ویب ڈیسک: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر دوبارہ حملہ ہوا تو خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق امریکا نے بعض علاقائی ممالک کو اعتماد میں لے کر ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بیان کے مطابق یہ فیصلہ یورپ کے ایک ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران کیا گیا، تاہم کسی ملک کا نام نہیں بتایا گیا۔ ایرانی فوجی کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ امریکا یہ منصوبہ بندی جنگ میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور بعض علاقائی ممالک کے اشارے پر کر رہا ہے۔
ایرانی فوجی کمانڈ نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کریں، بصورت دیگر انہیں بھی جنگ میں برابر کا شریک تصور کیا جائے گا اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایک اور جارحیت کا قوی امکان ہے، تاہم تہران فیصلہ کن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
محسن رضائی نے بتایا تھا کہ ایران کی قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور مذاکرات کے حوالے سے تہران کا مؤقف بھی ان کے سامنے رکھ دیا گیا ہے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی تین شرائط ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنے مطالبات ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیے ہیں امریکا کی جانب سے معاہدے کی پاسداری اور شرائط پوری نہ ہونے تک مذاکرات کی میز پر واپسی مشکل ہے اور آبنائے ہرمز بند رہے گی۔