حکومتی احکامات نظر انداز، گلشن راوی تاحال سیل نہ کیا جاسکا

حکومتی احکامات نظر انداز، گلشن راوی تاحال سیل نہ کیا جاسکا

( عثمان علیم ) شہر کے مزید سات علاقوں کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا معاملہ، گلشن راوی میں تاحال لاک ڈاؤن نہیں کیا جا سکا، گلشن راوی کی تمام مارکیٹس اور دکانیں کھلی رہیں جبکہ ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے جبکہ رہائشیوں کی غیر ضروری نقل و حرکت روکنے کے لیے بھی کوئی خاص اقدامات نہ کیے جا سکے۔

کورونا کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر محکمہ داخلہ کی جانب سے شہر میں ماڈل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، والڈ سٹی، گلبرک، ڈی ایچ اے، ماڈل ٹاؤن اور گلشن راوی کو مکمل سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، جس پر کل رات 12 بجے عملدرآمد کروایا جانا تھا مگر گلشن راوی میں ان احکامات پر عملدرآمد یقینی نہ بنایا جا سکا ۔

لاک ڈاؤن کے پہلے روز ہی گلشن راوی کی تمام مارکیٹس اور دکانیں کھلی رہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی جبکہ رہائشیوں کی غیر ضروری نقل و حرکت روکنے کے لیے بھی کوئی اقدامات نہ کیے گئے۔

محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق گلشن راوی کو مکمل سیل کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گلشن راوی میں کورونا مریضوں کی تعداد 212 ہے  جس پر 7 ہزار 842 گھروں پر مشتمل علاقے کو سیل کیا جانا تھا مگر نہ کیا جا سکا۔ گلشن راوی میں 19 ہزار 605 فیملیز آباد ہیں جہاں آبادی 72 ہزار 315 ہے۔

یاد رہے حکومت کی جانب سے گزشتہ جمعہ کو شہر میں 53 علاقوں کو مکمل سیل کیا گیا تاہم ان علاقوں کو سیل کرنے کے دوران پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو شکایات موصول ہوئیں کہ ایسے بھی علاقوں کو سیل کیا گیا ہے، جہاں کورونا کیسز موجود ہی نہیں جس کے بعد صوبائی کابینہ نے ان علاقوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے چالیس ایسے علاقوں کا انتخاب کیا جہاں کورونا کیسز موجود تھے۔

دوسری جانب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ حکومتی نوٹیفیکیشن اپنی جگہ لیکن ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے جن علاقوں کی نشاندہی کی ان علاقوں کو سیل کیا گیا ہے۔