ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل کے وزیراعظم کا انٹرنل سکیورٹی ایجنسی  شیہ بیخ کے چیف کو ہٹانے کا اعلان

Ronin Bar, Shen Bet, Prime Minister Netanyahu, Hamas attack on Israel, October Seven massacre city42
کیپشن: اسرائیل کی انٹرنل سکیورٹی ایجنسی شیہ بیخ کے چیف رونن بار سات اکتوبر کو حماس کے حملے اور قتل عام کو روکنے میں اپنے ادارہ کی ناکامی تو مانتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ  وہ اس سانحہ کی ریاستی تحقیقات کرنے کی ادارہ جاتی تجویز دے چکے ہیں۔ ریاستی تحقیقات کا مطلب وزیراعظم کے فیصلوں، فیصلے نہ کرنے، پالیسیوں اور دیگر تمام عوامل کی بھی تحقیقات کرنا ہے۔ یہ تحقیات ہوئین تو سپریم کورٹ کے جج کرین گے۔ اس تحقیقات کے متعلق تجویز کے شیہ بیخ کی طرف سے سرکاری سطح پر سامنے آنے  کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو رونن بار پر ""اعتماد نہ ہونے کا عذرلے کر انہیں آئینی مدت سے پہلے عہدہ سے ہٹانے کا اعلان کر تو دیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد ان کے لئے آسان نہیں۔
 اسرائیل کے وزیراعظم کا انٹرنل سکیورٹی ایجنسی  شیہ بیخ کے چیف کو ہٹانے کا اعلان
Ronin Bar, Shen Bet, Prime Minister Netanyahu, Hamas attack on Israel, October Seven massacre city42
 اسرائیل کے وزیراعظم کا انٹرنل سکیورٹی ایجنسی  شیہ بیخ کے چیف کو ہٹانے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو ملک کی داخلی سلامتی کے ادارے شیہ بیخ کے سربراہ کو  برطرف کرنے کے اپنے ارادے کا پبلک کے سامنے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ رونن بار کو برطرف کرنے کے لئے اپنی اتحادی کابینہ میں ووٹنگ کریں گے۔ اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد اٹارنی جنرل کو  خط لکھ کر اعلان کرنا پرا کہ نیتن یاہو پرائم انٹرنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو ہٹانے کی طرف نہیں جا  سکتے  کیونکہ کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

خود رونن بار نے بھی پہلی مرتبہ اس موضوع پر پبلک بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ "ویزراعظم کے اعتماد" کے نہیں بلکہ پبلک اور  ریاست کے ساتھ وفاداری کے پابند ہیں۔  رونن بار نے واضح کیا، وہ ایجنسی میں چل رہی تحقیقاتیں مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ بات وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی گزشتہ ملاقات میں بتا چکے ہیں۔

نیتن یاہو اور شیہ بیخ ایجنسی کے سربراہ رونن بار حالیہ ہفتوں میں کئی اہم ایشوز پر متضاد سمتوں مین جاتے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ نیتن یاہور اور ان کے اتحادی وزرا پر کئی فہتوں سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ شیہ بیخ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنا چاہتے ہیں۔ رونن بار کی ایجنسی سات اکتوبر کو قتل عام روکنے میں ناکامی کے حوالے سے وزیراعظم نیتن یاہو، ان کی حکومت اور پالیسی معاملات کی بھی تحقیقات  چاہتی ہے اور آج کل یہ اہم ایجنسی وزیراعظم کے قریبی ساتھی سے متعلق ایک تحقیقات سمیت کئی ایسی تحقیقاتین کر رہی ہے جو اتحادی حکومت کو پسند نہیں ہیں۔  

رونن بار کی ممکنہ برطرف کو روکنے کے لئے  گزشتہ روز تل ابیب میں سول سوسائٹی کے لوگوں نے اور  ڈیموکریتس نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

اتوار کے روز وزیر اعظم  نیتن یاہونے ایک ویڈیو بیان میں کہا، "مسلسل اعتماد کے فقدان کی وجہ سے، میں نے شیہ بیخ کے سربراہ رونن بار کی مدت کار کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو ایک تجویز لانے کا فیصلہ کیا ہے۔"

اسرائیل کی سیاسی قیادت جس کی سربراہی نیتن یاہو کر رہے ہیں اور ملک کی سکیورٹی اور عسکری اداروں کے درمیان اس بات پر تناؤ پیدا ہو رہا ہے کہ حماس کے بے مثال حملے کو روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار کون ہے۔ فوج اور شیہ بیخ کے سربراہ اپنی اپنی ناکامی کا پبلکلی اعتراف کر چکے ہیں لیکن خاص طور سے شیہ بیخ کی تحقیقات اس نکتہ پر مرکوز ہین کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل کے اندر گھس کر قتل عام کرنے سے پہلے والے سال مین کیا کچھ ہوا، اس سے پہلے کیا ہوتا رہا اور نیتن یاہو کی حکومت  انٹرنل سیکورٹی ایجنسی کی بار بار تنبیہوں کو نظر انداز کیوں کرتی رہی۔

نیتن یاہو نے کہا، "ہم اپنے وجود کی بقا کی جنگ کے درمیان ہیں... ایسی بقا کی جنگ کے دوران، وزیر اعظم اور شیہ بیخ کے سربراہ کے درمیان مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔"

"میں نے مسلسل شیہ بیخ کے سربراہ  پر اپنے اعتماد کی کمی محسوس کی ہے، ایک بے اعتمادی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے۔"

نیتن یاہو نے کہا کہ بار کی برطرفی "تنظیم (شیہ بیخ/ Shen Bet)  کی بحالی، اپنے تمام جنگی مقاصد کو حاصل کرنے اور اگلی تباہی کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔"

شیہ بیخ کے سربراہ کا آئینی عہدہ

شیہ بیخ کے سربراہ رونن بار  کے عہدہ پر کام کرنے کی مدت اکتوبر 2026 میں ختم ہو گی۔ وہ خود شاید (اپنی ایجنسی کی سات اکتوبر والی ناکامی کا بوجھ اٹھاتے ہوئے) تب تک کام کرنا نہیں چاہتے لیکن وہ فوری طور پر بھی جانا نہیں چاہتے کیونکہ وہ کئی تحقیقاتیں مکمل کرنے کے لئے بضد ہیں۔

نیتن یاہو نے ان پر الزام لگایا ہے کہ اس کے پیچھے رونن بار  کا ہاتھ ہے، جسے انہوں نے "دھمکیوں اور میڈیا لیکس کی جاری مہم کا حصہ" قرار دیا تھا جس کا مقصد  نیتن یاہو کو ان کے بقول  "7 اکتوبر کو شیہ بیخ کی تباہ کن ناکامی کے بعد بحال کرنے کے لیے ضروری فیصلے کرنے سے روکنا تھا"۔

نیتن یاہو کے کسی الزام لگانے سے پہلے ہی پہلے آئی دی ایف نے سات اکتوبر کے حملے کو روکنے کے ضمن میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا، اور 4 مارچ کو، شیہ بیخ نے بھی حماس کے حملے کو روکنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے مختلف طریقے سے کام کیا ہوتا تو اسرائیل کی تاریخ کے مہلک ترین دن کو ٹالا جا سکتا تھا۔ 

فوج اور انٹیلیجنس ادارہ کے ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے ساتھ  دونوں اداروں میں یہ عمومی سوچ ہے کہ سات اکتوبر کے قتل عام کو روکنے میں  ناکامی کی صرف اداروں کی سطح پر ہی نہیں ریاستی تحقیقات بھی ہونا چاہئے جو سب کچھ دیکھے جس مین وزیراعظم کے فیصلے، پالیسیاں اور اداروں کی تنبیہوں پر ردعمل سب کچھ  زیر تفتیش آئے۔

سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی سرحدی دیہات میں،  نوجوانوں کے ایک میوزک فیسٹیول اور بعض فوجی چوکیوں پر قتل عام میں  1,218 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔  ااس ہی روز اسرائیل غزہ پر حملہ کر کے اعلانیہ جنگ میں داخل ہو گیا تھا اور سات اکتوبر کی ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین کرنے اور اپنے اپنے حصہ کی سزائیں لینے کا احتسابی عمل مؤخر ہو گیا تھا۔

4 مارچ کو شیہ بیخ کے بیان میں ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے  چیف رونن  بار نے کہا، تاہم، یہ سمجھنے کے لیے کہ حملے کو کیسے روکا نہیں گیا، "اسرائیل کی سلامتی اور سیاسی عناصر کے کردار اور ان کے درمیان تعاون کی وسیع تر تحقیقات" کی ضرورت ہے۔

Caption  وزیراعظم نیتن یاہو کے پبلک بیان کے بعد رونن بار نے بھی پبلک بیان دے دیا جس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا ان پر اعتماد کرنا نہ کرنا ان کے لئے غیر اہم ہے، وہ قانون اور ریاستی اقدار پر عملدرآمد کو اہم سمجھتے ہیں۔ 

رونن بار نے 2021 سے شیہ بیخ کی قیادت کی ہے، لیکن نتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات حماس کے حملے سے پہلے ہی کشیدہ تھے، خاص طور پر  نیتن یاہو کی عدالتی نظام کو توڑ پھوڑ کر اپنی مرضی کے جج سپریم کورٹ تک پہنچانے کے لئے ٹیلر کی گئی " عدالتی اصلاحات" پر جس نے ملک کو  اب تک تقسیم کر رکھا ہے۔

4 مارچ کو حملے سے متعلق اندرونی شیہ بیخ رپورٹ کے اجراء کے بعد  بار کے ساتھ نیتن یاہو کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ کیونکہ اس میں بار نے وسیع تر (ریاستی تحقیقات) کا مطالبہ کر ڈالا تھا۔

شیہ بیخ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "خاموشی کی پالیسی نے حماس کو بڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان کا انبار اکٹحا کرنے اور بڑا بلڈ اپ بنانے کے قابل بنایا"۔

اے ایف پی نے آج یروشلم مین ہوئے ڈرامائی واقعات کی رپورٹ میں لکھا، ایسا لگتا ہے کہ (رونن) بار کی ذمہ داریاں پہلے ہی کم کر دی گئی ہیں۔

اسرائیل کے قانون کے مطابق انٹرنل سکیورٹی ایجنسی کے کام میں وزیراعظم مداخلت نہیں کر سکتا تاہم  میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ  رونن بار کو  سیکیورٹی کابینہ کے حالیہ اجلاس اور حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیلئے  دوحہ بھیجے گئےاسرائیلی مذاکراتی وفد سے بھی باہر رکھا گیا ہے، جس کی قیادت بار کے نائب کر رہے ہیں، جسے صرف 'ایم' کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بار حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے پچھلے سیشنوں میں شامل رہے تھے۔