ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملا متقی کے بھارت جا کر پاکستان کے خلاف بیانات؛ پاکستان نے افغان سفیر کو طلب کر لیا

Foreign Office of Pakistan, City42, Afghan Taliban, Interim Afghan regime, City42, Kashmir dispute, Afghanistan Pakistan escalation

سٹی42:  پاکستان نے افغانستان کے سفیر کو  طلب کر کے  گزشتہ روز  بھارت میں جاری ہونے والے بھارت افغانستان مشترکہ اعلامیے پر شدید تحفظات کا اظہا رکیا ہے ۔ 

اسلام آباد مین فارن آفس کے ترجمان نے بتایا کہ افغان انٹیریم حکومت کے عبوری وزیرِ خارجہ نے بھارت جا کر جو بیانات دیئے ہیں، ان پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ 

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کا حوالہ یو این کی قراردادوں کے خلاف ہے۔  ایسا بیان جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔  مشترکہ اعلامیہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں اور حق خودارادیت کی جدوجہد کے حوالے سے نہایت بے حسی کا مظہر ہے۔

 پاکستان کے ترجمان نے  کہا کہ ہم دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ  قرار دینے کا افغان نگران وزیرِ کا بیان بھی مسترد کرتے ہیں،  پاکستان متعدد بار افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کی موجودگی سے افغانستان کو آگاہ کر چکا ہے۔   اِن دہشت گرد گروہوں کی پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کی تفصیلات افغانستان سے شیئر کی گئیں ۔

  افغانستان کی عبوری حکومت دہشتگردی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کراپنی ذمہ داریوں سےبری الذمہ نہیں ہوسکتی۔   افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنے  علاقہ مین موجود دہشتگردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔ 

 پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً 40 لاکھ افغان باشندوں کی میزبانی کی۔  افغانستان میں بتدریج امن کی بحالی کے بعد اب وقت آگیا ہےکہ غیرقانونی مقیم افغان وطن واپس جائیں۔

  دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی اپنی سرزمین پر غیرملکیوں کی موجودگی کو منظم کرنے کا حق حاصل ہے۔  افغان شہریوں کی واپسی کے ساتھ ان کی طبی وتعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے،افغان شہریوں کیلئے میڈیکل اور اسٹڈی ویزے کے اجرا میں فراخ دلی سے کام لیا جا رہا ہے۔

 اسلامی اخوت اور اچھی ہمسائیگی کے جذبے کے تحت پاکستان افغان عوام سے تعاون جاری رکھے گا۔   پاکستان ایک پُرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان دیکھنا چاہتا ہے،  اسی مقصد کے تحت افغانستان کیساتھ تجارت، معیشت اور رابط بڑھانے کی ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے، افغانستان کے حوالے سے یہ اقدامات دونوں ممالک کی باہمی ترقی و خوشحالی کےلئے ہیں۔