سٹی42: آج جمعہ کے روز بارش سے دہلی میں شہنشاہ ہمایوں کے مقبرہ سے ملحق درگاہ کی عمارت گرنے سے چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔
نظام الدین، دہلی میں مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کے مقبرے سے ملحق درگاہ شریف پتے شاہ کی دیوار اور چھت کا ایک حصہ جمعہ 15 اگست 2025 کو شدید بارش کے دوران گر گیا۔ اس حادثہ میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔
ہمایوں کا مقبرہ یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے لیکن آج گرنے والی عمارت مقبرے کی عمارت سے ملھق ہے لیکن اس کا حصہ نہیں ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ درگاہ کی دریوار اور چھت گرنے سے ہمایوں کے مقبرے کو نقصان نہیں پہنچا۔
ابتدائی اطلاعات میں پانچ لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی ، اور 9 زخمیوں کو ایمز ٹراما سینٹر، لوک نائک (LNJP) اور RML ہسپتال سمیت ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ۔ بعد میں بتایا گیا کہ ایک اور زخمی جاں بحق ہو گیا۔ تاہم، تازہ ترین معلومات سے مرنے والوں کی تعداد چھ (تین مرد اور تین خواتین) ہو گئی۔
ریسکیو کارکنوں نے ملبے سے 10 سے 12 افراد کو بچا لیا۔ ایک شخص بال بال بچ گیا۔ امدادی کارکنوں کا تعلق دہلی فائر سروسز (DFS)، دہلی پولیس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) اور DDMA سے تھا۔ پانچ فائر ٹینڈرز نے تحادثہ کی اطلاع ملنے کے چند منٹوں میں جواب دیا (تقریباً 3:50–3:55 بجے)۔ ملبہ مکمل ہٹائے جانے کے بعد ریسکیو آپریشن کو باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے۔
حکام نے دیوار اور چھت گرنے کی وجہ پرانی عمارت میں شدید بارش اور خستہ حال یا ساختی طور پر کمزور دیواروں کو قرار دیا۔ آغا خان ٹرسٹ فار کلچر، جو ہمایوں کے مقبرے کے ارد گرد بحالی کی کوششوں پر کام کرتا ہے، اس نے بتایا کہ منہدم ڈھانچہ مقبرے کے احاطے کی باؤنڈری وال سے ملحقہ دو منزلہ درگاہ ہے۔ ملبہ کمپلیکس کے اندر گرا تھا لیکن ورثے کی جگہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج (DVR) قبضے میں لے لی ہے اور نگرانوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ اس بات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں کہ آیا غیر مجاز رہائش یا لاپرواہی نے تو اس حادثہ میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
سٹی42: پاکستان کی صف اول کی ایک اور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی اپنے کئی ملین کنزیومرز کو اپنے میٹر کی ریڈنگ خود کرنے کی سہولت فراہم کر دی۔
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے اپنے کئی ملین کنزیومرز کو نئی ایپلی کیشن کے ذریعہ اپنے میٹر کی ریڈنگ خود لینے کی سہولت دے کر اوور رینڈنگ کی شکایات کا مستقل خاتمہ کر دینے کی پہل کر لی ہے۔
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے اوور ریڈنگ کی اصلی اور فرضی، تمام شکایتوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کرنے کے لئے ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ کی سہولت متعارف کروا دی۔ اب فیسکو کے کئی ملین کنزیومر " پاور اسمارٹ" ایپ اپنے موبائل فون پر استعمال کر کے اپنے بجلی کے میٹر سے اپنی ریڈنگ خود کریں گے، وہ فیسکو کو جو ریڈنگ بھیجیں گے، اسی کے مطابق فیسکو ان کا بل بنائے گی۔ اوور ریڈنگ کی اصل اور فرضی شکایات گرمیوں کے مہینوں مین بہت بڑھ جاتی رہی ہیں۔ بعض حساس شہریوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ الیکٹرک کمپنی کے اہلکار بجلی چوری کروا دیتے ہیں اور چوروں کو استعمال کروائی ہوئی بجلی کو بھی عام شہریوں کے بل میں ڈال کر اپنی چوری چھپاتے ہیں۔ بعض شہریوں کو اعتراض تھا کہ کمپنی کے اہلکار اپنے ریکوری اور لائن لاس کے ٹارگٹ پورے کرنے کے لئے ان کی میٹر ریڈنگ میں اپنی ضرورت کے مطابق اضافہ کر لیتے ہیں، بعض شہریوں کو یہ شکایت بھی رہی کہ میٹر ریڈنگ کیلئے مقرر تاریخ کی بجائے میٹر ریڈر کئی دن بعد ریڈنگ کرتے، اور ان کی استعمال کی ہوئی بجلی کی مقدار دو سو یونٹ کی حد سے بڑھوا دیتے رہے۔ اس عمل سے کچھ کنزیومرز کو گمان تھا کہ انہیں جان بوجھ کر پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکال کر اس کیٹیگری میں دھکا دیا جاتا ہے جس کا بل زیادہ آتا ہے۔
بجلی کے صارفین کی تمام شکایتوں اور وہموں کا ازالہ اب نئی ایپلی کیشن کو سسٹم کا حصہ بنا لینے سے ہو گیا ہے کہ اب کنزیومر خود مقررہ تاریخ پر بجلی کےمیٹر کی ریڈنگ کریں گے۔ فیسکو کا کہنا ہے کہ 50 لاکھ سے زائد بجلی صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ کمپنی کو یہ فائدہ ہو گا کہ اس کی مہنگی افرادی قوت کے گھر گھر جا کر میٹر ریڈنگ کرنے کی مشقت میں کمی آئے گی اور اس افرادی قوت کو کمپنی دوسرے کاموں میں استعمال کر سکے گی۔
سٹی42: چھ مئی- دس مئی کے معرکہِ حق کے ھیرو، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ " تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تبدیلی کی افواہوں کو مسترد کردیا
برسلز میں اوورسیز پاکستانیوں کے استقبالیہ کی تقریب کے موقع پر سینیئر صحافی سہیل وڑائچ سے گفتگو کے دوران سوالات کے جواب میں آرمی چیف نے کہا, " تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں، یہ افواہیں پھیلانے والے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف ہیں۔"
فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا کہ خدا نے مجھے اس ملک کا محافظ بنایا ہے، اس کے سوا مجھے کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔
ٹرمپ کو نوبیل پرائز کیلئے نامزد کرنے میں دنیا ہماری پیروی کر رہی ہے
خارجہ پالیسی کے بارے میں سوالات کے جواب میں فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چین اور امریکہ سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا طویل تجربہ ہے، ایک دوست کے لیے دوسرے دوست کو قربان نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدرٹرمپ کی امن کی خواہش جینوئن ہے اسی لیےپاکستان نے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پہل کی ہے، باقی دنیا صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پاکستان کی پیروی کر رہی ہے ۔
افغان حکومت طالبان کو پاکستان میں دھکیلنے کی پالیسی بند کرے
آرمی چیف نے کہا، افغان حکومت طالبان کو پاکستان میں دھکیلنے کی پالیسی بند کرے، ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لینا ہم پر واجب ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ نہ کرے ۔ سپہ سالار نے واضح کیا کہ ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لینا ہم پر واجب ہے۔
پرائم منسٹر شہباز کو خراجِ تحسین
فیلڈ مارشل عاصم منیرنے سوالات کے جواب مین وزیراعظم شہباز شریف کی وطن عزیز کیلئے ان تھک محنت پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف کے خلوص کے ساتھ دن مین 18گھنٹے کام کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے جنگ کے دوران جس عزم کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔
چیف کیلئے اوور سیز پاکستانیوں کا استقبالیہ
آرمی چیف کے اعزاز میں برسلز میں اوور سیز پاکستانیوں کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب میں فیلڈمارشل عاصم منیر کا جنگ کے فاتح کی حیثیت سے فقید المثال استقبال کیا گیا۔
اس تقریب میں دیارِ غیر میں مقیم نمایاں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد شریک تھی۔ سب ہی چھ مئی کی جنگ کے فاتح سے ہاتھ ملانے کے لئے بے تاب تھے۔ فیلڈ مارشل کئی گھنٹے کھڑے رہ کر پاکستانیوں سے ملتے رہے ان کو دیکھنے کے لئے دور دور سے سفر کر کے برسیلز آنے والے پاکستانیوں نے پنے ہیرو کے انکسار کی تعریف کی۔
جب تک تقریب میں شریک آخری پاکستانی آرمی چیف سے ہاتھ ملا کر رخصت نہیں ہوا وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔
سٹی42: پاکستان آرمی کے جوانوں نے سیلاب زدہ عوام کی مدد کے لئے پہل کرتے ہوئے اپنی ایک دن کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ عوام کی مدد کے لئے عطیہ کر دی۔
پاک فوج کے تمام جوان اپنا ایک دن کا راشن اور تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے دے رہے ہیں۔ پاکستان آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کردیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعینات فوج سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی میں بھرپور مدد کرے گی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے وقف کر دی ہے جبکہ پاک فوج نے اپنا ایک دن کا راشن بھی سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لیے مختص کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کا ایک دن کا راش تقریباً 600 ٹن سے زیادہ بنتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیلاب متاثرین کی امدادکے لیے اضافی فوجی دستے بھی بھیجے جارہے ہیں جبکہ آرمی کی خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور آرمی ایوی ایشن پہلے سے ہی متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے تعینات ہیں، پاک فوج مشکل کی ہر گھڑی میں خیبر پختونخوا کے بہادر عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
سٹی42: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مئی کے اواخر سے غزہ میں امداد کی تلاش کے دوران کم از کم 1,760 افراد ہلاک ہوئے۔ جمعہ کو مزید 12 افراد امداد کے حصول کی کوشش کے دوران مارے گئے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ مئی کے اواخر سے غزہ میں امداد کی تلاش میں کم از کم 1,760 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، یہ اگست کے شروع میں شائع ہونے والے آخری اعداد و شمار کے بعد سے کئی سو کا اضافہ ہے۔
"27 مئی سے لے کر اور 13 اگست تک، ہم نے ریکارڈ کیا ہے کہ کم از کم 1,760 فلسطینی امداد مانگتے ہوئے مارے گئے ہیں؛ 994 GHF (غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن) سائٹس کے آس پاس اور 766 سپلائی قافلوں کے راستوں کے ساتھ۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے فلسطینی علاقوں کے لئے دفتر نے ایک بیان میں یہ اعداد و شمار بتائے ہیں۔"
یکم اگست کو اقوام متحدہ کے دفتر نے ایسی اموات کی تعداد 1,373 بتائی تھی جو ۱13 اگست تک سترہ سو ساٹھ ہو گئیں۔
آئی ڈی ایف نے فوجیوں کے لیے خطرہ بننے والے افراد کی جانب فائرنگ کی وارننگ شاٹس کو تسلیم کیا ہے، جبکہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ حماس ان واقعات میں سے ہر ایک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھا رہی ہے۔ اس نے متبادل اعداد و شمار فراہم نہیں کیے ہیں، تاہم، اور صحافیوں کو جانی نقصان اور واقعات کی خود تصدیق کرنے کے لیے آزادانہ طور پر غزہ میں کام کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔
انتباہی گولیاں چلانے والے وہ سپاہی ہیں جو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں جس طرح سے پولیس افسران ہیں اور انہیں غزہ میں کام کرنے کے لیے غیر مہلک ذرائع فراہم نہیں کیے گئے ہیں جب وہ دوسرے جنگی مشنوں کو انجام دے رہے ہیں۔
جب کہ اطلاع دی گئی اموات کی اکثریت GHF سائٹس کے راستے میں ہوئی ہے، پچھلے کئی ہفتوں میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے قافلوں کے قریب ہلاکتوں میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے قافلوں کے ارد گرد جاری افراتفری سے منسلک ہے، جو گوداموں یا ڈسٹری بیوشن سائٹس تک پہنچنے سے پہلے ہی مایوس غزہ کے باشندوں کمیں سے کچھ کوشش کرتے ہیں کہ راہ میں ہی اس امداد کو حاصل کر لیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 90 فیصد اقوام متحدہ کی امداد غزہ بھر میں مطلوبہ مقامات تک نہیں پہنچ رہی ہے۔
تازہ ترین اپ ڈیٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کی حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ جمعہ کو اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 12 افراد بھی شامل ہیں جو انسانی امداد کے منتظر تھے۔
جب اے ایف پی نے تبصرے کے لیے رابطہ کیا تواسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔
سٹی42L وفاقی حکومت پاکستان نے کھیلوں کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی معروف شخصیات کو سول اعزازات دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعزاز ان کھلاڑیوں اور شخصیات کو دیے جائیں گے جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور شاندار کارکردگی سے ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے سابق کپتان شاہد آفریدی سمیت کھیلوں سے منسلک 10 شخصیات کو قومی اعزازات دیے جائیں گے۔
پاکستان ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی، کوہ پیما شہروز کاشف، ملک محمد عطا (مرحوم) گھڑ سوار کو ہلال امتیاز سے نوازا جائے گا جبکہ سابق ویمن کرکٹر ثنا میر اور ڈسکس تھرو میں حیدر علی کو ستارہ امتیاز سے نوازا جائے گا۔
اسکواش میں حمزہ خان، شوٹنگ میں محسن نواز اور ٹینس کے شعبے میں راشد ملک کو تمغہ امتیاز سے نوازا جائے گا۔
اس کے علاوہ شاہ زیب رند کو کراٹے اور محمد سجاد کو کبڈی میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو 23 مارچ 2026 کو یوم پاکستان کے موقع پر اعلیٰ ترین قومی اعزازات سے نوازا جائے گا۔
سٹی42: خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بھاری جانی نقصان کے بعد مرنے والوں کے سوگ میں وفاقی حکومت نے آج 16 اور 17 اگست کو معرکہ حق اور جشنِ آزادی کی طے شدہ تقریبات ملتوی کردیں۔
ایف نائن پارک میں ہونے والا دو روزہ جشن کا پروگرام آج شام ملتوی کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد سے اظہارِ یکجہتی اور ریلیف سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں کی باعث 250 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، کئی اب تک لاپتہ ہیں۔
سٹی42: مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا، گلگت اور آزاد کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ علاقے قرار دینے کی درخواست کی ہے۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نےلکھا کہ بونیر ، سوات ، باجوڑ ، بٹگرام (خیبر پختونخوا )، گلگت اور آزاد کشمیر کے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ ڈیکلئیر کیا جاۓ۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہپہلے ہی غربت اور دہشت گردی کا شکار لوگوں پر نئی آفت ٹوٹ پڑی ہے ۔ کلاؤڈ برسٹ ، آسمانی بجلی ، فلیش فلڈ قیامت ڈھا رہے ہیں ،بڑی آزمائش اور تکلیف کا وقت ہے۔
بونیر ، سوات ، باجوڑ ، بٹگرام (خیبر پختونخواہ )، گلگت اور آزاد کشمیر کے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ ڈیکلئیر کیا جاۓ۔غربت اور دھشت گردی کا شکار لوگوں پر نئی آفت ٹوٹ پڑی ھے ۔۔
کلاؤڈ برسٹ ، آسمانی بجلی ، فلیش فلڈ قیامت ڈھا رھے ھیں ،بڑی آزمائش اور تکلیف کا وقت ھے۔۔
سٹی 42: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی سے متعلق خصوصی ہدایات دیں
آرمی چیف نے کہا کے خیبر پختونخوا میں تعینات فوج سیلاب سے متاثر عوام کی بحالی میں بھرپور مدد کرے گی,اس سلسلے میں اضافی فوجی دستے بھی بھیجے جا رہے ہیں،پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لئے وقف کر دی۔
پاک فوج نے اپنا ایک دن کا راشن جو تقریباً 600 ٹن سے زیادہ بنتا ہے، خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لئے مختص کر دیا، آرمی چیف نے کور آف انجینئرز کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں کے پلوں کی مرمت کا کام جلد مکمل کرے، جہاں ضروری ہے عارضی پل قائم کیے جائیں،آرمی کے نائن یونٹ کے ریسکیو سنیفنگ ڈاگ یونٹ کو بھی سرچ اینڈ ریسکیو کے لئے بھیجا جا رہا ہے، آرمی کی خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی آرمی چیف کی ہدایت پر تعینات کر دی گئی ہے، پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور آرمی آیویشن کو پہلے سے ہی خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لئے تعینات کر دیا گیا ہے،پاک فوج مشکل کی ہر گھڑی میں خیبر پختونخوا کے بہادر عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔
فوج کا ریلیف اور ریسکیو آپریشن
پاک فوج نے سوات میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کیا ہے اور شہریوں اور سکول کے بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
اب تک سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں پاک فوج کے سپاہی کو سکول کے بچے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کے اس جذبے نے پوری قوم کے دل جیت لیے۔
سوات کی شدید سیلابی صورتحال میں پاک فوج کے جوانوں نے بروقت اور دلیرانہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ متاثرہ افراد کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو آپریشن نے ثابت کر دیا کہ پاک فوج کے جوان مشکل حالات میں عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ پاک فوج وطن کے دفاع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات میں بھی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے۔ مشکل وقت میں فوج کے جوانوں نے انسانی خدمت کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں اور فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے جذبے کی بدولت ہزاروں جانیں بچائی گئیں۔
بالاکوٹ میں تین نوجوانوں کو بچا لیا گیا۔
بالاکوٹ میں دو ندی نالوں میں پھنسے تین نوجوانوں کو ریسکیو اہلکاروں نے نکال لیا
پاک فوج کا سوات اور باجوڑ میں سیلابی صورت حال سے متاثرہ اضلاع میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے ، پاک فوج کی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ،آئی جی ایف سی نارتھ کا ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے ، ہیلی کاپٹر میں راشن اور دیگر سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔تمام متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔
سٹی42: خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے حادثات میں اب تک 200 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان سیلابوں کی ہولناک تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی تباہ کن بارشوں اور ان بارشوں سے رات کے وقت آنے والے سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر بہت سے مکان گر گئے یا بہہ ہی گئے، حادثات میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ سینکڑوں سیاح مختلف علاقوں مین پھنس گئے تھے جن مین سے بیشتر کو جمعہ کی رات تک بچا کر محفوظ مقامات پر پنچا دیا گیا ہے۔
صرف بونیر میں ایک سو بیس سے زیادہ افراد جاں بحق جبکہ کئی لاپتا ہو گئے،کلاوڈ برسٹ کے بعد سیلاب کئی گاؤں بہا لے گیا،مکینوں کے آشیانے گرگئے، سیلابی ریلوں میں جانور اور گاڑیاں بھی بہہ گئیں جبکہ بونیر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔
سوات میں بپھرا دریا راستے میں آنے والی ہر چیز تنکوں کی طرح بہا لے گیا، مینگورہ سے گزرنے والی ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، پانی کے ریلے رابطہ پلوں تک پہنچ گئے۔
باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 21 افراد جاں بحق ہوگئے، مانسہرہ کے گاؤں ڈھیری حلیم میں رات گئےکلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلابی ریلے میں بہنے والے 16 افراد کی لاشیں بٹگرام سے نکال لی گئیں، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے جبراڑئی میں گزشتہ رات آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد گھر تباہ ہو گئے، رابطہ سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے۔
باجوڑ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے جانے والا خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، حادثے میں 2 پائلٹس سمیت عملے کے 5 افراد شہید ہوگئے۔صوبائی حکومت نے کل کل صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کردیا۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کاکہنا ہے کہ سالارزئی میں امدادی سامان لےجانے والے کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹر سے خراب موسم کے سبب مہمند کی فضائی حدود میں رابطہ منقطع ہوا، کے پی حکومت کا دوسرا ہیلی کاپٹر بونیر میں ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہے۔
گلگت بلتستان میں سیلابی ریلوں سے مختلف وادیوں میں تباہی مچ گئی، چلاس کے اوچھار نالے میں کئی افراد بہہ گئے ، کئی نے درخت کے تنے کا سہارا لیا۔
بارش کے باعث فصلیں، مکانات، باغات، رابطہ پل اور واٹر چینل تباہ ہوگئے۔ استور میں سیلاب سے تیار فصلیں، دکانیں، درخت اور کئی موٹرسائیکلیں بہہ گئیں، شاہراہِ قراقرم بند ہونے سے گلگت اور راولپنڈی کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
سکردو میں موسلادھار بارشوں سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، سدپارہ ڈیم کا واٹر چینل سیلاب میں بہہ گیا، پاور ہاؤسز بند ہوگئے۔
آزادکشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلے دریا پر بنے 6 رابطہ پل بہا لے گئے، مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ، مظفر آباد میں کلاوڈ برسٹ سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت8 جاں بحق ہوئے۔
رتی گلی جانے والی سڑک مختلف مقامات پر بہنے سے بیس کیمپ میں پھنسے 800 سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کشمیر کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ کوہالہ اور شاہراہ نیلم بھی متعدد مقامات پر بند، سری نگر مظفرآباد سیکشن متعدد مقامات اور لیپہ مظفرآباد شاہراہ مٹی کی تودے گرنے سے بند ہوگئی۔
آزاد کشمیر حکومت نے شدید بارشوں کے باعث دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔
سٹی42: آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ، 700 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
طوفانی بارشوں سے 800 کے قریب سیاح نیلم کے علاقے رتی گلی میں پھنس گئے تھے ، وزیر اعظم آزاد کشمیر کی ہدایت پر صبح 7 بجے شروع آپریشن دوپہر 3:30 بجے ختم ہوا ۔
98 گاڑیوں اور 700 سے زائد سیاحوں کو رتی گلی سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، پانچویں کلومیٹر پر ڈیڑھ کلومیٹر سڑک بہہ جانے کے باوجود آپریشن جاری رکھا گیا،سیاحوں کو پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے جب بھی سے مین روڈ تک پہنچایا گیا۔
ریسکیو آپریشن میں پاک آرمی ، ایس ڈی ایم اے ، ریسکیو 1122، ٹوریسٹ و ٹریفک پولیس اور مقامی لوگوں نے حصہ لیا ، حکومت آزادکشمیر کی طرف سے پھنسے ہوئے تمام سیاحوں کے لئے رہائش اور کھانے پینے کا اہتمام بھی کیا گیا ۔
ایس ڈی ایم اے کے مطابق تمام سیاحوں کو ریسکیو کر دیا گیا ہے ، شام سے انہیں دواریاں پہنچا دیا جاۓ گا ، وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق رات بھر خود ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرتے رہے ۔
2 زخمی سیاحوں کو فوری طبّی امداد دی گئی ،سیاحوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔
سٹی42: ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں nنے خیبر پختونخوا پولیس پر ایک اور بزدلانہ وار کر دیا۔ پولیس نے بھرپور انداز میں فوری جواب دیا۔ پولیس کے جوانوں کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشتگرد ہلاک ہو گیا اور 3 زخمی ہو گئے۔
آج جمعہ کی شام موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ کولاچی میں دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک دہشتگرد ہلاک اور 3 زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ ایس ایچ او کلاچی بھی دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان ایلیٹ فورس اور RRF کے ساتھ پولیس فورس کی دیگر پولیس ٹیموں کو لے کر موقع پر پہنچ گئے ۔پولیس نے قریبی جنگلات کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا ۔
سٹی42: مظفر آباد میں آزاد کشمیر کی حکومت نے کمشیر میں بارشوں کے بعد ہنگامی صورتحال کے باعث دریاؤں کے قریب آبادی کو جانی نقصان سے بچانے کے لئے ہنگامی فیصلہ کر لیا۔
مظفر آباد میں آذاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم انوار الحق کی زیرِ صدارت ایس ڈی ایم اے کنٹرول روم میں ہنگامی اجلاس ہوا۔
آج کے اجلاس میں دریاؤں کے قریب 35 فٹ کے دائرے میں آبادی کی فوری منتقلی کا ہنگامی فیصلہ کیا گیا۔
بھارت کی آبی جارحیت پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت
وزیر اعظم نے حالیہ بارشوں سے متاثرہ شہریوں کو معاوضے کی فوری ادائیگی اور ممکنہ فلیش فلڈ اور اس کے ساتھ ہی "بھارت کی آبی جارحیت" کے خدشے پر مانیٹرنگ سخت کرنے کی ہدایت دی۔
وزیراعظم انوار الحق نے حکم دیا کہ ہٹیاں شہر میں دریائے جہلم کے بڑھتے پانی سے قریبی آبادیوں کو لاحق خطرات کے تدارک کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مکانات گرنے سے متاثرہ شہریوں کے لئے عارضی رہائش کا فوری بندوبست
اجلاس میں فلیش فلڈ سے گرنے والے مکانات کے مکینوں کو عارضی رہائش دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔
ہ وزیر اعظم جموں و کشمیر نے ضلعی انتظامیہ کو 24 گھنٹے میں معاوضے کے چیک متاثرین کو دینے کی ہدایت بھی کی۔
بجلی کی ترسیل کے نظام کے نقصانات
وزیراعظم نے جہلم نیلم اور باغ میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو ہونے والے نقصانات کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے سیکرٹری برقیات سے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ مظفر آباد میں واٹر ریسورسز کی مانیٹرنگ کیلیے ایمرجنسی چیک پوسٹ قائم کی جائے۔
وادیِ نیلم میں پھنسے سیاحوں کا ریسکیو اور دیگر ضروری اقدامات
اجلاس میں شہری صحت کے تحفظ کیلیے مؤثر ہیلتھ کمپین چلانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ انوار الحق نے دریاؤں کے گرد تجاوزات کے خاتمے کیلیے آپریشن کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم نے وادیِ نیلم میں پھنسے سیاحوں کی امداد اور منقطع علاقوں میں سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں شہریوں کو پانی ابال کر پینے اور ذخائر کے تحفظ کیلیے آگاہی مہم اور قدرتی چشموں کی فوری واٹر ٹیسٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سٹی42: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے علاقوں، بونیر، بٹگرام اور دوسرے متاثرہ علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تباہ کن بارش سے ہونے والے نقصانات پر گہرے تاسف کا اظہار کیا اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا حکم دے دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ضلع بٹگرام میں بادل پھٹنے سے ہلاکتوں اور سیلابی صورتحال کے بعد متعلقہ حکام کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں بارش اور سیلاب سے جانی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے یہ نقصان برداشت کرنے کی طاقت کی دعا کی۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے وفاقی اداروں کو صوبہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مقامی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور ہر طرح کی مدد فی الفور فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
سٹی42: خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تباہ کن بارشوں سے آنے والے سیلابوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں روح فرسا اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق بونیر ضلع میں سیلاب کے کئی واقعات میں اب تک مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 120 ہو گئی ہے۔
بونیر کا کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈ انٹرنیشنل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی مقامی شہری سیلاب اور حادثات کے متعلق مسلسل تازہ ترین صورتحال کے متعلق اطلاعات پوسٹ کر رہے ہیں۔
سٹی42: جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے اب تک خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور پنجاب میں بارشوں، سیلابی ریلوں اور بارش سے متعلق حادثات میں چوبیس گھنٹوں میں 164 جاں بحق ہو چکے ہیں۔ : این ڈی ایم اے نے سیلاب کے نقصانات پر اپ ڈیٹ جاری کر دیا۔
مون سون بارشوںکے ساتویں سپیل کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔
این ڈی ایم اے نے 24 گھنٹے کے دوران مزید 164 افراد جاں بحق، 23 زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 24 گھنٹے میں خیبر پختونخوا میں 150 اموات ہو چکی ہیں۔
آزاد کشمیر میں 9، گلگت بلتستان میں 5 افراد بارش کے بعد سیلابی ریلوں کی نذر ہو کر موت کے منہ میں چلےگئے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ 26 جون سے اب تک مون سون کے دوران مجموعی طور پر 477 افراد جاں بحق ہوئے۔
سٹی42: خیبرپختونخوا میں خوفناک بارشوں، سیلابی ریلوں اور برفانی گلیشئیرز کی جھیل پھٹنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 146 ہو گئی۔ کشمیر اور جی بی میں ہونے والی بارش اور سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان کو ملا کر مجموعی اموات ڈیڑھ سو سے زیادہ ہو چکی ہیں صرف بونیر میں 78 جاں بحق ہو چکے ہیں جہاں کئی علاقوں مین تباہ کن بارش کے ساتھ نالوں میں سیلابی ریلے آئے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ہوئے۔
آزاد جموں و کشمیر میں سات، گلگت بلتستان اور پنجاب میں دو دو: افراد جاں بحق ہوئے دریائے سندھ چلاس میں اپنے کنارے سے باہر نکل کر بہہ رہا ہے۔ وادیِ نیلم میں پل، گیسٹ ہاؤسز بہہ گئے: وادیِ نیلم میں 500 سیاحوں کے ساتھ آزاد جموں کے وزیر بھی راستہ بند ہونے کے سبب پھنس گئے: وزیر اعظم شہباز ن شریف نے کلاؤڈ برسٹ سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا حکم دے دیا۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بالائی علاقوں میں بادل پھٹنے جیسی شدید بارش اور برفانی جھیل کے پھٹنے کے واقعات نے خیبرپختونخوا میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور اچانک سیلاب کو جنم دیا، جس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 150 افراد ہلاک ہوئے۔
صوبے کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، 146 اموات ہوئیں، جن میں 124 مرد، 10 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں، پہاڑی خیبر پختونخواہ کے پانچ اضلاع میں ریکارڈ کیے گئے۔
صرف بونیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے 78 افراد لقمہ اجل بن گئے، باجوڑ میں بادل پھٹنے سے کئی گھر بہہ گئے، لینڈ سلائیڈنگ میں 21 افراد جاں بحق اور 6 لاپتہ، مانسہرہ میں سیلابی ریلے سے 14 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، بٹگرام لوئر دیر میں فیڈوگرام میں 15 اور شانگلہ میں چھت گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 40 سے زائد مکانات اور اسکولوں کو نقصان پہنچا۔
Caption گلگت بلتستان کے ایک متاثرہ علاقہ مین عوام بارش کی آفت سے نجات کے لئے اپنے عقیدہ کے مطابق اذانیں دے کر بارشیں رکنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔
علاقائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر میں مزید 7 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ گلگت بلتستان میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔
محکمہ موسمیات نے شمال مغرب کے لیے شدید بارش کا الرٹ بھی جاری کیا ہے، لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ "خطرناک علاقوں میں غیر ضروری نمائش سے گریز کریں"۔
مون سون کا سالانہ موسم جنوبی ایشیا میں تقریباً تین چوتھائی بارش لاتا ہے، جو زراعت اور خوراک کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے، لیکن یہ تباہی بھی لاتا ہے۔
موسم گرما کے مون سون کے آغاز سے ہی پاکستان میں ہونے والی طوفانی بارشوں، جسے حکام نے "غیر معمولی" قرار دیا ہے، میں 320 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں۔
زیادہ تر اموات مکانات کے گرنے، سیلابی ریلے اور بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہوئیں۔
جولائی میں، پنجاب، جو پاکستان کی 255 ملین آبادی میں سے تقریباً نصف پر مشتمل ہے، میں پچھلے سال کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں اور پچھلے مانسون کے مقابلے میں زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
مون سون کے موسم میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب عام ہیں، جو عام طور پر جون میں شروع ہوتے ہیں اور ستمبر کے آخر تک کم ہو جاتے ہیں۔ لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے دنیا بھر میں موسمی واقعات کو زیادہ شدید اور بار بار بنا دیا ہے۔
2022 میں مون سون کے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا تھا اور 1,700 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس کے 255 ملین باشندوں کو بڑھتی ہوئی تعدد کے ساتھ انتہائی موسمی واقعات کا سامنا ہے۔
باجوڑ میں بادل پھٹنے سے 21 افراد جاں بحق
ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے 21 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے جبکہ 4 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق ملبے کے نیچے سے لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد کئی سڑکیں بھی بند ہوگئیں۔
مقامی باشندوں نے بتایا کہ اس خوفناک واقعے کے بعد بھی 11 افراد لاپتہ ہیں۔
لوئر دیر میں پانچ افراد جاں بحق
لوئر دیر میں جمعرات کو شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق جب کہ 4 زخمی ہوگئے۔
واقعے کے فوری بعد ریسکیو 1122 اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ملازمین جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور لاشوں اور زخمیوں کو ملبے کے نیچے سے نکالا۔
مانسہرہ میں 14 روز کی چھت گرنے سے کار حادثہ
مانسہرہ کے علاقے بٹل کے گاؤں ڈھیری حلیم میں بادل پھٹنے سے 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس نے بتایا کہ اب تک نو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں چھ مرد، دو خواتین اور ایک چھوٹی بچی شامل ہے۔
درجنوں مکانات تباہ اور بڑی تعداد میں مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے۔
مانسہرہ کے علاقے گڑھی حبیب اللہ کے علاقے خیر آباد میں مکان کی چھت گرنے سے خاتون اور اس کی بیٹی جاں بحق ہوگئیں۔
آخری اطلاعات آنے تک ریسکیو آپریشن جاری تھا۔
دریں اثناء مانسہرہ میں بالاکوٹ کے قریب بسیاں کے مقام پر دو افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے۔
گاڑی میں چھ افراد بیٹھے تھے جب ان پر یہ آفت آئی۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے چار افراد کی جان بچائی۔
واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں 30 سالہ میر حمزہ اور 25 سالہ اسد شامل ہیں۔
جی بی کی برفانی جھیلیں پھٹ گئیں
گلگت بلتستان میں کئی برفانی جھیلیں پھٹنے سے متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
غدر میں ندی نالوں میں بہہ کر خاتون سمیت پانچ افراد بہہ گئے۔ گوپس خیلٹی میں سات افراد لاپتہ ہوگئے جبکہ دو کی لاشیں نکال لی گئیں۔
دریائے سندھ اپنے بیڈ سے باہر بہہ رہا ہے۔
چلاس میں دریائے سندھ کے کنارے پھٹنے سے چھ سے آٹھ مکانات پانی میں ڈوب گئے جب کہ مزید درجنوں مکانات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
علاقہ مکینوں نے اپنے طور پر پشتے بنائے کیونکہ حکام کی طرف سے کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں آیا۔
متاثرہ افراد نے حکومت سے اپیل کی کہ انہیں امدادی اشیاء فراہم کی جائیں اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
اے جے کے کلاؤڈ برسٹ
بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ نصیر آباد میں چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
سیلابی پانی سے درجنوں مکانات، پل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں۔
نیلم میں پل، گیسٹ ہاؤس بہہ گئے۔
آزاد جموں و کشمیر کی وادی نیلم میں بادل پھٹنے سے تین پل اور دو گیسٹ ہاؤس بہہ گئے۔
دریائے نیلم اور نالہ جاگراں میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہے۔
رتی گلی نالہ زمین میں بہہ گیا۔
پانی نے دو کلومیٹر سڑک کو بھی نقصان پہنچایا۔
آزاد جموں و کشمیر کے وزیر سمیت 500 نیلم میں پھنسے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، سڑک کے رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے، 500 افراد، جن میں زیادہ تر سیاح ہیں، بشمول آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اطلاعات، بیس کیمپ میں پھنس گئے۔
ریسکیو 1122 کے ملازمین 60 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
سٹی42: پشاور میں ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ دریائے سوات کے سیلابی ریلے میں پھنسے 12 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
دریائے سوات میں چارسدہ کے علاقے منڈا کے مقام پر کچھ لوگ سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے اور انہوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لے رکھی تھی تاہم ریسکیو حکام نے انہیں بروقت محفوظ طریقے سے ریسکیو کرلیا۔
دوسری جانب پاک فوج کا سوات اورباجوڑ میں سیلاب متاثرہ اضلاع میں ریلیف آپریشن جاری ہے ، پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔
باجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے جب کہ راشن اور ادویات فراہمی بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر کی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جبراڑئی کے علاقے میں گزشتہ رات آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد گھر تباہ ہو گئے، رابطہ سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے تھے۔
سٹی42: خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں ناگہاں بارشوں نے تباہی مچا دی تو پاکستان آرمی کے جوان فوری طور پر مصیبت زدہ عوام کی مدد کے لئے نکل پڑے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بادلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر انتہائی مختصر وقت میں 146 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور متعدد لاپتا ہو گئے۔
کئی مکانات منہدم ہوگئے اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ اص صورتحال مین مقامی انتظامیہ نے فوج کو مدد کے لئے طلب کیا، فوج کے جوانوں نے خیبر پختونخوا کے متعدد متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا اور بہت سے شہریوں کو نقصانات سے بچانے مین اپنا کردار ادا کیا۔
سوات اور باجوڑ میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن سوات اور باجوڑ سمیت سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جہاں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ باجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو بروقت بچایا جا سکے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں راشن اور ادویات کی فراہمی بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے یقینی بنائی جا رہی ہے۔ امدادی ٹیموں کی آمد پر مقامی آبادی نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کیے، جبکہ اہلِ علاقہ نے مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج کے بروقت اقدام کو سراہا۔
پاک فوج کا سوات اور باجوڑ میں سیلابی صورت حال سے متاثرہ اضلاع میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ باجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے جبکہ راشن اور ادویات کی فراہمی بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر کی جا رہی ہے۔
پاک فوج کی ٹیموں کے آتے ہی پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کیے گئے۔ تمام سیلاب زدگان کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔
محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
سٹی42: آزاد کشمیر میں حکومت نے بارشوں اور سیلاب کے سبب تمام تعلیمی ادارے فوری طور پر بند کر دیئے ہیں۔
آزاد کشمیر میں آج خوفناک بارش کے نتیجہ مین مقامی پہاڑی نالوں مین بہت زیادہ پانی اچانک آ گیا، سیلابی پانی کے ریلوں کی زد مینں آ کر ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔
حکومت نے شدید بارشوں کے باعث دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔
موسلادھار بارشوں کے باعث گلگت بلتستان میں بھی سنگین حادثات ہوئے۔ اب تک اطلاعات کے مطابق بارش سے متعلق حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔
سٹی42: پختونخوا میں سیلاب نے تباہی مچا دی، 4 اضلاع آفت زدہ قرار، 110 سے زائد جاں بحق، بونیر میں اچانک آنے والے سیلاب سے 75 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں اب تک 110 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے جبراڑئی میں گزشتہ رات آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد گھر تباہ ہو گئے، رابطہ سڑکیں اور پل پانی میں بہہ گئے۔
حکام کے مطابق مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 7 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ تین زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
بٹگرام میں کلاؤڈ برسٹ
مانسہرہ میں بھی کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں سے تباہی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ضلع مانسہرہ کے علاقے بٹگرام میں رات گئےکلاؤڈ برسٹ سے متعدد افراد ریلے میں بہہ گئے۔ بٹگرام میں 7 افراد جاں بحق اور شانگلہ میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔
علاقے میں کئی مکانات تباہ اور بڑی تعداد میں مال مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔
پختونخوا میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات
پروونشل ڈیزاسٹر مینجنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے صوبے میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے تصدیق کی ہے کہ کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے خیبرپختونخوا میں اموات کی تعداد 110 سے زیادہ ہوگئی ہے، سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا۔
بونیر کے12 سے زیادہ دیہات کلاؤڈ برسٹ جیسی تباہ کن بارش سے متاثر ہوئے، بارش اور اس کے بعد فلیش فلڈ کے باعث 60 سے زائد افراد سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر حادثات میں زخمی ہوئے۔
بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام آفت زدہ
بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ اضلاع قراردے دیا گیا ہے، متاثرہ اضلاع میں ریسکیو ٹیموں کی تعداد میں مذید اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، امدادی سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو رہاہے۔
بونیر میں 75 افراد جاں بحق ہوئے، عورتوں، بچوں کی اکثریت
میڈیکل آفیسر پیر بابا اسپتال بونیر ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ پیر بابا اور گردونواح میں اب تک 43 لاشیں لائی جا چکی ہیں، ان مرنے والوں میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔
ادھر ڈپٹی کمشنر بونیر نے تصدیق کی ہے کہ طوفانی بارشوں اور آبی ریلوں سے 75 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 56 افراد کی لاشیں اسپتال پہنچائی جا چکی ہیں۔
ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ بونیر میں سیلاب میں بہہ کر متعدد افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے، میں 12 کے قریب دیہات کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کے باعث زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی 18 افراد جاں بحق آزاد کشمیر میں بھی کلاؤ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی بارش کے بعد مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔
آزاد کشمیر حکومت نے شدید بارشوں کے باعث دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں۔