سٹی42: اسرائیل کی ہائی کورٹ نے انٹیلی جنس ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے وزیراعظم نیتن یاہو فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کا رونن بار کو برطرف کرنے کا حکم (کونفلکٹ آف انتریسٹ) ہے۔
آج اسرائیل کی ہائی کورٹ آف جسٹس (سپریم کورٹ) کا فیصلہ آیا ہے کہ حکومت کا شیہہ بیخ (شن بیٹ ) کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کا فیصلہ "غیر مناسب" اور "غیر قانونی طور پر" کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس اسحاق امیت نے ڈپٹی چیف جسٹس نوم سوہلبرگ اور جسٹس ڈیفنی بارک ایریز کے ساتھ مل کر رونن بار اور شہریوں کی طرف سے اپیلوں کی سماعت کی۔ انہوں نے ابتدا ہی میں وزیراعظم نیتن یاہو کے حکم کو معطل کر دیا تھا اور حکم امتناعی دے دیا تھا، جس کے بعد نیتن یاہو کے حکمنامے کے خلاف درخواستوں کی مفصل سماعت کی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت نے اس معاملے کو سینئر اپائنٹمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کے سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، جیسا کہ اٹارنی جنرل نے ہدایت کی تھی۔ خاتون اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا نے درحقیقت نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے رونن بار کو برطرف کرنے کے حکم سے پہلے ہی اس متوقع اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ، کئی اہم قانونی وجوہات کے ساتھ نیتن یاہو کو خط لکھا تھا اور انہیں اس برطرفی سے روکا تھا، بعد میں اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ آف جسٹس میں اس اقدام کے خلاد درخواستوں کی سماعت میں بھی اس اقدام کے خلاف رائے دی۔
عدالت کا یہ بھی قرار دیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قطر گیٹ معاملے میں وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں کے بارے میں شن بیٹ کی جاری تحقیقات کی وجہ سے بار کو برطرف کرنے کی سفارش کرنے میں مفادات کا ٹکراؤ )کونفلکٹ آف انٹریسٹ) تھا۔
ہائی کورٹ آف جسٹس نے یہ بھی قرار دیا کہ رونن بار کو برطرف کرنے کا فیصلہ "حقیقت کی بنیاد کے بغیر" کیا گیا تھا اور اسے برطرف کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے بار کو باقاعدہ سماعت کا موقع دیئے بغیر کیا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ تاہم، بار کے اس اعلان کے بعد کہ وہ 15 جون کو مستعفی ہو جائیں گے، وہ اس معاملے پر کوئی آپریٹو آرڈر جاری نہیں کرے گی۔

رونن بار نے اپنی نام نہاد برطرفی کا پبلک مین اعلان ہونے کے بعد پبلک مین بیان دیتے ہوئے بتایا تھا کہ نیتن یاہو انہیں ذاتی سطح پر اپنا وفادار دیکھنا چاہتے تھے جو وہ نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے قطر گیت سکینڈل کی تحقیقات ہر صورت مکمل کروانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ رونن بار غزہ جنگ کے دوران نیتن یاہو سے مکمل تعاون کرتے رہے تاہم انہوں نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں اپنے ادارہ کی نا اہلی اور کوتاہی کا اعتراف کرنے کے بعد یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس حملے کی ریاستی تحقیقاتی کمیشن سے تحقیقات کروائی جائیں۔ یہ مطالبہ دراصل وزیراعظم نیتن یاہو کی حماس کو مدد فراہم کرنے والی پالیسیوں کو گرفت میں لانے کی طرف لے جا رہا تھا جس نے نیتن یاہو کو خوفزدہ کیا۔