رائو دلشاد:پنجاب دانش اسکولز اتھارٹی میں پیپرا قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 67 کروڑ 92 لاکھ 88 ہزار 993 روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مانکیرہ دانش اسکول کے بوائز اور گرلز پیکیج ون اور تھری کا 67 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا ٹھیکہ ایک غیر رجسٹرڈ جوائنٹ وینچر کو دیا گیا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹھیکہ دیے جانے کے وقت مذکورہ کنٹریکٹر پاکستان انجینئرنگ کونسل میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق جوائنٹ وینچر نہ رجسٹرار آف فرمز کے پاس رجسٹرڈ تھا اور نہ ہی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں اس کی رجسٹریشن موجود تھی۔ مزید برآں، بولی جمع کرانے کے بعد مشترکہ منصوبے کی شراکت داری سے متعلق اسٹامپ پیپر تیار کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹھیکہ دینے سے قبل بولیوں کی جانچ کے لیے مقررہ معیار واضح نہیں کیے گئے تھے، جبکہ تشخیصی کمیٹی اور کنسلٹنٹ نے بولیوں کی جانچ پڑتال اور ٹھیکہ دینے کے عمل میں مبینہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔
آڈٹ کے مطابق غیر رجسٹرڈ جوائنٹ وینچر کو ٹھیکہ دے کر پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ٹھیکے کی ضمانتوں کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے، تاہم بعد ازاں بعض ضمانتوں کو بینک سے تصدیق شدہ قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں پرفارمنس اور موبلائزیشن ایڈوانس کی بینک گارنٹیوں کو بھی مشکوک قرار دیا گیا۔ گارنٹیوں کے جعلی ہونے سے متعلق معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھجوایا گیا، جس کے بعد تحقیقات کے دوران بینک منیجرز اور متعلقہ افسران سمیت 9 افراد کی گرفتاری عمل میں آنے کی اطلاع ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائی میں بھی معاملہ زیر بحث آیا، جبکہ معاملہ پہلے ہی ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہو چکا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں غیر رجسٹرڈ جوائنٹ وینچر کو ٹھیکہ دینے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انتظامی محکمہ کو 30 روز کے اندر ذمہ داری کا تعین کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔