ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شہنشاہ ہمایوں کے مقبرہ سے ملحق درگاہ کی عمارت گرنے سے چھ افراد جاں بحق

Humayon Tomb Delhi, UNESCO list of cultural heratage, city42, Heavy rains, Monsoon , Delhi suburbs

سٹی42: آج جمعہ کے روز بارش سے دہلی میں شہنشاہ ہمایوں کے مقبرہ سے ملحق درگاہ کی عمارت گرنے سے چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔

نظام الدین، دہلی میں مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کے مقبرے سے ملحق درگاہ شریف پتے شاہ کی دیوار اور چھت کا ایک حصہ جمعہ 15 اگست 2025 کو شدید بارش کے دوران گر گیا۔ اس حادثہ میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔

 ہمایوں کا مقبرہ یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے لیکن آج گرنے والی عمارت مقبرے کی عمارت سے ملھق ہے لیکن اس کا حصہ نہیں ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ درگاہ کی دریوار اور چھت گرنے سے  ہمایوں کے مقبرے کو نقصان نہیں پہنچا۔

ابتدائی اطلاعات میں پانچ لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی ، اور 9 زخمیوں کو ایمز ٹراما سینٹر، لوک نائک (LNJP) اور RML ہسپتال سمیت ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ۔ بعد میں بتایا گیا کہ ایک اور زخمی جاں بحق ہو گیا۔  تاہم، تازہ ترین معلومات سے مرنے والوں کی تعداد چھ (تین مرد اور تین خواتین) ہو گئی۔

ریسکیو کارکنوں نے ملبے سے 10 سے 12 افراد کو بچا لیا۔ ایک شخص بال بال بچ گیا۔
امدادی کارکنوں کا تعلق دہلی فائر سروسز (DFS)، دہلی پولیس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) اور DDMA سے تھا۔ پانچ فائر ٹینڈرز نے تحادثہ کی اطلاع ملنے کے چند منٹوں میں جواب دیا (تقریباً 3:50–3:55 بجے)۔
ملبہ مکمل ہٹائے جانے کے بعد ریسکیو آپریشن کو باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے۔

حکام نے دیوار اور چھت  گرنے کی وجہ پرانی عمارت میں شدید بارش اور خستہ حال یا ساختی طور پر کمزور دیواروں کو قرار دیا۔
آغا خان ٹرسٹ فار کلچر، جو ہمایوں کے مقبرے کے ارد گرد بحالی کی کوششوں پر کام کرتا ہے، اس نے بتایا  کہ منہدم ڈھانچہ مقبرے کے احاطے کی باؤنڈری وال سے ملحقہ دو منزلہ درگاہ ہے۔ ملبہ کمپلیکس کے اندر گرا تھا لیکن ورثے کی جگہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج (DVR) قبضے میں لے لی ہے اور نگرانوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ اس بات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں کہ آیا غیر مجاز رہائش یا لاپرواہی نے تو اس حادثہ میں کوئی کردار ادا  نہیں کیا۔