ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اے آئی کو کھلی چھٹی ملی تو کیا ہوگا؟ ماہر نے خبردار کردیا

اے آئی کو کھلی چھٹی ملی تو کیا ہوگا؟ ماہر نے خبردار کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی نے اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال، مؤثر نگرانی اور واضح حفاظتی اصولوں کی ضرورت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ پاکستان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او آصف پیر کا کہنا ہے کہ اے آئی کی پیش رفت روکنے کے بجائے اسے ذمہ داری کے ساتھ اپنانا چاہیے اور ایسے مؤثر حفاظتی نظام تشکیل دینے چاہییں جو اس ٹیکنالوجی کو انسانی نگرانی میں رکھیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آصف پیر نے کہا کہ اے آئی موجودہ صدی کی اہم ترین اختراعات میں شامل ہے اور اس کے اثرات زندگی کے مختلف شعبوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اے آئی سے وابستہ رہنما بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے مفاد اور انسانی کنٹرول کے دائرے میں استعمال کیا جائے۔

آصف پیر نے مائیکروسافٹ اور گوگل کے اعلیٰ حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی ترقی اسی صورت میں قابلِ قدر ہے جب یہ انسانوں کے لیے مفید ہو اور اس پر انسانی نگرانی برقرار رہے۔ ان کے مطابق اے آئی کو جدید اور جرات مندانہ انداز میں اپنانے کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور احتیاط کو بھی بنیادی اہمیت دینا ضروری ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی سے معلومات، جوابات اور تحقیق حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن ان معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں اور اقدامات کی ذمہ داری بہرحال انسانوں پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اے آئی ایجنٹس کو مکمل خودمختاری دے دی جائے اور وہ انسانی نگرانی کے بغیر خود فیصلے کرکے اقدامات شروع کردیں تو ایسے نظام کو ذمہ دار مصنوعی ذہانت نہیں کہا جاسکتا۔

آصف پیر نے ذمہ دار اے آئی کے لیے تین بنیادی اصول بیان کیے۔ ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس کو انسانی کنٹرول میں رہنا چاہیے، انہیں انسانی مقاصد اور ترجیحات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کی سرگرمیوں کے لیے واضح حفاظتی حدود مقرر ہونی چاہییں۔

ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی ترقی جس رفتار سے جاری ہے، اس کے مقابلے میں اس کی نگرانی، ضابطہ سازی اور حفاظتی گارڈ ریلز تیار کرنے کا عمل نسبتاً سست ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اگر کسی مرحلے پر اے آئی نظام انسانی کنٹرول سے باہر ہونے لگے تو اسے محدود یا روکنے کے لیے مؤثر انتظامات پہلے سے موجود ہوں۔

انہوں نے تجویز دی کہ اے آئی ماڈلز اور ان سے تیار ہونے والے مختلف ٹولز میں حفاظتی اصول ابتدا ہی سے شامل کیے جائیں۔ ان کے مطابق چاہے اوپن سورس ٹیکنالوجی استعمال کی جائے یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تیار کردہ ٹولز، ہر صورت میں ذمہ دارانہ استعمال اور اخلاقی اصولوں کو نظام کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔

آصف پیر کے مطابق اے آئی اس وقت تیز رفتار اور تجرباتی ترقی کے مرحلے میں ہے اور مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید ترین ماڈلز تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد بھی وسیع ہیں اور صحت، تحقیق، تعلیم، دفاع اور سائبر سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر اے آئی کے لیے مشترکہ اصول اور ضابطۂ کار وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق چونکہ اے آئی ایک عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم بن چکا ہے، اس لیے مختلف ممالک اور کمپنیوں کے الگ الگ اصول اختیار کرنے سے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا مشکل ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس کو واضح اجازتوں اور متعین حدود کے تحت کام کرنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ کون سے اقدامات کی اجازت ہے اور کن سرگرمیوں سے انہیں روکنا ہے۔ انسانی نگرانی، انسانی مقاصد سے ہم آہنگی اور واضح حفاظتی حدود مستقبل میں اے آئی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے بنیادی ستون ہونے چاہییں۔