ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حوثیوں کو روکنے کیلئے چین نے ایران سے مدد مانگ لی

حوثیوں کو روکنے کیلئے چین نے ایران سے مدد مانگ لی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے تناظر میں چین نے ایران سے حوثیوں کو روکنے میں مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔

رائٹرز نے معاملے سے واقف تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چین نے نجی رابطوں کے ذریعے تہران پر زور دیا کہ وہ یمن کے حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان کی سرگرمیاں محدود کرنے میں مدد کرے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر چین سے مدد طلب کی تھی، جس کے بعد بیجنگ نے ایران سے رابطہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ تہران نے چینی درخواست پر کیا ردعمل دیا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں سے سعودی تیل کی برآمدات اور بحری جہازوں کی آمدورفت کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ بحیرہ احمر میں کشیدگی بڑھنے سے چین کے لیے بھی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری سفر کی بحالی پر زور دیا ہے، تاہم ایرانی قیادت کو بھیجے گئے نجی پیغام میں بیجنگ کا مؤقف زیادہ واضح تھا۔ چین چاہتا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے تنازع کو توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں تک پھیلنے سے روکے۔

رائٹرز کے مطابق یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ چین کا پیغام ایران تک کس ذریعے سے پہنچایا گیا یا یہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بدھ کو چین کے دورے کے دوران پہنچایا گیا تھا۔

تین ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے جواب دیا کہ خطے میں امن و استحکام کا انحصار ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے پر ہے ذرائع نے بتایا کہ چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ حوثیوں پر اثر و رسوخ استعمال نہ کرنے کی صورت میں بیجنگ تہران کے خلاف معاشی دباؤ ڈالے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے مؤقف جاننے کے لیے رابطے پر چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ علاقائی کشیدگی مزید پھیل کر یمن اور بحیرہ احمر تک پہنچے وزارت خارجہ کے مطابق علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے جبکہ عوام کے روزگار کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ چین نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کرنے والے اقدامات روکنے اور مسائل بات چیت و مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

خبر رساں ادارےکے مطابق ایران کی وزارت خارجہ اور سعودی حکومت کے میڈیا آفس نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔