ملک اشرف: پاکستان بار کونسل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اس کے نتیجے میں بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی اور رولز کمیٹی کا مشترکہ اجلاس وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی منیر احمد ملک کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق قرارداد منظور کی گئی۔
بار کونسل کے اعلامیے کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی بڑھنے کا سبب بن رہا ہے جبکہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی کے اخراجات ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوت خرید بھی متاثر کی ہے اور مایوسی و بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری مراعات، ضرورت سے زیادہ پیکیجز، مفت پیٹرولیم مصنوعات کی سہولت اور سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کو ختم کیا جائے۔
اعلامیے کے مطابق وزراء، سرکاری افسران اور دیگر مراعات یافتہ افراد کے غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی لائی جائے تاکہ عوام کو بڑھتی مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دیا جاسکے۔
پاکستان بار کونسل نے سمارٹ لاک ڈاؤن کو بھی موجودہ معاشی بحران کا حل قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے عام شہریوں، یومیہ اجرت کمانے والوں اور کاروباری طبقے پر مزید بوجھ پڑے گا۔
قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے بجائے عوام کو سہولت اور ریلیف دینے کے لیے فوری اور ٹھوس عملی اقدامات کیے جائیں۔