سٹی 42: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی کوئی گنجائش نہیں، کسی نے امن خراب کرنے کی کوشش کی تو اسے روکا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مرکوز ہے، ایسے وقت میں دہشت گردی روکنے پر توجہ دی جائے، چندوں اور بندوں پر نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے، ایک طرف شہدا کے جنازے اٹھائے جارہے ہیں اور دوسری طرف دھرنوں کی تیاری کی جارہی ہے، یہ مناسب نہیں۔
وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی بجائے دہشت گردی کے خلاف محنت کریں۔ خیبر پختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صوبے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔
محسن نقوی نے کہا کہ احتجاج کرنا ہے تو اپنے علاقے اور شہر میں کریں، کسی صوبے پر حملہ قابل قبول نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پنجاب پولیس کو صورتحال سے نمٹنے کیلئے اعتماد میں لیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس اور دیگر ادارے مل کر صورتحال سے نمٹیں گے۔
وزیر داخلہ کے مطابق اس مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو واضح قواعد و ضوابط بتائے جارہے ہیں۔ تمام فورسز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ امن خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہر ممکن طریقے سے روکا جائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ دارالحکومت کو بند کرنے کی منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم یا سرکاری مشینری کو احتجاج کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے عہد کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ اگر دھاوا بولنے کی کوشش کی گئی تو توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جائے گی۔ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ سیاسی احتجاج اور یلغار کرنے والوں میں فرق ہوتا ہے، اگر جتھوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری انہیں لانے والوں پر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران خدا نخواستہ ایک بھی جان گئی تو اس کے ذمہ دار مارچ اور احتجاج کے منتظمین ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، اپوزیشن میں بہت سمجھدار لوگ موجود ہیں اور امید ہے کہ وہ صورتحال پر نظرثانی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ محب وطن سیاست دان اور پاکستانی کی حیثیت سے سوچنا چاہیے کہ کیا موجودہ حالات میں اس طرح کا احتجاج مناسب ہے۔ ان کے مطابق تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور اداروں کو ہدایات دی گئی ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اسلام آباد کے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھا جائے۔
بلوچستان میں ایس ایچ او سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی بات نامکمل چلائی گئی، انہوں نے یہ بات علامتی طور پر کہی تھی لیکن ان کے بیان کا آدھا حصہ نشر کیا گیا۔
انہوں نے ادویات کے کنٹینرز روکے جانے کے معاملے پر کہا کہ جیسے ہی انہیں روکے جانے کا علم ہوا، ان کے نوٹس لینے سے پہلے ہی کنٹینرز چھوڑ دیے گئے تھے۔
عمران خان کے علاج سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ ان کا علاج وہ چاہتے ہیں اس سے بہتر ہورہا ہے۔