوٹو؛ کانگرس وزیراعظم مودی پر چڑھ دوڑی

nepal New Currency note, city42, Central Bank of Nepal, Congress Party, x post, viral x post, Utrakhand
کیپشن: نیپالی مرکزی بینک کے جاری کئے ہوئے سو روپے کے نئے کرنسی نوٹ کا عکس

نیپال نے اپنے کرنسی نوٹ پر اپنے علاقہ کی تصویر آویزاں کرنے کی جسارت کیا کر لی، بھارت میں تو کہرام ہی برپا ہو گیا؛ بظاہر لبرل جماعت کانگرس کے نیتا بھی نیپال کی خود مختاری کے اس بے باک اظہار سے ایسے برافروختہ ہوئے کہ سر پر بانہہ رکھ کر زار و قطار رونے بیٹھ گئے۔

’یہ حرکت برداشت نہیں کی جا سکتی‘، نیپال کی کرنسی پر ہندوستان کےمقبوضہ علاقہ  کی تصویر دیکھ کر کانگریس ناراض ہو گئی اور  نام نہاد حب الوطنی جتلانے کےلئے نریندر مودی کی حکومت سے پہلے کانگرس نے نیپال کو دھمکی دے ڈالی۔
نیپال نے اپنے 100 روپے کے نوٹ پر جو نقشہ لگایا ہے، اس میں ہندوستان کے  قبضہ میں کئی نیپالی علاقوں کی فوٹو  شامل ہے۔ کمزور پڑوسی کی اس جسارت کےمعاملے کو لے کر  کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر حملہ کیا ہے اور اس سے جواب مانگا ہے۔

بھارت کا میڈیا آج رپورٹ کر رہا ہے کہ نیپال کے کرنسینوٹ پر اس علاقہ کی فوٹو کیوں آگئی جس پر بھارت کا مدت سے قبضہ ہے۔ نیپال کی حکومت عرصہ دراز سے اپنا علاقہ واپس مانگ رہی ہے لیکن بھارت اپنے کمزور پڑوسی کے منصفانہ مطالبہ پر کبھی کان نہیں دھرتا۔ اب یہ ہوا کہ نیپال کے مرکزی بینک نے جو نیا سو روپے والا نوٹ نکالا اس پر عین اس ہی علاقہ کی تصویر چھاپ دی جسے نیپال اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔

بھارت کی نیپال سے ملحق متنازعہ علاقوں پر مشتمل اتروناچل کے بیشتر علاقہ کو چین اپنا علاقہ تصور کرتا ہے اور اتراکھنڈ کا کچھ علاقہ ایسا ہے جسے نیپال تاریخی شواہد اور حقائق کے ساتھ اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ 

نیپال کا نیا کرنسی نوٹ کثیر تعداد میں چین کے پریس میں  چھپا ہے، چین کی حکومت نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، یعنی چین کی حکومت نیپال کے اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے، لیکن اس کرنسی نوٹ کے نیپالی عوام کے ہاتھوں میں جاتے ہی بھارت میں کہرام ہو گیا۔

آج اس معاملے کو لے کر اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے اور اس تعلق سے جواب طلب کیا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ  کی جس میں لکھا ہے کہ ’’نیپال نے اپنے 100 روپے کے نئے نوٹ پر جو نقشہ لگایا ہے، اس میں ہندوستان کے کئی خطوں کو اپنا بتایا ہے۔ یہ حرکت کہیں سے بھی برداشت نہیں کی جا سکتی ہے۔ مودی حکومت کو اس پر سخت لہجے میں نیپال کو جواب دینا چاہیے۔‘‘
 
کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔اپوزیشن اتحادی کی مرکزی پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’آج مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا خمیازہ پورا ملک برداشت کر رہا ہے۔ کبھی چین اروناچل پردیش کو اپنا حصہ بتاتا ہے، تو کبھی نیپال اپنے نقشہ میں "ہندوستان کے علاقوں"  کو شامل کرتا ہے۔‘‘

فوراً ہی وائرل ہو جانے والی اس ایکس پوسٹ میں کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’یہ معاملہ بتاتا ہے کہ مودی حکومت نے خارجہ پالیسی کے نام پر صرف رِیل بازی کی ہے۔ ایس جئے شنکر نے آنکھوں سے لیزر لائٹ نکلوائی ہے اور نریندر مودی نے نئے نئے پوز میں تصویریں کھنچوائی ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ نیپال کے سنٹرل بینک نے جو 100 روپے کا نیا نوٹ جاری کیا ہے، اس پر ’لپولیکھ‘، ’کالا پانی‘ اور ’لمپیادھورا‘ کو نیپال میں شامل دکھایا ہے۔ یہ وہی علاقے ہیں جو سالوں سے بھارت کے مقبوضہ ہیں اور  کچھ عرصہ پہلے تشکیل دی انتہائی شمالی ریاست اتراکھنڈ کا حصہ ہیں۔ 

کیونکہ اب نیپال اپنے مقبوضہ علاقوں کو واپس حاصل کرنے کے لےئ زیادہ پر عزم دکھائی دے رہا ہے، اسی وجہ سے کٹھمنڈو کے اس قدم کو ہندوستان-نیپال تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا سبب بتایا جا رہا ہے۔
نیپالی نیشنل بینک کے افسران کے مطابق پہلے بھی 100 روپے کے نوٹ پر نیپال کا نقشہ چھپتا تھا، لیکن اب اسے 2020 میں جاری کیے گئے اس سرکاری نقشہ کے حساب سے بدل دیا گیا ہے، جس میں تینوں علاقے نیپال کی حدود  میں دکھائے گئے تھے۔ دیگر کرنسی نوٹوں میں کسی علاقے کا نقشہ نہیں دکھایا جاتا، یہ صرف سو روپے والے نوت پر ہی ہوتا ہے۔  100 روپے کے نوٹ  ہر نیپالی کی جیب میں موجود رہتے ہیں اور روزانہ لین دین میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کرنسی نوٹ یہی ہوتا ہے۔ اب  بھارت کے قبضہ میں موجود نیپالی علاقہ ہر نیپالی کی آنکھوں کے سامنے رہا کرے گا، یہ ہی بھارت میں کہرام کی وجہ ہے۔