ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں گواہوں کو دوبارہ بیان دینے کی اجازت برقرار رکھتے ہوئے شمشاد بانو کی درخواست خارج کردی۔
جسٹس محمد امجد پرویز نے شمشاد بانو کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ گواہوں کا دوبارہ بیان دینا پراسیکیوشن کے کیس کی خامیاں دور کرنا نہیں ہے فیصلے کے مطابق منصفانہ انصاف کے لیے گواہ کو دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے، جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت عدالت کو گواہ دوبارہ بلانے کا اختیار حاصل ہے۔ دفعہ 540 کا اختیار محض تکنیکی بنیادوں پر انصاف روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ قتل کیس میں گواہوں نے اسلحہ برآمدگی کے میمو سے متعلق بیان نہیں دیا تھا، تاہم اسلحہ برآمدگی کے میمو پہلے ہی عدالتی ریکارڈ کا حصہ تھے اور برآمدگی سے متعلق دستاویزات کی نقول ملزمان کو پہلے ہی فراہم کی جاچکی تھیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گواہوں کے دوبارہ بیان سے ملزمان کا جرح کا حق متاثر نہیں ہوگا، جبکہ دفاع کو دوبارہ بیان دینے والے گواہوں پر جرح کا مکمل موقع حاصل ہوگا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ فوجداری کارروائی تکنیکی خامیوں کے باعث انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
واضح رہے کہ شمشاد بانو نے ٹرائل کورٹ کے 17 جون کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم درخواست گزار ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی ثابت نہ کرسکیں۔