ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جب فیصلہ کرلیاتوپھر مڑ کر نہیں دیکھا؛کینہ پرورپڑوسی پر فتح کارازبتادیا

جب فیصلہ کرلیاتوپھر مڑ کر نہیں دیکھا؛کینہ پرورپڑوسی پر فتح کارازبتادیا
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:    لندن میں اوورسیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی بار تفصیل سے بتایا کہ پاکستان نے کینہ پرور پڑوسی پر مئی کی جنگ میں فتح کیسے حاصل کی۔ 

 برطانیہ میں اوورسیز پاکستانیوں  کے اجمتاع سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو 10 مئی کی عظیم فتح اور جیت کی مبارکباد دیتا ہوں، یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سکھایا کہ زندگی بھر یاد رکھے گا، ہم پر الزام لگایا تو میں نے  کہا کہ ’پاکستان کا پہلگام واقعے سے دور دور تک تعلق نہیں، پہلگام واقعے پر عالمی کمیٹی بنا کر تحقیقات کروالی جائیں‘ لیکن ہمارے ہمسایہ ملک نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

 ’6 مئی کو دشمن نے حملہ کیا جس میں بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے،دشمن نے مساجد کو شہید کیا سویلین اثاثوں پر حملے کیے گئے۔

 پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی، پاکستان نے ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس کر دیئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتالگ گیا اگر بات نکلی تو بہت دور تک جائے گی۔

 فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مجھے کہا کہ ’ ہندوستان نے ہم پر دوبارہ حملہ کر دیا ہے، وزیراعظم اجازت دیں ہم دشمن کو وہ سبق سکھائیں گے کہ زندگی بھر یاد رکھے گا‘۔‘

 شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ ایک عرب ملک کے سربراہ نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کونسی دو باتیں ہیں جو آپ کی فتح کی وجہ بنی، میں نے جواب دیا کہ افواج پاکستان کی دلیری، شجاع اور اللہ پر بھروسہ اور دوسرے نمبر پر قومی یکجہتی تھی، تیسری بات میں نے کہی کہ جب فیصلہ ہوا تو ملٹری لیڈرشپ نے مڑ کر نہیں دیکھا، فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی، ہمارے شاہینوں نے دشمن کو قابو کیا۔

 ’پوری قوم میں ایک یکجہتی کراچی سے لے کر پشاور تک سب سجدہ ریز تھے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ فتح دی کہ مشرق سے لے کر مغرب تک سبز پاسپورٹ کو سلام کرتے ہیں۔

 آپریشن بنیان مرصوص کے دوران دشمن کا گولہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر کے قریب گرا، اس واقعے میں ان کا بیٹا ارتضیٰ عباس شہید ہوا، میں نے صدر اور فیلڈ مارشل نے اس ننھے بچے کا جنازہ پڑھا، اس بچے کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہوا تھا، ہم نے دشمن سے بچے کا بھرپور بدلہ لیا۔‘

 تقریب میں وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے، یہ قوم بڑی عظیم اور جری قوم ہے، پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ یوتھ پر مشتمل ہے، ہم پالیسیاں بنا رہے ہیں قرضوں سے نجات حاصل کریں گے، پاکستان میں سرمایہ کاری لائیں گے۔
 

 اُنہوں نے برطانوی پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی معیشت میں معاونت ناقابلِ فراموش ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو سونے اور جواہرات میں بھی تولا جائے تو کم ہے، اس برس اوورسیز پاکستانیوں نے ساڑھے 48 ارب ڈالر پاکستان بھیجے ہیں۔

 شہباز شریف نے کہا کہ برطانوی و دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی ملک کی ترقی اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت اُن کے حقوق اور تحفظ کیلئے مسلسل کوشاں ہے، عالمی فورمز پر پاکستان اپنے موقف کو مضبوطی سے پیش کرتا رہے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اشعار بھی سنائے۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں ظلم و ستم جاری ہے، 64 ہزار فلسطینی شہید کر دیئے گئے، غزہ میں فلسطینیوں کا کھانا، پینا اور ادویات بند کر دی گئیں۔

 وزیراعظم شہباز شریف آج لندن سے امریکا کیلئے روانہ ہوں گے، وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب 26 ستمبر کو ہوگا، غزہ میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔