سٹی42: پڑوسی ملک کے دارالحکومت دہلی میں سیلاب سنگین ہو گیا۔ دریائے جمنا کا سیلابی پانی مزید بڑھ کر سکریٹریٹ تک جا پہنچا۔ پہلے بنائے گئے فلڈ ریلیف کیمپ بھی سیلاب کے پانی مین ڈوب گئے۔ شہر بھر میں آمدورفت بری طرح ٹھپ ہو گئی۔
آج بھی دیلی کے سنگم وِہار، کالکاجی سمیت شہر کے کئی حصوں میں جھماجھم بارش ہوئی ہے۔ جمنا دریا مسلسل خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ دہلی میں سیلاب کا یہ دوسرا دن ہے۔
دہلی کا وسیع علاقہ سیلاب کی نذر ہو گیا ہے اور مزید علاے سیلاب کے سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ آج جمعرات کی صبح بھی یہاں جھماجھم بارش ہوئی ہے۔ خاص طور پر سنگم وِہار، کالکاجی سمیت شہر کے کئی حصوں میں بارش سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔
جمنا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے اور اس کا اثر اب سیدھے طور پر انتظامی اور عام زندگی پر دکھائی دینے لگا ہے۔ دہلی سکریٹریٹ تک سیلاب کا پانی پہنچ گیا ہے، وہیں میور وِہار فیز-1 میں بنائے گئے ریلیف کیمپ بھی ڈوب گئے ہیں۔ دوسری طرف این ایچ-44 پر علی پور کے پاس فلائی اوور کا حصہ دھنس گیا، جس میں ایک گاڑی پھنس گئی اور ڈرائیور زخمی ہو گیا۔

سکریٹریٹ، ریلیف کیمپ اور نسبتاً اونچی سڑکوں تک پانی پہنچنے سے یہ صاف ہے کہ دہلی اس وقت سیلاب کی شدید مار جھیل رہی ہے اور لوگوں کے سامنے تحفظ کا بھی بڑا چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔
جمنا فلڈ پلین سے متصل دہلی سکریٹریٹ کے انڈر پاس میں پانی بھر رہا ہے جسے نکالنے کے لیے سکشن پائپس بھی لگائے گئے ہیں لیکن فی الحال پانی بھرا نظر آ رہا ہے۔ جمنا ندی کی سطح بڑھنے سے کشمیری گیٹ علاقے کے کچھ حصوں میں پانی بھر گیا ہے۔ ڈرون سے لی گئی تصویروں میں دکھائی دے رہا ہے کہ جمنا کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کشمیری گیٹ بس ٹرمینل بھی زیر آب آ گئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق بدھ کی صبح سویرے سے جمنا کی سطح 207.47 میٹر پر مستحکم بنی ہوئی ہے۔ دیر رات 2 بجے سے صبح 6 بجے تک آبی سطح میں نہ تو اضافہ ہوا اور نہ ہی کمی آئی۔ خطرے کا نشان 205.33 میٹر ہے اور دریا میں پانی اس خطرے کے نشان سے سات فٹ زیادہ ہو چکا ہے۔
سب سے زیادہ پریشانی دہلی کے آئی ٹی او چوراہے پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بدھ کو راج گھاٹ کی طرف جانے والا راستہ انتظامیہ نے احتیاطاً بند کر دیا تھا۔ یہاں سڑک پر پانی بھرنے سے آمد و رفت بُری طرح متاثر ہوئی۔ رِنگ روڈ کے قریب واقع سرکاری دفاتر کے باہر بھی پانی بھرنے سے افرا تفری کا ماحول ہے۔ سیویز کا پانی نکاسی نہ ہونے سے سیدھے سڑکوں پر پھیل رہا ہے۔ ایسے میں آنے جانے والے لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انڈیا کا میٹ ڈیپارٹمنٹ شمالی ہند میں آفت کی برسات اور دہلی میں 6 ستمبر تک بارش برستے رہنے کا امکان بتا رہا ہے۔
، پنجاب کو شدید بارشوں اور سیلب کی وجہ سے پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔
بارش کا اثردہلی کی سڑکوں اور بنیادی ڈھانچوں پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ این ایچ-44 پر علی پور کے پاس بنا فلائی اوور دھنس گیا۔ حادثے میں ایک تھری وہیلر پھنس گیا اور اس کا ڈرائیور زخمی ہو گیا۔ حادثے کے باوجود وہاں سے گزر رہی گاڑیوں کی آمد و رفت نہیں رکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فلائی اوور کے نیچے کی مٹی مسلسل کٹ رہی ہے اور اگر وقت رہتے ٹریفک روکا نہیں گیا تو بڑا حادثہ ہونے کا خطرہ ہے۔
حالات مزید خراب تب ہو گئے جب سیلاب زدہ عوام کیلئے کے لیے بنائے گئے بڑے ریلیف کیمپ بھی پانی میں ڈوبنے لگے۔ میور وہار فیز-1 کے قریب بنائے گئے کئی ریلیف کیمپوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ یہاں پناہ لینے والے لوگ اب دوہری مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک طرف گھروں سے منتقل ہونا اور دوسری طرف ریلیف کیمپوں میں بھی محفوظ جگہ نہ ملنا۔
ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ دہلی سکریٹریٹ کے انڈر پاس میں تیزی سے پانی بھر رہا ہے۔ یہاں سے آنے والا پانی سیدھے سکریٹریٹ کے احاطے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے تحفظ کو لے کر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالات پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹریفک ڈائیورزن سمیت دیگر قدم اٹھائے جائیں گے۔

