ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس، حامد خان کے رویہ نے جج سےسماعت چھڑا دی

مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس، حامد خان کے رویہ نے جج سےسماعت چھڑا دی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : مخصوص نشستوں سے  متعلق نظر ثانی کیس سننے  والا سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے ایک جج نے سماعت میں شرکت روک دی۔

نجی ٹی وی کے مطابق  سپریم کورٹ میں جاری مخصوص نشستیں کی نظر ثانی کیس کی سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین  پنہور نےکیس سننے سے معذرت کرلی جس پر کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کی سماعت دس منٹ کے لئے روکی گئی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد لازم ہے، ضروری ہے کسی فریق کا بینچ پر اعتراض نہ ہو۔

جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ حامد خان نے بینچ میں کچھ ججز کی شمولیت پر اعتراض کیا، جن ججز کی 26 ویں ترمیم کےبعد بینچ میں شمولیت پراعتراض ہوا میں بھی ان میں شامل ہوں، میں ان وجوہات کی بنا پر بینچ میں مزید نہیں بیٹھ سکتا، میں اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں۔

جسٹس صلاح الدین نے وکیل حامد خان سے کہا کہ  آپ کا اعتراض ہمارے اس بینچ میں بیٹھنے سے تھا، ذاتی طور پر تو آپ کا میرا ساتھ 2010 سے رہا ہے،  آپ کےدلائل سے میں ذاتی طور پر رنجیدہ ہوا مگریہاں میری ذات کا معاملہ نہیں ہے۔ 

جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ ججز  پر جانبداری کا الزام لگاجس سے تکلیف ہوئی، عوام میں یہ تاثرجانا کہ جج جانبدار ہے، درست نہیں ہے۔ 

اس موقع پر وکیل حامد خان نے کہا کہ میں آپ کے اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں،  اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ خیرمقدم کرنے کا معاملہ نہیں ہے، ہم اسی کیس میں "سنی اتحادکونسل کے دوسرے وکیل" کو سن رہے ہیں۔ 

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل حامد خان کو سرزنش  کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپ کے کنڈکٹ کی وجہ سے ہوا ہے، ہم نے آپ کا لحاظ کرتے ہوئے آپ کو موقع دیا، آپ اس کیس میں دلائل دینے کے حقدار نہیں تھے۔ 

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کردیا۔ 

Ansa Awais

Content Writer