سٹی42: اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہارو-میارا نے وزیر اعظم نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ وہ قانونی جانچ سے پہلے سکیورٹی ایجنسی شیہ بیخ (Shen Bet) کے سربراہ کو برطرف نہیں کر سکتے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو اچانک یہ بات پبلک کر دی کہ وہ شیہ بیخ (Shen Bet) کے سربراہ کو ہٹانا چاہ رہے ہیں اور اس کے لئے وہ اپنی کابینہ کے اجلاس میں ووٹنگ کروائیں گے۔
شیہ بیخ کے سربراہ کے اپنے عہدہ پر کام کرنے کی مدت 2026 میں ختم ہو گی اور بطاہر قانون مین ایسی کوئی گنجائش نہین کہ کوئی وزیراعظم محض نا پسند یا اختلاف کی بنا پر اس ادارہ کے سربراہ کو ہتا سکے۔ ابتدا مین خاتون اٹارنی جنرل کا یہ ردعمل سامنے آیا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے شیہ بیخ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کررنے کے اپنے ارادہ کے متعلق انہیں نہیں بتایا، اس کے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی رات ہی خاتون اٹارنی جنرل کے متعلق یہ خبر آ گئی کہ انہوں نے نیتن یاہو کو اس موضوع پر خط لکھ دیا ہے۔
رونن بار کی برخواستگی وزیراعظم کے لئے ممکن نہیں
ایک سرکاری خط میں، اٹارنی جنرل گالی بہارو-میارا نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کی "برخاستگی کا عمل شروع کرنا ممکن نہیں ہے" جب تک کہ آپ کے فیصلے کے لئے حقائق اور قانونی بنیادوں کا مکمل جائزہ نہ لیا جائے، نیز اس وقت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے آپ کے اختیار کو بھی ایگزیمن کرنا ضروری ہے (آیا وہ ہے بھی یا نہیں)۔
اٹارنی جنرل اپنے خط میں آگے کہتی ہیں: "یہ (خط) اس معاملے کی غیر معمولی حساسیت، اس کی بے مثال نوعیت، اس تشویش کی وجہ سے ہے کہ یہ عمل غیر قانونی اور مفادات کے تصادم سے داغدار ہو سکتا ہے، اور اس بات پر غور کرنا (ضروری ہے) کہ شہ بیخ کے سربراہ کا کردار، وزیر اعظم کی خدمت کرنے والا کوئی عہدہ نہیں جس پر فائض رہنے کے لئے وزیراعظم کا "ذاتی اعتماد" درکار ہو۔ "
اس سے پہلے یہ ہی بات رونن بار اپنے غیر معمولی پبلک بیان مین کہہ چکے ہین کہ ان کے لئے وزیراعظم کی ذاتی وفاداری اور اعتماد غیر اہم ہے۔