ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جوان افراد میں فالج جیسا جان لیوا مرض زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے، تحقیق

جوان افراد میں فالج جیسا جان لیوا مرض زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے، تحقیق
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : فالج ایسا مرض ہے جو دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

فالج کے شکار فرد کا فوری علاج نہ ہو تو موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر اور علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

فالج کی 2 اقسام ہیں ایک برین ہیمرج جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے جبکہ دوسری قسم میں دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہوجاتی ہے جس سے آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔

موجودہ عہد میں جوان افراد میں فالج جیسے جان لیوا مرض کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل نیورولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ویسے تو بیشتر افراد بوڑھے ہونے تک امراض قلب کے بارے میں فکرمند نہیں ہوتے مگر جوان افراد میں فالج کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران جوان افراد میں فالج کا خطرہ بڑھا ہے۔

1993 سے 1994 کے دوران اگر ایک لاکھ افراد میں سے ایسے 33.9 کیسز سامنے آتے تھے تو 2020 میں یہ شرح ہر ایک لاکھ میں 62.2 کیسز تک پہنچ گئی۔ 
محققین نے بتایا کہ فالج کے باعث معذوری جوان افراد کی زندگی کو زیادہ مشکل بناتی ہے اور یہ واضح ہے کہ فالج صرف معمر افراد کا مرض نہیں بلکہ جوان افراد کو بھی اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق میں 1993 سے 2020 کے دوران امریکا کے کچھ خطوں میں 20 سے 54 سال کی عمر کے افراد میں فالج کے کیسز کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہونے سے فالج کی جس قسم کا سامنا ہوتا ہے، وہ اس مرض کی سب سے عام قسم ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ فالج کا خطرہ بڑھانے والے عناصر میں 27 سال کے عرصے میں اضافہ ہوا ہے جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دیگر کی شرح 5 سے 60 فیصد تک بڑھی۔ 
اسی طرح معمر افراد میں اس عرصے کے دوران فالج کے کیسز کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

محققین نے مشورہ دیا کہ صحت بخش غذاؤں کے استعمال، جسمانی طور پر متحرک رہنے، تمباکو نوشی سے گریز، اچھی نیند، جسمانی وزن، کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھ کر آپ فالج سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اس سے قبل مئی 2026 میں چین کے Zhejiang یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مسلز کے حجم میں کمی، ہاتھوں کی کمزور گرفت اور سست روی سے چلنے سے کسی فرد میں فالج کے خطرے میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے۔ 
تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کے مسلز کی مضبوطی گھٹ جاتی ہے، ان میں کسی بھی قسم کے فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ہاتھ کی کمزور گرفت سے فالج کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق چلنے کی سست رفتار سے فالج کا خطرہ 64 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔