شہید ائیر ہوسٹس انعم خان کے گھرآہوں اور سسکیوں کا بسیرا

 شہید ائیر ہوسٹس انعم خان کے گھرآہوں اور سسکیوں کا بسیرا

(جمالدین جمالی)طیارہ حادثہ میں شہید ہونیوالی ائیر ہوسٹس انعم خان کے گھردھرم پورہ میں آہوں اور سسکیوں کا بسیرا ، شہید انعم خان کے والد اور چھوٹا بھائی سمیت سب گھر والے غم سے نڈھال ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی طیارہ حادثہ میں شہید ہونے والی ائیر ہوسٹس انعم خان کے گھر دھرم پورہ میں عزیز و اقارب اور اہل علاقہ کا اظہار افسوس کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور انعم خان کے گھر والے غم کی تصویر بنےہوئے ہیں انعم خان کے والد مسعود خان کا کہنا تھا انعم خان میری بیٹی نہیں بیٹا تھی، جب میں بیمار ہوتا تھا یا اس کی ماں بیمار ہوتی تھی تو وہ بیٹوں کی طرح ہمارا خیال رکھتی تھی، علاج کراتی تھی، چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنوں کا بھی خیال رکھتی تھی۔

چھوٹے بھائی حمزہ کا کہنا تھا اس کو ابھی بھی بہن کے فون کا انتظار ہے ، والد کا کہنا تھا وہ آج گھر سے خوش خوش گئی تھی، اس نے کہا تھا وہ شام تک واپس آجائے گی۔ والد کہناتھا کہ وہ پورے گھر کاسہارا تھی، اس کی موت سے ہم بے آسرا ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے کراچی جانےوالی پی آئی اے کی پرواز8303 کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے ایک منٹ پہلے کریش کرگئی تھی، مسافر طیارے میں 107 مسافر سوار تھے،24 نیوز کے ڈائر یکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی سوار تھے،مسافر طیارہ لینڈنگ سے پہلے بے قابو ہوگیا  اور گر کر تباہ ہوگیا۔ پی کے 8303 میں 99مسافر ،8عملے کے ارکان سوارتھے، کراچی ائیر پورٹ کے قریب لینڈنگ کرتے مسافر طیارہ تین،چار گھر کے ساتھ ٹکرانے کے بعد رہائشی آبادی میں جا گراتھا۔

ذرائع کا بتانا ہےکہ سول ایوی ایشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی پرواز کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کا ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی اور لینڈنگ سے پہلے اس کے پہیے نہیں کھل رہے تھے جس پر پرواز کو راؤنڈ اپ کا کہا گیا لیکن اس دوران جہاز گر گیا۔ذرائع کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی اور ملیر کینٹ کے قریب جناح گارڈن کے پاس گرا ہے اور اس میں گرتے ہی ہولناک آگ لگ گئی، طیارہ گرنے سے علاقے میں کے الیکٹرک کی تاریں اور ٹیلی فون کی تاریں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔