سٹی42: چھ مئی- دس مئی کے معرکہِ حق کے ھیرو، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ " تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تبدیلی کی افواہوں کو مسترد کردیا
برسلز میں اوورسیز پاکستانیوں کے استقبالیہ کی تقریب کے موقع پر سینیئر صحافی سہیل وڑائچ سے گفتگو کے دوران سوالات کے جواب میں آرمی چیف نے کہا, " تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں، یہ افواہیں پھیلانے والے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف ہیں۔"
فیلڈ مارشل عاصم منیر نےکہا کہ خدا نے مجھے اس ملک کا محافظ بنایا ہے، اس کے سوا مجھے کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔
ٹرمپ کو نوبیل پرائز کیلئے نامزد کرنے میں دنیا ہماری پیروی کر رہی ہے
خارجہ پالیسی کے بارے میں سوالات کے جواب میں فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چین اور امریکہ سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا طویل تجربہ ہے، ایک دوست کے لیے دوسرے دوست کو قربان نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدرٹرمپ کی امن کی خواہش جینوئن ہے اسی لیےپاکستان نے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پہل کی ہے، باقی دنیا صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پاکستان کی پیروی کر رہی ہے ۔
افغان حکومت طالبان کو پاکستان میں دھکیلنے کی پالیسی بند کرے
آرمی چیف نے کہا، افغان حکومت طالبان کو پاکستان میں دھکیلنے کی پالیسی بند کرے، ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لینا ہم پر واجب ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ نہ کرے ۔ سپہ سالار نے واضح کیا کہ ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لینا ہم پر واجب ہے۔
پرائم منسٹر شہباز کو خراجِ تحسین
فیلڈ مارشل عاصم منیرنے سوالات کے جواب مین وزیراعظم شہباز شریف کی وطن عزیز کیلئے ان تھک محنت پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف کے خلوص کے ساتھ دن مین 18گھنٹے کام کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے جنگ کے دوران جس عزم کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔
چیف کیلئے اوور سیز پاکستانیوں کا استقبالیہ
آرمی چیف کے اعزاز میں برسلز میں اوور سیز پاکستانیوں کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب میں فیلڈمارشل عاصم منیر کا جنگ کے فاتح کی حیثیت سے فقید المثال استقبال کیا گیا۔
اس تقریب میں دیارِ غیر میں مقیم نمایاں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد شریک تھی۔ سب ہی چھ مئی کی جنگ کے فاتح سے ہاتھ ملانے کے لئے بے تاب تھے۔ فیلڈ مارشل کئی گھنٹے کھڑے رہ کر پاکستانیوں سے ملتے رہے
ان کو دیکھنے کے لئے دور دور سے سفر کر کے برسیلز آنے والے پاکستانیوں نے پنے ہیرو کے انکسار کی تعریف کی۔
جب تک تقریب میں شریک آخری پاکستانی آرمی چیف سے ہاتھ ملا کر رخصت نہیں ہوا وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔