ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دنیا بھر میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں، پاکستان بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے

دنیا بھر میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں، پاکستان بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بچوں کو سوشل میڈیا کے نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لیے دنیا کے کئی ممالک نے کم عمر صارفین کے خلاف سخت اقدامات شروع کردیئے، آسٹریلیا کے بعد متعدد ممالک نے 15 یا 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی یا عمر کی حد مقرر کرنے کی تیاری کرلی۔

 آسٹریلیا دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا، جہاں ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب سمیت بڑے پلیٹ فارمز کو کم عمر صارفین کو روکنے کا پابند کیا گیا۔

برطانیہ بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لانے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی رواں سال 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے پر پابندی کی منظوری دی ہے، جس کے بعد وہ ایسا اقدام کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا۔

چین میں بچوں کے لیے ’’مائنر موڈ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت عمر کے حساب سے اسکرین ٹائم اور مختلف ایپس کے استعمال پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جبکہ فرانس، اسپین، سویڈن، ناروے، پولینڈ، سلووینیا اور دیگر یورپی ممالک میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے مختلف تجاویز اور قوانین زیرِ غور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ عمر کی پابندیاں مؤثر نہیں، کیونکہ بڑی تعداد میں کم عمر بچے اب بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر رہے ہیں۔

امریکا میں بھی بچوں کو آن لائن نقصان سے بچانے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کی ذمہ داریاں بڑھانے سے متعلق قانون سازی پر کام جاری ہے۔

دنیا بھر میں بڑھتے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں کا سوشل میڈیا استعمال اب صرف والدین کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ حکومتیں بھی اسے بچوں کی حفاظت، ذہنی صحت اور آن لائن سکیورٹی کے بڑے معاملے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔