ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دیہی علاقوں کے پانی وسیوریج منصوبوں سے کاربن کریڈٹس حاصل کرنے کا فیصلہ

دیہی علاقوں کے پانی وسیوریج منصوبوں سے کاربن کریڈٹس حاصل کرنے کا فیصلہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی رامے: پنجاب حکومت نے دیہی علاقوں میں صاف پانی اور سیوریج کے منصوبوں سے کاربن کریڈٹس حاصل کرکے انہیں عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

 اس حوالے سے صوبے میں پاک فلوم (Pak-FLOM) منصوبے کی حتمی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبے سے پنجاب کی 16 تحصیلوں کے 2 ہزار دیہات مستفید ہوں گے، جبکہ منصوبے کے ذریعے سال 2030 تک تقریباً 15 لاکھ ٹن کاربن اخراج میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق کاربن کریڈٹس کی عالمی منڈی میں فروخت سے پنجاب کو 2 کروڑ ڈالر تک آمدن متوقع ہے۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے حاصل ہونے والی رقم قرض نہیں بلکہ گرانٹ کی نوعیت کی ہوگی۔

محکمہ خزانہ کے مطابق کلائمیٹ فنانس کے تحت حاصل ہونے والی رقم پر پنجاب حکومت کو نہ سود ادا کرنا ہوگا اور نہ ہی رقم واپس کرنے کی ذمہ داری عائد ہوگی۔

منصوبے میں ابتدائی طور پر کاربن کریڈٹ کی قیمت 45 ڈالر فی ٹن مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم محکمہ خزانہ کی جانب سے اس پر اعتراض اٹھایا گیا۔

اعتراض کے بعد تخمینی قیمت 27 سے 31 ڈالر فی ٹن رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق کاربن کریڈٹس کی حتمی قیمت عالمی مارکیٹ، مذاکرات اور معاہدوں کے وقت طے کی جائے گی۔

وفاقی کٹوتیوں کے بعد منصوبے کو کاربن کریڈٹس سے حاصل ہونے والی آمدن کا تقریباً 82 فیصد حصہ ملنے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔

پاک فلوم منصوبے کے تحت 16 تحصیلوں کے تقریباً 2 ہزار دیہات میں صاف پانی، ویسٹ مینجمنٹ اور توانائی سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔ منصوبے میں میتھین گیس کی وصولی، سولر انرجی اور توانائی کی بچت کرنے والے پمپس بھی شامل کیے گئے ہیں۔

منصوبے کے تحت کاربن اخراج میں کمی کی پیمائش کے لیے جدید مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا تاکہ پیدا ہونے والے کاربن کریڈٹس کی باقاعدہ تصدیق ہوسکے۔

دستاویزات کے مطابق کاربن کریڈٹس سے حاصل ہونے والے فنڈز کے انتظام اور استعمال کے لیے الگ فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

محکمہ خزانہ، محکمہ ماحولیات اور پی اینڈ ڈی بورڈ نے منصوبے کی اصولی حمایت کردی ہے، جبکہ سیکرٹری پی اینڈ ڈی بورڈ کو ورلڈ بینک کے ساتھ ضروری معاہدے کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔

منصوبے کی کریڈٹنگ مدت معاہدے پر دستخط سے شروع ہوکر دسمبر 2030 تک رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف دیہی علاقوں میں صاف پانی اور بہتر ویسٹ مینجمنٹ کی سہولیات فراہم کرنے  اور کاربن اخراج میں کمی کے ذریعے پنجاب کے لیے اضافی کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔