ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی تمام مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی، سپریم کورٹ کا حکم آ گیا

 پی ٹی آئی تمام مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی، سپریم کورٹ کا حکم آ گیا

سٹی42:  سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں (خواتین اور مذبی اقلیتوں کی) مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔ مخصوص نشستوں کے مشہور کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے ابھی سنایا ہے۔  پی ٹی آئی کو دی گئی مخصوص نشستیں منسوخ کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے 13 رکنی بنچ نے کیا، فیصلہ کے حق میں سات اور مخالفت میں  چھ ججوں نے رائے  دی ہے۔ 

مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کے فیصلے کے خلاف  نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔  نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ سنانے کے لئے جج معمول کا کام تمام ہونے کے بعد دوسری مرتبہ عدالت میں آئے۔ عدالت میں رپورٹروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو اس کیس کے فیصلہ کی لائیو رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ 

جسٹس امین الدین،جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مسرت ہلالی نے اکثریتی فیصلہ دیا، جبکہ جسٹس شاہد بلال،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ہاشم کاکڑ بھی اکثریتی ججز میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ جسٹس علی باقر نجفی بھی اکثریتی فیصلہ دینے والے ججز میں شامل ہیں۔ 

جسٹس امین الدین نے تمام ساتھی ججوں کے بی ہاف پر مختصر فیصلہ سنایا۔ نیوز چینلز نے ان لمحات کو لائیو نشر کیا۔

 سپریم کورٹ نے نظرثانی کی درخواستیں منظور کرلیں اور 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سات ججز کی اکثریت نے نظرثانی کی درخواستیں منظور کیں۔

اس فیصلہ کے نتیجہ میں پی ٹی آئی قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی ہے۔ اب یہ مخصوص نشستیں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں انتخابی نشان کے  ساتھ الیکشن لر کر پہنچنے والی تمام سیاسی پارٹیوں میں ان کی الیکشن میں جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے تقسیم کر دی جائیں گی۔