ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 نیتن یاہو سکیورٹی ایجنسی شیہ بیخ (Shen Bet)  کے سربراہ  کو برطرف نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل کا خط

Shen Bet chief Ronin Bar, Prime Minister Netanyahu, Attorney General Gali bahar Miyara, Israeli politics, City42
کیپشن: اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہار_ میارا نے اس بات پر سٹینڈ لے لیا ہے کہ وزیراعظم نییتن یاہو سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو محض اس لئے ہٹانا چاہتے ہیں کہ انہیں ان پر اعتماد نہیں۔ خاتون اٹارنی جنرل نے نیتن یاہو کے سکیورٹی ایجنسی شیہ بیخ کے سربراہ رونن بار کو ہٹانے کے ارادہ کے اظاہر کے بعد خط لکھ کر انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ ایسا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ ایسا کچھ کریں گے تو اس کی قانونی بنیاد کا جائزہ لیا جائے گا۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کی اٹارنی جنرل  گالی بہارو-میارا نے وزیر اعظم نیتن یاہو کو بتایا ہے  کہ وہ قانونی جانچ سے پہلے سکیورٹی ایجنسی شیہ بیخ (Shen Bet)  کے سربراہ  کو برطرف نہیں کر سکتے۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو اچانک یہ بات پبلک کر دی کہ وہ شیہ بیخ (Shen Bet) کے سربراہ کو  ہٹانا چاہ رہے ہیں اور اس کے لئے وہ اپنی کابینہ کے اجلاس میں ووٹنگ کروائیں گے۔

شیہ بیخ کے سربراہ کے اپنے عہدہ پر کام کرنے کی مدت 2026 میں ختم ہو گی اور بطاہر قانون مین ایسی کوئی گنجائش نہین کہ کوئی وزیراعظم محض نا پسند یا اختلاف کی بنا پر اس ادارہ کے سربراہ کو ہتا سکے۔ ابتدا مین خاتون اٹارنی جنرل کا یہ ردعمل سامنے آیا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے شیہ بیخ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کررنے کے اپنے ارادہ کے متعلق انہیں نہیں بتایا، اس کے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی رات ہی خاتون اٹارنی جنرل کے متعلق یہ خبر آ گئی کہ انہوں نے نیتن یاہو کو اس موضوع پر خط لکھ دیا ہے۔

Caption  اٹارنی جنرل گالی بہار_ میارا   11 دسمبر 2024 کو تل ابیب میں کریات شال قبرستان میں سابق جج الیشیوا بارک-Ussoskin کی آخری رسومات میں شرکت کر رہی ہیں۔ اتفاق سے خاتون اٹارنی جنرل  میارا نیتن یاہو کی ہٹ لسٹ میں رونن بار سے پہلے یا بعد میں برطرف کئے جانے کے لئے نشان زد ہیں۔ نیتن یاہو  کی پارٹی کے کارکن اور ان کے اتحادی خاتون اٹارنی جنرل کی قانونی بنیادوں پر استوار رائے کو عموماً "سیاست بازی" قرار دے کر متنازعہ کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اب وہ انہیں برطرف ہی کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ  ایسے کسی اقدام کو سپریم کورٹ سے  قبولیت ملنا محال ہے۔ ( فوٹو:  Avshalom Sassoni/Flash90)

رونن بار کی برخواستگی  وزیراعظم کے لئے ممکن نہیں

ایک سرکاری خط میں، اٹارنی جنرل گالی بہارو-میارا نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کی "برخاستگی کا عمل شروع کرنا ممکن نہیں ہے" جب تک کہ آپ کے فیصلے کے لئے حقائق اور قانونی بنیادوں کا مکمل جائزہ نہ لیا جائے، نیز اس وقت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے آپ کے اختیار کو بھی ایگزیمن کرنا ضروری ہے (آیا وہ ہے بھی یا نہیں)۔

اٹارنی جنرل اپنے خط میں  آگے کہتی ہیں: "یہ (خط) اس معاملے کی غیر معمولی حساسیت، اس کی بے مثال نوعیت، اس تشویش کی وجہ سے ہے کہ یہ عمل غیر قانونی اور مفادات کے تصادم سے داغدار ہو سکتا ہے، اور اس بات پر غور کرنا  (ضروری ہے) کہ شہ بیخ کے سربراہ کا کردار،  وزیر اعظم کی خدمت کرنے والا کوئی عہدہ  نہیں جس پر فائض رہنے کے لئے وزیراعظم کا "ذاتی اعتماد"  درکار ہو۔ "

اس سے پہلے یہ ہی بات رونن بار اپنے غیر معمولی پبلک بیان مین کہہ چکے ہین کہ ان کے لئے وزیراعظم کی ذاتی وفاداری اور اعتماد غیر اہم  ہے۔