دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے سانحہ کا سوشل میڈیا پر شور مچنے کے بعد علی امین گنڈا کی حکومت نے کئی افسراں کو معطل کردیا۔ سانحے کی تحقیقات کیلئے وزیراعلیٰ کے حکم پرانکوائری ٹیم تشکیل دے دی گئی۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے "سیاحت کو آمدن کا ذریعہ" بنانے کے لئے کئی سال کے دوران زور دار تہشیری مہمیں چلائیں جن میں پی ٹی آئی کے بانی پیش پیش رہے، ان تشہیری مہموں سے متاثر ہو کر اب لاکھوں کو خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقوں میں جاتے ہین، وہاں سیاح تو بے شمار آتے ہین لیکن ان کی حفاظت کے لئے صوبائی ھکومت نے مناسب انتظامات کبھی نہیں کئے۔ اس کے نتیجہ میں حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ ایک بہت خوفناک حادثہ پی ٹی آئی کی وفاق، پنجاب اور خبیر پختونخوا مین حکومتوں کے دوران مری جانے والی سڑک پر ہوا تھا جہاں رات کے وقت درجنوں افراد برف کے طوفان میں پھنس کر اپنی گاڑیوں میں مر گئے تھے۔
آج سوات میں دریا مین اچانک پانی کا ریلا آنے کے وقت دریا میں موجود بہت سے بچے، عورتیں اور مرد پانی میں بہہ گئے تھے، ریسکیو کارکنوں نے فوری کارروائی کر کے جتنے لوگوں کو بچا سکتے تھے بچا لیا، بہت سے پانی مین بہہ گئے، نو افراد کی لاشین مل گئیں اور اتنے ہی افراد اب تک لاپتہ ہیں۔
اب وزیراعلیٰ کے حکم سے ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے سربراہ وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کے چیئرمین ہوں گے۔
کمیٹی سانحے کی وجوہات اورذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پرکئی افسر معطل کردے گئے جن میں اسسٹنٹ کمشنربابوزئی بھی شامل ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کو پانی کے ریلے کی پیشگی وارننگ نہ دینے پر اور اے ڈی سی کو ریلیف کے پیشگی انتظامات نہ کرنے پرمعطل کیا گیا۔
علی امین گنداپور نے ریسکیو1122کےضلعی انچارج کو بھی اڑا دیا ۔ ریسکیو ٹیم نے فوری کارروائی کا آغاز کیا تھا اور علاقہ کے لوگوں اور متاثرین سب نے ریسکیو اہلکاروں کے کام کو خڑاج تحسین پیش کیا لیکن وزیراعلیٰ نے ضلع سوات کے ریسکیو کے چیف کو معطل کرندیا۔ ترجمان نے مزید کہاکہ جاں بحق افراد کے ورثاکو فی کس 10 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
خیال رہے کہ آج دریائے سوات کا سیلابی ریلا 17 افراد کو بہا لے گیا، 9 افراد جاں بحق ہو گئے اور 4 کو بچالیا گیا جبکہ چار کی تلاش جاری ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق صبح ناشتے کے بعد سیاح تصویریں لینے کے لیے کشتیوں پر بیٹھ کر دریا کے درمیان واقع ایک چند گز چوڑے اور چند گز لمبے خشک حصے پر چلے گئے ، اچانک دریا مین پانی بڑھ گیا، دریا کے بیچ مین بنے اس ٹیلے پر موجود لوگ وہیں پھنس گئے، ان مین سے اکثر عورتین اور بچے تھے۔ یہ لوگ جان بچانے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے رہے، مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن دریا کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ کوئی اس کے سامنے ٹھہر نہ سکا۔
لوگوں کو بچانے کی مقامی افراد کی کوششیں ناکام ہوگئیں، ڈوبنے والوں میں سے 10 کا تعلق سیالکوٹ، 6 کا مردان سے تھا اور ایک بدقسمت شہری سوات کا رہائشی تھا۔
26 اگست 2022 کو ضلع لوئر کوہستان کے علاقے سناگئی دوبیر میں 5 دوست تین گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔
پانچوں دوست اچانک سیلابی ریلے کی زد میں آنے کے بعد ایک بلند پتھر پر چڑھ گئے اور تین گھنٹے تک وہ حسرت اور بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ پانچوں دوست امداد کا انتظار کرتے رہے مگر کوئی سرکاری ادارہ یا ریسکیو ٹیم نہ پہنچی اور وہ بہہ گئے۔
اس وقت بھی سیاحوں کی حفاظت کے انتظام کا بہت شور مچا تھا، اس وقت بھی خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ھکومت تھی، اس وقت سے لے کر آج تک سیاحوں کو بلانے کی مہمیں تو بہت چلائی جاتی ہین لیکن سیاحوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔