ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شہباز بلاول اتحاد کی دو تہائی اکثریت بحال ہو گئی

Two third mejority, PPP-PMLN alliance, City42, Supreme Court's verdict, reserved seats

سٹی42: سپریم کورٹ آف پاکستان کے مخصوص نشستوں کے فیصلہ پر نظر ثانی کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سنانے کے بعد قومی اسمبلی مین مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ایک بار پھر دو  تہائی اکثریت مل گئی ہے۔

آج شام سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ  نے مخصوص نشستوں کے مقدمہ مین سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلہ کے خلاف نطر ثانی کی اپیلیں منظور کر لیں۔ ان اپیلوں کو منظور کر لئے جانے سے وہ فیصلہ منسوخ ہو گیا جس کے تحت پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کا ایک سیاسی جماعت کی ھیثیت سے الیکشن نہ لڑنے کے باوجود خواتین اور مذہبی القیتوں کی مخصوص نشستیں عطا کر دی گئی تھیں۔

8 فروری  2022 کے عام انتخابات مین پی ٹی آئی اپنے انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے کے سبب سیاسی جماعت کی حیثیت سے شریک نہیں ہوئی تھی۔ اس پارٹی کے حامیوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لرے تھے اور کچھ لوگ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن جیت گئے تھے، بعد میں ان لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی تھی، اس کے کچھ بعد وہ پی ٹی آئی مین شامل ہو گئے تھے۔ پی ٹی آئی نے عدالتوں میں یہ درخواستین دیں کہ پی ٹی آئی کے قومی، صوبائی اسمبلیوں میں ارکان کے تناسب سے اسے مخصوص نشستیں دی جائیں۔

طویل مقدمہ بازی کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دے دیا تھا۔ اس دوران یہ مخصوص نشستین مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور دوسری پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو مل چکی تھیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد دوسری سیاسی جماعتوں کے مخصوص نشستوں  پر منتخب ہو چکے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے یہ نشستین چھین لی گئی تھیں اور پی ٹی آئی کو اس کی فراہم کردہ لسٹ کے مطابق یہ نشستین دے دی گئی تھیں۔

جب یہ مخصوص نشستیں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ملیں تو ان پارٹیوں کی ملا کر قوم یاسمبلی مین دو تہائی اکثریت ہو گئی تھی،  یہ نشستین پی ٹی آئی کو دے دیئے جانے سے اتحادی حکومت  قومی اسمبلی میں اکثیرت سے محروم ہو گئی تھی، اب آج کے فیصلہ کے بعد قوم یاسمبلی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کی دو تہائی اکثریت بحال ہو جائے گی۔

دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکمران اتحاد آئین میں ترمیم کر سکتا ہے۔