انور عباس:امریکی مشن کے ترجمان کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے مشتبہ امریکی ویزا فراڈ اور ویزا کے غلط استعمال سے متعلق معلومات جمع کرانے کے لیے عوامی آن لائن ٹِپ پورٹل شروع کر دیا ہے۔نئے آن لائن نظام کے ذریعے عوام مشتبہ ویزا فراڈ سے متعلق معلومات آسان اور قابلِ اعتماد طریقے سے جمع کرا سکتے ہیں، جن کا بروقت جائزہ لے کر ضروری کارروائی کی جا سکے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ویزا فراڈ کے ایسے دسیوں ہزار معاملات کی نشاندہی ہوئی جن میں افراد کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان میں سے بہت سے معاملات عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے ذریعے سامنے آئے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق ویزا فراڈ میں جعلی یا تبدیل شدہ دستاویزات کا استعمال، جعلی سفری منصوبے، دلالوں کے ذریعے جعلی شادیاں، فرضی یا جعلی کمپنیوں کا استعمال، جعلی ملازمتیں یا ملازمتوں کی جعلی پیشکشیں تیار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سیاحتی مقصد کے تحت بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ کا سفر یا اس کی سہولت کاری بھی ویزا فراڈ کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
ترجمان کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا بیورو آف قونصلر افیئرز، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں ویزا فراڈ کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا فراڈ امریکی حکومت کو دھوکا دینے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات امریکی معاشرے، معیشت اور کارکنوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جبکہ یہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس میں ویزا منسوخی اور فراڈ کے معاملات کو مزید قانونی تفتیش کے لیے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھیجنا شامل ہے۔
محکمہ خارجہ نے مشتبہ امریکی ویزا فراڈ یا ویزا کے غلط استعمال سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد کو آن لائن ٹِپ پورٹل کے ذریعے رپورٹ کرنے کی ترغیب دی ہے۔