ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست کا خاتمہ ہو گیا؟

پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست کا خاتمہ ہو گیا؟

مخصوص نشستوں کا کیس کیا ہے، اب تک کیا کچھ ہوا

سٹی42:  سپریم کورٹ آف پاکستان کے مخصوص نشستوں کے مشہور کیس کا فیصلہ آنے سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں بہت بڑا عددی انقلاب آ گیا اور حکومت آئین میں ترامیم کرنے کے لئے درکار دو تہائی اکثریت بحال ہو گئی جو اسے  8 فروری  2024 کی الیکشن کے بعد پارلیمنٹ میں حاصل ہوئی تھی۔ یہ مخصوص نشستوں کا کیس کیا ہے، یہ جاننے مین سب کو دلچسپی ہے۔

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس میں اٹارنی جنرل کے دلائل آج مکمل ہوئے اور ان دلائل کے ساتھ ہی نظر ثانی کیس کی سماعت مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے دلائل پہلے مکمل ہو چکے تھے۔ تیرہ رکنی بنچ کے ایک معزز جج  جسٹس صلاح الدین  سنی اتحاد کونسل کے وکیل کے اعتراض کو لے کر آج آخری سماعت میں بنچ سے الگ ہو گئے تھے، آج فیصلہ 13 رکنی بنچ کے  12 ججوں نے سنایا۔ 

 سماعت مکمل ہونے کا اعلان کرنے کے ساتھ بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے اعلان کیا کہ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنایا جائے گا۔

آج شام  ہی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے تمام جج دوبارہ بیٹھے اور سربراہ جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ سنایا۔

 نظرثانی کی ان اپیلوں کی 17 سماعتیں ہوئیں اور جسٹس صلاح الدین نے ان اپیلوں کی سماعت کے آخری روز سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان کی جانب سے اعتراض اٹھائے جانے کے بعد ان اپیلوں کی سماعت سے معذوری ظاہر کی تھی۔

 سپریم کورٹ نے 5 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت سے نظر ثانی درخواستیں منظور کرلیں اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔عدالت اعظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ مخصوص نشستیں نہ پاکستان تحریک انصاف کو مل سکتی ہیں اور نہ ہی سنی اتحاد کونسل کو۔

اصل درخواست پشاور ہائی کورٹ میں دائر ہوئی

پشاور ہائی کورٹ میں مخصوص نشستیں دینے کے لئے درخواست سنی اتحاد کونسل نے دائر کی تھی، عدالت نے مفصل سماعت کے بعد پی ٹی آئی کی الیکشن لڑے بغیر مخصوص نشستیں مانگنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی  کی درخواست پر متنازعہ فیصلہ

پشاور ہائی کورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد سنی اتحاد کونسل نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جہاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں  تیرہ رکنی بنچ نے اس کی سماعت کی اور پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ سنا دیا۔ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی اور اس نے مخصوص نشستیں مانگی ہی نہیں تھیں۔

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے اپیلوں کی سماعت مکمل کر کے  12 جولائی 2024 کو اس کا فیصلہ سناتیا تھا۔  جسٹس منصور علی شاہ  اور ان کے ساتھی  آٹھ ججوں نے اکثریت کی بنا پر  فیصلہ دیا تھا کہ یہ مخصوص نشتیں پاکستان تحریک انصاف کو دی جائیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف نہ تو پشاور ہائی کورٹ اور نہ ہی سپریم کورٹ میں درخواست گزار تھی۔سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں واحد  اپیل کندہ تھی۔

اس فیصلے میں بہت بڑے فلا Flaw تھے  جن کی تفصیلی فیصلہ سے بھی کوئی وضاحت نہیں ہوئی تھی۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلہ  کے خلاف نطر ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔

معاملہ کیا تھا

پی ٹی آئی نے عرصہ دراز سے اپنا انترا پارٹی الیکشن نہیں کروایا تھا۔ آئین کے تحت الیکشن کمیشن نے یہ حکم دیا کہ پی ٹی آئی اپنا انترا پارٹی الیکشن کروائے ورنہ اسے آئندہ کسی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملے گی۔ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کی ہدایت کی تعمیل کرنے میں ناکام رہی اور  8 فروری 2024 کا الیکشن آ گیا۔

انٹراپارٹی الیکشن نہ کرنے کی وجہ سے فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں دیا گیا، اس کے امیدواروں نے سیاسی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کی بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا، کچھ جیتے کچھ ہار گئے۔ پی ٹی آئی اس الیکشن میں پارٹی کی حیثیت سے شریک ہی نہیں تھی۔

الیکشن کے بعد دوسرے  مرحلہ میں قوم یاسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی  متناسب نمائندگی اصول کے تحت تقسیم کا مرحلہ آیا تو الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ میں آنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کو مخصوص نشستین ان کی جنرل الیکشن میں ملنے والی نشستوں کے تناسب سے تقسیم کر دیں۔

پی ٹی آئی جو  الیکشن میں شریک ہی نہیں تھی، اسے کوئی نشست بھی نہیں ملی۔   مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد قوم یاسمبلی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت مل گئی تھی۔

 اس دوران پی ٹی آئی کی پراکسی سیاسی جماعت سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستیوں کی تقسیم کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے مفصل سماعتوں کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مؤقف کو صحیح تسلیم کر لیا اور سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج کر دی تھی۔ 

الیکشن کمیشن نے نظر ثانی درخواست دائر کر دی

الیکشن کمیشن آف پاکستان اور  سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی بعض خواتین نے سپریم کورٹ کے 12 جولائی 2024 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت چھ مئی سے سپریم کورٹ کے 13 رکنی آئینی بینچ نے کی تھی اور اس بینچ میں پی ٹی آئی کو نشستین دینے کا فیصلہ کرنے والے آٹھ ججز میں سے چار جج شامل تھے  جن میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں، جنھوں نے مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ ان دونوں ججوں نے  دونوں جج  نظرثانی کی ان اپیلوں کی پہلی سماعت کے بعد دلائل کو سنے بغیر ہی  ہی ان درخواستوں کو "مسترد" کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ اس بارے میں پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے کا حصہ تھے تاہم نظرثانی کے اس فیصلے میں انھوں نے اپنے گذشتہ فیصلے پر نظرثانی کی ہے۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان کا موقف تھا کہ نظرثانی کی اپیلوں کو صرف وہی جج  سن سکتے ہیں جنھوں نے پہلے اس مقدمے کو سنا ہو , موجودہ جج نظرثانی کی ان اپیلوں کو نہیں سن سکتے۔

اس نام نہاد اصول کو اختیار کرنے میں رکاوٹ یہ تھی کہ  گزشتہ فیصلہ میں اخثریتی فیصلہ دینے والے صرف چار ہی جج دستیاب تھے۔

آج فیصلہ کا امپیکٹ

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن ان خواتین کا بطور رکن قومی اور صوبائی اسمبلی دوبارہ نوٹفیکیشن جاری کرے گا جنھیں 12 جولائی کے آٹھ رکنی ججز کے اکثریتی فیصلے کی روشنی میں ڈی نوٹیفائی کردیا گیا تھا۔
 اس  فیصلے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں سینٹ کے انتخابات بھی منعقد ہوں گے جو نظرثانی کی ان اپیلوں کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔