ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیپال کے نئے کرنسی نوٹ نے بھارتیوں کی نیندیں اڑا دیں

Nepal's new currency note, Utrakhand, Nepali territory
کیپشن: نیپال کے نئے کنسی نوٹ نے اتراکھنڈ مین شامل کئے گئے نیپالی مقبوضہ علاقے واپس لینے کے نیپالی قومی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس نوٹ کے اجرا سے بھارت کے حکمرانوں کی نیدندین اڑنا لازم ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  نئے کرنسی نوٹ پر بھارتی مقبوضہ علاقہ کو اپنا علاقہ ظاہر کرنے کا دلیرانہ اقدام کر کے نیپال کی پہاڑی ریاست نے بھارت کی ہندوتوا پرست حکومت کو اس کی اصل اوقات دکھا دی۔ نئے کرنسی نوٹ نیپالی عوام کے ہاتھوں میں آنے سے بھارت میں توسیع پسندوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔

بھارت کے میڈیا میں اب یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ نیپال کے نئے کرنسی نوٹ سے بھارت نیپال تنازعہ بڑھ جائے گا۔ تنازعہ بڑھنے سے درایا جا رہا ہے کہ معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔

نیپال کے مرکزی بینک نے نیا کرنسی نوٹ جاری کر دیا ہے جس پر نیپال کے ان علاقوں کی تصویر ہے جن پر بھارت جبراً قابض ہے۔

نئے کرنسی نوٹ کو لے کر بھارت کا مودی نواز اور بظاہر لبرل میڈیا سب یہ چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ نیپال کے نئے کرنسی نوٹ سے بھارت نیپال سرحدی تنازعہ بڑھ جائے گا۔

نیپال نے 100 روپے کے نئے نوٹ پر چھاپے گئے نقشہ میں کالاپانی، لپولیکھ اور لمپیادھورا کو شامل کیا ہے۔ بھارت کا میڈیا رو رہا ہے کہ  اس قدم سے پرانا سرحدی تنازع دوبارہ بھڑک سکتا ہے اور نیپال–ہندوستان تعلقات میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ لیکن بھارت کی حکومت ابھی اس "تنازعہ بڑھ جائے گا" والی قیاس آرائیوں سے خوفزدہ دکھائی دیتی ہے کیونکہ خاموش ہے۔
 
کھٹمنڈو میں جین زی انقلاب کے بعد اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، یہ ضرور ہو گیا کہ  نیپال کے مرکزی بینک نے 100 روپے مالیت کے نئے نوٹ جاری کئے ہیں، جن پر ان علاقوں کا  نقشہ  شامل ہے جن پر  نیپال دعویٰ رکھتا ہے اور "بڑا بھائی" کی نقاب اوڑھ کا واردات کرنے والا پڑوسی بھارت بھی دعویٰ رکھتا ہے۔ 

 ان  نیپالی سرحدی علاقوں، کالاپانی، لپولیکھ اور لمپیادھورا کو پہلی مرتبہ بینک نوٹ پر اس انداز سے دکھایا گیا ہے جس سے نیپالی عوام کا یہ یقین راسخ ہو جائے گا کہ یہ علاقے نیپال کا حصہ ہیں۔ یہ بظاہر نیپال کا سو فیصد داخلی معاملہ ہے لیکن بھارت میں اس پر یوں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے جیسے کمزور پڑوسی نیپال نے راتوں رات بھارت کا کوئی علاقہ قبضہ میں لے لیا ہو۔ نام نہاد "ماہرین"  نیپال کے کرنسی نوٹ کو لے کر  دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے سفارتی تناؤ کی شروعات کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

نیپال نے پانچ سال پہلے اپنے علاقوں کو اپنے علاقے کہا

نیپال نے تقریباً 5 برس قبل اپنا سیاسی نقشہ تبدیل کرتے ہوئے ان تینوں علاقوں کو باضابطہ طور پر ملک کی سرحدوں میں شامل کر لیا تھا۔ اس سے پہلے پچیس سال سے بھارت ان علاقوں کو ہڑپ کرنے کی سسٹمیٹِک کوشش کر رہا تھا۔

پانچ سال پہلے نیپال کی پارلیمنٹ نے دستور میں ترمیم منظور کی تھی، جس کے ذریعے ان علاقوں کو نیپال کی زمین کا حصہ قرار دیا گیا۔ اس قدم پر ہندوستان نے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اب اسی ترمیم شدہ نقشے کو پہلی بار قومی کرنسی پر جگہ دی گئی ہے۔
نیپال راسٹر بینک (این آر بی) کے ترجمان گرو پرساد پاؤڈیل کے مطابق 100 روپے کے کرنسی نوٹ پر نقشہ حکومت کے فیصلے کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’چائنا بینک نوٹ پرنٹنگ اینڈ منٹنگ کارپوریشن نے 100 روپے کے تین سو ملین نوٹ فراہم کیے ہیں، جنہیں اب جاری کر دیا گیا ہے۔‘‘

شاید بھارت میں نئے کرنسی نوٹ سے بغض دکھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ چین میں چھاپے گئے ہیں۔ 

بھارت کا نیپالی علاقوں پر قبضہ کا پرانا خواب

سنہ 2020 میں ہندوستان نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں ان سرحدی علاقوں کو شامل دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد نیپال نے بھی جوابی قدم اٹھاتے ہوئے اپنا نقشہ شائع کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی مرتبہ بات چیت کے باوجود یہ تنازع حل نہیں ہو سکا اور سرحدی حدبندی کا مسئلہ مسلسل ایک حساس معاملہ بنا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ کالاپانی، لپولیکھ اور لمپیادھورا نیپال کی شمال مغربی سرحد اور ہندوستان کی(چین کے مطابق مقبوضہ)  ریاست اتراکھنڈ کے بیچ واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی نوٹ پر نقشہ شامل کرنے سے "مذاکرات کے عمل" میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ نیپال راسٹر بینک 5، 10، 20، 50، 100، 500 اور 1000 روپے کے نوٹ جاری کرتا ہے لیکن نقشہ صرف 100 روپے کے نوٹ پر موجود ہے۔  تازہ تبدیلی اسی ایک نوٹ تک محدود ہے۔