ویب ڈیسک : آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ میں ہائی بلڈپریشر کو خاموش قاتل قرار دے دیا گیا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق خاموش قاتل کہلانے والے ہائی بلڈپریشر نے لاکھوں زندگیاں متاثر کی ہیں۔
انگلینڈ میں کی گئی نئی اور وسیع ریسرچ میں 14 لاکھ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ تحقیق کے دوران حیرت انگیز طور پر ہر تین میں ایک شخص ہائی بلڈپریشر کا مریض نکلا ہے۔
تفصیلی ریسرچ میں انکشاف ہوا کہ ہائی بلڈپریشر سے متاثر 59 فیصدافراد کو بیماری کا علم نہیں تھا اور متاثرہ افراد میں سے آدھی تعداد کو فیملی ڈاکٹر کےعلاج سےخطرناک بیماری پر قابو حاصل ہوا ہے۔
ریسرچ کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، بیماری کی عام طور پر کوئی واضح نشانیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے مکمل لاعلم رہتے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ غلط خوراک، ذہنی پریشانی اور خراب لائف اسٹائل ہائی بلڈ پریشر کی بنیادی وجوہات ہیں۔